31 جنوری 2026 - 02:21
دنیا تعطل سے دوچار؛ انسانی ساختہ حکمت عملیاں مؤثر نہیں ہیں

جس دنیا میں انسان اپنی صلاحیتوں کا بھروسہ کئے بیٹھا ہے، بہت سارے بحرانوں کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب بھی رہا ہے، بند گلیاں یکے بعد دیگرے سامنے نمایاں ہو رہی ہیں۔ قرآن کریم سورہ نمل میں بنیادی سوال اٹھا کر انسان کی نظروں کو بنی نوع انسان کی محدود حکمت عملیوں سے پلٹا دیتا ہے اور ایک بھولی بسری حقیقت کی طرف متوجہ کرواتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورہ نمل کی 64 تا 76 قرآن کریم کے ایک گہری استدلالی بحث کا حصہ ہیں جو انسان کو عادتوں اور تقلیدی عقیدوں سے الگ کرتی ہے اور بنیادی سوالات کے میدان میں لے جاتی ہے۔

دنیا تعطل سے دوچار؛ انسانی ساختہ حکمت عملیاں مؤثر نہیں ہیں

سورہ نمل آیات 64 تا 76:

"أَمَّنْ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَمَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَئِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ * قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ * بَلِ ادَّارَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْآَخِرَةِ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِنْهَا عَمُونَ * وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَئِذَا كُنَّا تُرَابًا وَآَبَاؤُنَا أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ * لَقَدْ وُعِدْنَا هَذَا نَحْنُ وَآَبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ إِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ * قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ * وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ * وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ * قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِي تَسْتَعْجِلُونَ * وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ * وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ * وَمَا مِنْ غَائِبَةٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ * إِنَّ هَذَا الْقُرْآَنَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ؛

ترجمہ:
یا وہ جو پہلی دفعہ مخلوق کو پیدا کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ اٹھائے گا اور جو تمہیں آسمان و زمین سے روزی عطا کرتا ہے؟ کیا کوئی خدا ہے اللہ کے ساتھ؟ کہئے کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو *  کہئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے، وہ کوئی غیب کو نہیں جانتا سوا اللہ کے اور انہیں خبر نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا * [نہیں]، بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ناقص [اور ناکافی] ہے [نہیں] بلکہ وہ ہمیشہ اس کے بارے میں مبلا ہیں [نہیں] بلکہ وہ اس اس کے بارے میں [دل کے] اندھے ہیں * اور جو لوگ کافر ہوئے کہنے لگے، جب ہم اور ہمارے باپ دادا خاک ہوجائیں، کیا تب بھی ہمیں یقینی طورپر [قبروں سے زندہ] برآمد کیا جائے گا * حقیقت یہ ہے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی وعدے دیئے گئے ہیں، یہ اگلے زمانوں کے افسانوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے * کہئے کہ چلو پھرو زمین میں [اور] دیکھو کہ کیا گناہ پیشہ لوگوں کا انجام کیا ہؤا * اور آپ ان پر رنج نہ کیجئے اور دل تنگ نہ ہوجایئے اس سے جو وہ مکر و فریب کو بروئے کار لئے کرتے ہیں * اور وہ کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ * جس [وعدے کی تکمیل کے] کے لئے تم جلدی کرتے ہو، شاید اس کا کچھ حصہ تمہارے قریب ہی ہو * اور بلاشبہ آپ کا پروردگار ان لوگوں پر بڑے فضل و کرم والا ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ شکر گزار نہیں ہیں * اور بلا شبہہ آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے وہ سب جو ان کے سینوں میں چھپائے گئے ہیں اور وہ جو سب جو وہ ظاہر کرتے ہیں * اور کوئی پوشیدہ شیۓ آسمان اور زمین میں نہیں مگر یہ کہ وہ ایک کھلے ہوئے نوشتے میں [درج] ہے * بلاشبہ یہ قرآن بیان کرتا ہے بنی اسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں جن میں وہ باہم اختلاف رکھتے ہیں۔"

یہ آیات توحید کی دعوت بھی ہیں، اور شرک پر شدید تنقید بھی، معاد کا انکار اور ان انسانوں کی فکری لجاج اور ہٹ دھرمی، جو روشن نشانیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ انسانوں کے خفیہ احتیاجات کا جواب دیتا ہے

آیت 64 اس سوال سے شروع ہوتی ہے، خلقت کا آغاز کس نے کیا اور کون ہے جو مخلوقات کو پلٹا کر لائے گا؟  کون ہے جو زمین و آسمان سے تمہیں روزی دیتا ہے؟ یہ سوالات جواپ پانے کے لئے نہیں بلکہ انسانی عقل کی بیداری کے لئے ہیں۔

قرآن اپنے مخاطَبین [1] کو آمادہ کتا ہے کہ اپنی زندگی کے گذرے ہوئے واقعات سے ماخوذہ تجربے پر نظر ڈالیں: زندگی کا آغاز؛ گذرتے ہوئے ایام، روزی رسانی کا دقیق اور درست نظام، سب وہ نشانیاں ہیں جن کے بیچوں بیچ جیتا ہے، لیکن ان کے سرچشمے کے بارے میں کم ہی سوچتا ہے۔ یہ آیت کریمہ تاکید کرتی ہے کہ انسان کے ہاتھوں بنا ہؤا کسی بھی معبود کا، کائنات کی اس تدبیر و انتظام میں کوئی کردار نہیں ہے اور اگر انسان سچائی کے ساتھ سوچ لے تو اس کو کوئی جواب نہيں ملے گا سوا "توحید" کے۔

خفیہ اور اعلانیہ شرک کا براہ راست مقابلہ

اگلی آیات میں، قرآن کریم کئی مرتبہ ایسے ہی سانچے کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے: کیا اللہ کے ساتھ دوسرا کوئی معبود ہے؟ اس سوال کو دہرایا جاتا ہے جو اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ شرک انسان کے نفس (و جان) میں جڑیں رکھتا ہے۔

محض ظاہری بت پرستی تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ ہر اللہ کے سوا کسی بھی دوسرے شخص کا مطلق سہارا لینا اور غیر اللہ سے متوسل ہونا، ہر وہ طاقت اور مال و دولت جو خدا کی جگہ لے لے، اسی انحراف (یعنی شرک) کا ایک مصداق ہے۔

آیات 65 سے 67 تک ـ بالخصوص علم غیب اور مسئلۂ معاد (و محشر) ـ سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرک انسان حتیٰ کہ وہ مستقبل کی فہم و ادراک میں، اور اپنے انجام کے سلسلے میں، حیرت و سَر گَشْتَگی سے دوچار ہؤا ہے۔ 

معاد کا انکار: ذمہ داری سے پہلو تہی کی کوشش

اس حصے کا ایک اہم محور "مسئلۂ معاد" ہے۔ قیامت کے منکرین تعجب سے پوچھتا ہے کیا مٹی میں مل جانے کے بعد، ہم دوبارہ زندہ ہونگے؟ قرآن کریم اس سوال کو جہل و نادانی کی ثمرہ نہیں بلکہ "حقیقت فراموشی" کا نتیجہ سمجھتا ہے۔

وہ دنیا کو اس دنیا کو "واحد واقعیت" (actuality) سمجھتے ہیں اور اپنی دیکھنے کے افق (اور حد نظر) اس سے آگے بڑھانے کے روادار نہیں ہیں۔ آیات کریمہ کی گواہی ہے کہ زیادہ تر بہانے اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے ہیں، کیونکہ اللہ کی طرف پلٹنے اور الٰہی احتساب پر ایمان و یقین، اس دنیا میں انسان کے طرز زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے اور اسے دگرگوں کر دیتا ہے۔

انسان کا محدود علم اور علمِ الٰہی کا احاطۂ کاملہ

آیات 65 اور 66 میں قرآن کریم اللہ کے علم اور انسانی دانش کے درمیان روشن لکیر کھینچتا ہے۔ اللہ کے سوا کسی کے پاس بھی علم غیب نہیں ہے اور انسان حتی کہ اپنے قریبی مستقبل کے سلسلے میں بھی جاننے سے قاصر ہے۔

یہ آیات کریمہ ایک طرف سے انسان کو علمی تواضع و انکسار کی تعلیم دیتی ہے اور اس کے بے بنیاد دعوؤں سے بھی باز رکھتا ہے۔ انسان جتنی ترقی کرتا ہے، اتنا ہی بہتر سمجھتا ہے کہ اس کی دانش علمِ الٰہی کے سامنے بہت ہی کم ہے اور ہاں! یہی حقیقت، "شعوری ایمان" اور "شعوری تسلیم" کی تمہید ہے۔

فکری اور اخلاقی نابینائی کی تمثیل

اس حصے کی آخری آیات، منکرین کی ہولناک تصویری پیش کرتی ہیں۔ انہیں ایسے لوگوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جو نہ سنتے ہیں اور نہ ہی دیکھتے ہیں: گونکے اور بہرے ہیں؛ حالانکہ ان کے پاس سننے اور دیکھنے کی صلاحیتیں موجود ہیں۔

یعنی، ان کا اصل مسئلہ عقل یا حسّ کا فقدان نہیں، بلکہ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔ قرآن کریم نے اس تشییہ و تمثیل کے ذریعے واضح کرتا ہے کہ گمراہی انسان کے مکرر اور مسلسل انتخابوں کا نتیجہ ہے؛ نہ کہ بیرونی اجبار اور زور زبردستی کا نتیجہ ہے۔

یہ آیات، محض ایک تاریخی اعتقادی نزاع و جدال کی روداد نہیں، بلکہ یہ آج کے انسان کو براہ راست مورد خطاب قرار دیتی ہیں؛ ایسا انسان جو بے انتہا معلومات کی شب و روز بمباری کے تحت، مختلف قسم کی طاقتوں اور ظاہری سہاروں کے بیچ الجھا ہؤا ہے، جس کی وجہ سے، ممکن ہے کہ وہ خدا اور خدا پر ایمان کو ایک طرف رکھ لے۔ قرآن کریم کے سوالات بدستور زندہ جاوید ہیں، جیسا کہ "ہمارا حقیقی سہارا کہاں ہے؟" "زندگی کا آغاز اور انجام کس کے ہاتھ میں ہے؟" اور یہ کہ "ہمارا اور ہماری اخلاقی ذمہ داریوں کے درمیان کیا رشتہ ہے؟"

آخری بات یہ ہے کہ سورہ نمل کی آیات 64 تا 76 انسان کو عقل، فطرت اور ایمان کی طرف پلٹنے کی دعوت دیتی ہیں، ایسا ایمان جو اندھادھند نہیں بلکہ فکر، مشاہدے اور حقیقت کو تسلیم کرنے پر استوار ہے: "شعوری ایمان" یہ آیات کریمہ خبردار کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر کی نشانیوں کی نسبت بے رخی، انسان کو آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھتا ہے لیکن اسے قبول اور تسلیم کرنے سے عاجز ہے۔

ان آیات کی تلاوت قرآن کریم کے صفحہ 383 پر دیکھئے اور سنیۓ:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: تحریر: مہدی احمدی

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]. مخاطَب = جس سے خطاب کیا گیا / جاتا ہے: سامعین، ناظرین و قارئین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha