قرآن کریم
-
ہفتۂ وحدت مسلمین؛
اکسیر وحدت - 2
ماه ربیع الاول کو مسلمانوں کے درمیان وحدت اور ہم-دلی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے 12 ربیع الاول (اہل سنت برادران کے مطابق نبی کریم [صلی اللہ علیہ و آلہ یوم ولادت) سے 17 ربیع الاول (شیعہ علماء کے مطابق ۔۔۔) کے درمیانی فاصلے کو ہفتۂ وحدت کا نام دیا گیا ہے۔
-
ہفتۂ وحدت مسلمین
اکسیرِ وحدت - 1
ماه ربیع الاول کو مسلمانوں کے درمیان وحدت اور ہم-دلی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے 12 ربیع الاول (اہل سنت برادران کے مطابق نبی کریم [صلی اللہ علیہ و آلہ یوم ولادت) سے 17 ربیع الاول (شیعہ علماء کے مطابق ۔۔۔) کے درمیانی فاصلے کو ہفتۂ وحدت کا نام دیا گیا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 3 + ویڈیو
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 2
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 1
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دوسری قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنیاسرائیل پر اثر نہ کر سکیں
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
پہلی قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنیاسرائیل پر اثر نہ کر سکیں
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ پنجم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ چہارم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دوسری قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے
سورۂ ممتحنہ کی ابتدائی آیات اس مقام کی گفتگو کرتی ہیں جہاں محبت اور حق سے وفاداری کے درمیان حد کو واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جہاں دشمن پر اعتماد انسان کو ایمان کے راستے سے دور کر سکتا ہے اور حتیٰ کہ انتہائی قریبی رشتے اور وابستگیاں بھی حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
-
قرآن کے مطابق ازدواجی زندگی کا راز؛ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس ہیں
قرآنِ کریم ازدواجی تعلق کو ایک نہایت خوبصورت اور جامع مثال کے ذریعے بیان کرتا ہے، جس میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے “لباس” قرار دیا گیا ہے۔ اس تعبیر کے مطابق زوجین نہ صرف ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں بلکہ حفاظت، عزت اور باہمی تکمیل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے
خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا" ۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے
خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا"۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے
خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا" ۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دشمن اپنی طاقت اور غرور کے عروج پر سقوط و زوال سے دوچار ہوجاتا ہے
حتمی پیغام یہ ہے کہ دشمن شاید دھمکی دے، مذاق اڑائے، اور عارضی طور پر پیش قدمی بھی کر لے، لیکن اس کے راستے کا انجام بند اور واضح ہے۔ اس کے مقابلے میں، حق کا محاذ اگر اپنے راستے پر ثابت قدم رہے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی ایک یقینی مستقبل کی امید رکھ سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
امریکہ کے پاس اللہ کا یہ وعدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں
عالمی طاقتیں قائدین بدلنے اور حکومتیں گرانے کے عادی ہیں، لیکن ایران مختلف ہے۔ یہاں دشمن کے تمام حملے ناکام ہوئے ہیں اور دشمن کو جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی ہے۔ بحری قزاقیاں، عہد شکنیاں، پابندیاں، قتل و دہشت گردیاں سب ناکام رہی ہیں۔ آج امریکہ کے پاس اللہ کے وعدے کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چآرہ کار نہیں ہے۔
-
قرآن کریم
قرآنِ رنّانی ؛ایک قلمی گوہر ہے جس پر رہبرِ شہید (رحمت اللہ علیہ) کی یادگار تحریر درج ہے
رواں سال کے عشرہ کرامت کے ایّام میں آستان قدس رضوی نے اپنے قلمی خزانے سے ایک قیمتی اور نفیس قرآن کریم کو جو عبد اللہ رنّانی کی خوبصورت خطاطی پر مشتمل ہے سے نقاب کشائی کی۔
-
تدبر فی القرآن؛
فاتحِ مقتول؛ خون اور نصرت کا معمہ
حق ناقابل شکست ہے، خواہ اس کے پیروکار اپنے خون میں تڑپ جائیں۔ اللہ کی نصرت نور اور روشنی کی بقاء کی ضمانت ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چراغ بھی محفوظ رہے۔ حق کا راستہ زخموں کے بیچ سے گذرتا ہے، لیکن کبھی بھی تعطل سے دوچار نہیں ہوتا، یہ فتح کے گہرے معنی ہیں؛ قرآن کریم کی منطق میں۔
-
رمضان 1447ھ؛
ویڈیو | قرآنی تعلیمات عصر حاضر کے انسان کی حیات کا لائحۂ عمل؛ حصۂ چہارم: نفاذ عدل
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || قرآن کریم عدالت کو انسانی اور اجتماعی زندگی کی بنیادی اقدار میں شمار کرتا ہے اور انسان کو کلام، فیصلے اور عمل میں انصاف پر راغب کرتا ہے۔ قرآن کے نقطۂ نظر میں، عدالت محض ایک اخلاقی اصول نہیں، بلکہ قضاوت [فیصلے]، گواہی اور اختلافات کے حل میں انفرادی اور اجتماعی تعلقات کے استحکام کا معیار ہے۔
-
-
رمضان 1447ھ؛
ویڈیو | قرآنی تعلیمات عصر حاضر کے انسان کی حیات کا لائحۂ عمل؛ حصۂ اول؛ صبر و بردباری
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || قرآن، جو ہدایت و زندگی کی کتاب، انسانی زندگی کی تمامی جہتوں میں، ہدایت و راہنمائی اور راہ حل پیش کرتا ہے۔ اس کی بنیادی ترین تعلیمات میں سے ایک "صبر" ہے؛ ایک گہرا تصور جو قرآن کی منطق میں، صرف رنج و مصیبت میں بردباری کے معنی میں نہیں ہے بلکہ جینے کا ایک شعوری شیوہ اور نشوونما اور بالیدگی کا راستہ ہے۔۔۔۔ طاعت اور بندگی پر صبر، نفسانی خواہشات کے مقابلے میں صبر [= استقامت] اور آزمائشوں اور بلاؤں پر صبر، روح کی بلندی اور انسانی کمال کا راستہ ہموار کرتا ہے اور انسان کو سکون کے ساحل اور فلاح و کامیابی کے افق کے قریب پہنچاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیجئے + تیسرے پارے کی تلاوت
قرآن ایک ایسے لین دین کی بات کرتا ہے جس میں 'عطا کرنا' کا مطلب 'کم ہونا' نہیں ہے، بلکہ برکت اور اضافہ ہے. وحی کی منطق میں، ایک دانے کو سات سو گنا بڑھایا جا سکتا ہے، اور سرمایہ الہی نظام میں خرچ کرنے سے، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
مکتبِ رمضان؛ انسان، معاشرے اور اسلامی انقلاب کے تہذیبی مشن کی تخلیقِ نو
مکتب رمضان میں، معنویت و روحانیت سیاست سے الگ تھلگ نہیں ہیں اور عبادت، معاشرے کی تقدیر سے منقطع نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی تقدیر ساز تبدیلیاں اسی مہینے میں رونما ہوئی ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
فلسفۂ روزہ
خداوند قرآن کریم میں سورہ بقرہ کی آیت 183 میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرماتا ہے "کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ؛ یعنی روزہ تم پر واجب کیا گیا ہے۔" اس آیت اور تفسیر المیزان میں اس کے تجزئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزے کا واجب (یا فرض) ہونا محض ایک تعبدی (اور عبادی) حکم نہیں ہے، بلکہ مؤمنوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے اور پروان چڑھانے، ارادے کی مضبوطی اور نفس پر قابو پانے کا ایک الٰہی منصوبہ ہے۔