تفسیر قرآن
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 3 + ویڈیو
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 2
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 1
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دوسری قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنیاسرائیل پر اثر نہ کر سکیں
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
پہلی قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنیاسرائیل پر اثر نہ کر سکیں
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ پنجم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ چہارم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
امریکہ کے پاس اللہ کا یہ وعدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں
عالمی طاقتیں قائدین بدلنے اور حکومتیں گرانے کے عادی ہیں، لیکن ایران مختلف ہے۔ یہاں دشمن کے تمام حملے ناکام ہوئے ہیں اور دشمن کو جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی ہے۔ بحری قزاقیاں، عہد شکنیاں، پابندیاں، قتل و دہشت گردیاں سب ناکام رہی ہیں۔ آج امریکہ کے پاس اللہ کے وعدے کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چآرہ کار نہیں ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیجئے + تیسرے پارے کی تلاوت
قرآن ایک ایسے لین دین کی بات کرتا ہے جس میں 'عطا کرنا' کا مطلب 'کم ہونا' نہیں ہے، بلکہ برکت اور اضافہ ہے. وحی کی منطق میں، ایک دانے کو سات سو گنا بڑھایا جا سکتا ہے، اور سرمایہ الہی نظام میں خرچ کرنے سے، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
جو لوگ خدا کو نہیں مانتے، وہ اس تحریر کو ضرور پڑھیں
سورہ نور کی آیت 44 سے 53 تک کی آیات مؤمنوں سے خطاب سے پہلے، ان لوگوں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں جو خدا کے وجود کے بنیادی تصور کا انکار کرتے ہیں؛ یہ آیات شب و روز بلا وقفہ نظم و ترتیب اور تخلیق کے اسرار و رموز سے شروع ہوتی ہیں اور قدم بہ قدم یہ دکھاتی ہیں کہ مسئلہ صرف 'نشانیاں نہ دیکھنا' نہیں ہے، بلکہ 'فیصلہ اور قانون قبول کرنے سے گریز و انکار ہے۔
-
سیدہ زہرا(س) - حصہ ہفتم؛
ویڈیو | سیدہ فاطمہ زہرا(س) کوثر کا مظہر اور استمرارِ ولایت کا محور
منقولہ روایات اور تفاسیر قرآن کے مطابق، سیدہ زہرا(س) "لیلۃ القدر" کے مصداق کے عنوان سے، نزولِ ولایتِ الٰہیہ کا ظرف اور ائمۂ معصومین(ع) کے ظہور کا سرچشمہ ہیں۔ آپۜ حقائقِ الٰہیہ کا مظہر کامل اور بنی نوع انسان کے لئے اللہ کے فیض کا واسطہ ہیں۔
-
علامہ سید محمد حسین طباطبائی؛
وہ فلسفی جس نے انقلابی مفکرین کی نسل تشکیل دی
علامہ سید محمد حسین طباطبائی ایک پُر سکون اور فکر میں ڈوبے ہوئے انسان تھے؛ لیکن اپنی اسی خلوت میں انھوں نے ایسا کام کیا جو ہزاروں ریلیوں اور جلسے جلوسوں سے زیادہ مؤثر تھا: انھوں نے انقلاب کے فکری رہنماؤں کو پروان چڑھایا۔