بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || صلح میں سماجی اور اقتصادی تعلقات قائم ہوتے ہیں، لیکن جنگ بندی میں صرف حد بندیوں اور سرحدوں کا تعین ہوتا ہے جو حملے سے محفوظ ہوں اور جنگ بندی میں اولین ترجیح دشمنوں کی زیادتیوں کے خلاف مسلمان افراد اور مسلم معاشرے کا تحفظ ہوتا ہے، نہ کہ فریقین کے درمیان سماجی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنا۔ جنگ بندی میدان جنگ کی ایک حکمت عملی ہے جبکہ صلح باہمی اصلاح، بقائے باہمی، سلامتی، ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کی دوستی اور ولایت قبول کرنے سے تعلق رکھتی ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد ہے:
"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ" (سورہ حجرات، آیت 10)
بے شک مؤمنین بھائی بھائی ہیں، تو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دو۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کا اصول قائم ہے، لہٰذا اصلاح اور صلح بھائی چارے کو مضبوط کرتی ہے۔ اگر بھائیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے، تو یہ امرِ خدا سے دوری کی وجہ سے ہوتا ہے اور اصلاح سے مراد وہ اقدامات ہیں جو خدا کے حکم کی طرف واپس لوٹنے کا باعث بنیں۔
ظاہر ہے کہ مؤمنین اور خدا کے دشمنوں کے درمیان ہمیشہ دشمنی، عداوت اور بغض قائم ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں قرآنی اصول جہاد اور قتال ہے اور اگر کوئی معاہدہ ہو بھی تو وہ معاہدہ مؤمنانہ موقف کے واضح اعلان اور حد بندیوں کے تعین کے ساتھ جنگ بندی اور خونریزی کے خاتمے کا خواہاں ہوتا ہے۔ یہ جنگ بندی دشمنوں کے مقابلے میں پیش قدمی کی حکمت عملی کے طور پر اختیار کی جاتی ہے۔ اس لئے میثاق حدیبیہ صلح نہیں بلکہ جنگ بندی ہے۔
کیا جنگ بندی کا مطلب شکست ہی ہے؟
جنگ بندی کے بارے میں دو مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں؛ پہلا نظریہ جنگ بندی کو شکست اور مایوسی کی علامت سمجھتا ہے اور دوسرا جنگ بندی کو فتح اور کامیابی کی علامت سمجھتا ہے۔
قرآن کریم کی سورہ فتح کی پہلی آیت میں خدائے متعال کا ارشاد ہے: "إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا؛ بے شک ہم نے آپ کو کھلم کھلا فتح عطا کی"۔
اس آیت میں "فتح مبین" کا بیان میثاق حدیبیہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ "مبین" خاص معنی رکھتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ میثاق حدیبیہ ایک خاص فتح ہے۔ فتح مبین وہ ہے جس میں جنگ کا اتا پتا نہیں ہوتا؛ لیکن یہ ایک واضح، خاص اور روشن فتح ہوتی ہے۔
یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ فتح اور کامیابی کا لازمی مطلب علاقے پر قبضہ یا دشمن کی مکمل شکست نہیں ہے، بلکہ یہ جنگ بندی کی شکل میں بھی حاصل ہو سکتی ہے اور مسلم معاشرے کے لئے طاقت کی بحالی اور اندرونی طاقت بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کر سکتی ہے۔ اس دور میں، حدیبیہ میں مؤمنین کا ان لوگوں کے ساتھ برتاؤ ـ جو مسلمانوں سے لڑائی پر تلے ہوئے تھے، ـ موقف اور اصولوں کی پاسداری اور خدا اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی اطاعت کے ساتھ، اس امر کا باعث بنا کہ وہ اگرچہ ابتدا میں جنگ کے ارادے سے مدینہ سے نہیں نکلے تھے، لیکن بیعت رضوان میں، انہوں نے مکہ کے مشرکوں کے مقابلے میں اپنی ثابت قدمی اور استقامت دکھائی اور ان سے جہاد کے لئے تیار ہو گئے۔
مسلمانوں کی متحد اور مضبوط صفوں کی تشکیل اور جنگ کے لئے تیاری اور مشرکوں کا انہیں دیکھنا، اسلام دشمنوں کے دلوں میں رعب اور دہشت کا سبب ہؤا؛ اور اسی وجہ سے جنگ بندی کی درخواست مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ مشرکینِ مکہ کی طرف سے پیش کی گئی! رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی سنت کے مطابق، مسلمانوں کے لئے مناسب ہے کہ وہ ہمیشہ معاشرے کے قائد کے گرد متحدہ صفوں میں اسلام دشمنوں کی نگاہوں کے سامنے صف آراء ہوں اور قتال کے لئے اپنے پختہ عزم کا اظہار کریں اور جنگ کو ایک طے شدہ مسئلہ سمجھیں۔
میثاق حدیبیہ، ایک تاریخی واقعے سے ہٹ کر، سیرت نبویؐ کی روشنی میں ایک بنیادی نمونہ اور سیاسی، عسکری اور سماجی میدانوں میں سبق حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ واقعہ واضح طور پر بیان و عیاں کرتا ہے کہ دشمنوں کے سامنے استقامت اور اس پر دباؤ برقرار رکھنے کا نتیجہ، ـ یہاں تک کہ اگر ان سے جنگ و جدال کی نوبت آئے، ـ ان کے دلوں میں رعب اور دہشت کی صورت میں، برآمد ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان ہوتا ہے اور مسلمان اصولوں اور اسلام کی بنیادوں اور موقف کو برقرار رکھتے ہوئے "جنگ بندی" سے ایک عارضی اور ٹاکتیکی معاہدے کے طور پر تصادم روکنے کے لئے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
قرآن کریم نے اس معاہدے کو "فتح مبین" سے تعبیر کرکے ہمیں سکھایا ہے کہ کامیابی صرف میدان جنگ میں حاصل نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی یہ ایک دانشمندانہ اور بظاہر مشکل معاہدے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو اندرونی بنیادوں کی تقویت، امت کی پوزیشن کے استحکام اور مستقبل کی کامیابیوں کا پیش خیمہ بنتی ہے۔
واقعہ حدیبیہ کا بنیادی درس یہ ہے کہ مؤمنین اپنے اصولوں اور موقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے ناقابلِ تسخیر حد بندیوں کا اعلان برقرار رکھتے ہیں اور قرآن کریم کی اصطلاح میں، دشمن کے سامنے اظہارِ برائت کرتے ہوئے، حکمت اور تدبر سے کام لے کر "جنگ بندی" کے مواقع سے طویل مدتی استقامت، طاقت میں اضافے اور بڑے اہداف کے بتدریج حصول کے لئے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور انہیں ایسا کرنا بھی چاہئے۔
اسی لئے، اس واقعے کا ازسرِنو جائزہ نہ صرف تاریخ اسلام کی زیادہ بہتر تفہیم کے لئے، بلکہ موجودہ دور میں بین الاقوامی تعلقات کو منظم کرنے اور تنازعات کے انتظام کے لئے بھی ضروری اور راہنما اصول اور مشعل راہ ہے۔ مشرکینِ مکہ نے حدیبیہ کی جنگ بندی اس وقت قبول کی جب بیعت رضوان میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے گرد مسلمانوں کا اتحاد اور یکجہتی ان پر ظاہر ہوئی۔ انہوں نے دیکھا کہ مؤمنین جنگ کے لئے سنجیدہ اور مقابلے کے لئے تیار ہیں اور وہ شہادت سے نہیں ڈرتے؛ اور اس حقیقت نے انہیں مرعوب کیا اور ان کے دلوں پر دہشت طاری کر دی۔ اس جنگ بندی کے نتیجے میں مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان کوئی محبت کا رشتہ یا اقتصادی تعلق قائم نہیں ہؤا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ