قرآن کریم
-
تدبر فی القرآن؛
ایران نے دو بار مغرب کو شکست دی ہے
ایران نے قدیم دور میں مغرب کو شکست دی؛ اور سورہ روم کی ایک تفسیر میں، ایران آخری زمانے کی ایک بڑی جنگ میں بھی دوبارہ مغرب اور بنی امیہ کو شکست دے گا۔
-
مظلوموں کی حمایت؛ انصاف کے دائرے میں ایک دینی فریضہ
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،: قرآن مجید مظلوموں کی حمایت کو محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک دینی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ ظلم کے مقابلے میں اہلِ ایمان کو مظلوموں کی مدد اور حق کے دفاع کی دعوت دیتا ہے، اور یہاں تک کہ تنازعات اور کشمکش کے دوران بھی عدل و انصاف کی پابندی کو ضروری قرار دیتا ہے۔
-
قرآن کی نظر میں دوسروں کی نجی زندگی کا احترام
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا کے دور میں نجی اور عوامی زندگی کے درمیان فرق تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے، لیکن قرآن مجید ذہنی سکون اور معاشرتی تحفظ کے لیے دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت سے متعلق واضح اصول بیان کرتا ہے۔
-
لیتھوانیا میں مذہبی کشیدگی اور تارکین وطن کا مسئلہ، قرآن نذرِ آتش سے مسجد کو دھمکیوں تک
لیتھوانیا میں مسلمانوں کے خلاف دو واقعات، قرآن کی ایک کاپی نذرِ آتش کیے جانے سے لے کر تاریخی مسجد کے نمازیوں کو دھمکیاں دیے جانے تک، ایک بار پھر تارکین وطن اور غیر ملکی کارکنوں کی آمد سے متعلق پالیسی کو اس ملک میں سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا رہے ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
خالق متعال نے ان لوگوں کی سزا کے لئے پانچ مرتبہ بھاری قسم کھائی - 2
سورہ مرسلات پانچ مسلسل قسموں سے شروع ہوتی ہے، ایسی قسمیں جن کے بعد اللہ قیامت کے وعدے کی قطعیت اور حتمیت پر تاکید فرماتا ہے اور ان لوگوں کا ان کے انجام کی یاددہانی کراتا ہے جو اس وعدے کو جھٹلاتے ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
خالق متعال نے ان لوگوں کی سزا کے لئے پانچ مرتبہ بھاری قسم کھائی - 1
سورہ مرسلات پانچ مسلسل قسموں سے شروع ہوتی ہے، ایسی قسمیں جن کے بعد اللہ قیامت کے وعدے کی قطعیت اور حتمیت پر تاکید فرماتا ہے اور ان لوگوں کا ان کے انجام کی یاددہانی کراتا ہے جو اس وعدے کو جھٹلاتے ہیں۔
-
قرآن کی نظر میں دشمن کے مقابل طاقت اور استقامت کے بنیادی اصول
قرآن طاقت کو صرف زیادہ افرادی قوت یا وسائل کی دستیابی تک محدود نہیں کرتا، بلکہ دفاعی آمادگی، ایمان، صبر اور اتحاد و یکجہتی کو بھی معاشرے کی مزاحمت اور استقامت کے اہم عناصر قرار دیتا ہے۔ قرآن دشمن کے مقابل مؤثر مزاحمت کے لیے ایسی قوت پیدا کرنے پر زور دیتا ہے جو اسے جارحیت سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
-
معاشرے کے اتحاد اور اقتدار کے تحفظ کے لیے قرآنی تجاویز
قرآنِ کریم کی روشنی میں قومِ عاد و ثمود کے واقعات اور تاریخ میں اندلس کے تجربے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاشروں کا زوال صرف بیرونی طاقت کی کمزوری سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ باہمی تفرقہ، دینی و اخلاقی اقدار سے دوری اور دفاعی آمادگی برقرار رکھنے سے غفلت بھی معاشرے کی قوت و اقتدار کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور بالآخر اس کے زوال کی راہ ہموار کرتی ہے۔
-
حضرت ابراہیمؑ کے کردار و عمل میں انبیائے کرامؑ کے حلم و بردباری کی جھلک
سورۂ مریم کی آیات ۴۶ اور ۴۷ دعوتِ دین کے میدان میں انبیائے کرامؑ کے اعلیٰ اخلاق کی ایک ممتاز تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہاں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے چچا کی جانب سے سنگسار کیے جانے کی دھمکی کے باوجود نہ جھگڑے اور نہ ہی سخت کلامی کا راستہ اختیار کیا، بلکہ سلام، خیرخواہی اور استغفار کی پیشکش کے ساتھ جواب دیا۔ اس طرح آپؑ نے اپنے طرزِ عمل سے یہ واضح کر دیا کہ رحمت، خیرخواہی اور ہدایت کا راستہ، تشدد اور تعصب کے رویے پر کس طرح غالب آ سکتی ہے۔
-
جنگ میں انسانی کرامت کا تحفظ
قرآنِ کریم ظلم اور دشمنی کے مقابلے میں دفاع اور مزاحمت کے لیے ایک واضح اور متوازن اصول پیش کرتا ہے۔ یہ اصول مظلوموں کے دفاع، انسانی جانوں کی حرمت، عدل و انصاف کی پاسداری، عہد و پیمان کی پابندی اور صلح و امن کی راہ ہموار کرنے پر مبنی ہے۔
-
اتحاد معاشروں کے استحکام کا ستون ہے
قرآن کی نظر میں سماجی ہم آہنگی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ معاشرے کی قوت و استحکام کو برقرار رکھنے اور اسے کمزور ہونے سے بچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی لیے قرآن ایک ہی وقت میں اتحاد و یکجہتی، باہمی اختلاف و نزاع سے اجتناب اور سماجی روابط و تعلقات کو مضبوط رکھنے پر زور دیتا ہے۔
-
ہفتۂ وحدت مسلمین؛
اکسیر وحدت - 2
ماه ربیع الاول کو مسلمانوں کے درمیان وحدت اور ہم-دلی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے 12 ربیع الاول (اہل سنت برادران کے مطابق نبی کریم [صلی اللہ علیہ و آلہ یوم ولادت) سے 17 ربیع الاول (شیعہ علماء کے مطابق ۔۔۔) کے درمیانی فاصلے کو ہفتۂ وحدت کا نام دیا گیا ہے۔
-
ہفتۂ وحدت مسلمین
اکسیرِ وحدت - 1
ماه ربیع الاول کو مسلمانوں کے درمیان وحدت اور ہم-دلی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے 12 ربیع الاول (اہل سنت برادران کے مطابق نبی کریم [صلی اللہ علیہ و آلہ یوم ولادت) سے 17 ربیع الاول (شیعہ علماء کے مطابق ۔۔۔) کے درمیانی فاصلے کو ہفتۂ وحدت کا نام دیا گیا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 3 + ویڈیو
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 2
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
وہ لوگ جنہیں قرآن گدھے سے تشبیہ دیتا ہے - 1
قرآن نے ان لوگوں کو جو کتابِ الٰہی کو اپنے اوپر لاد لیتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، "كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا؛ یعنی اس گدھے کی مانند قرار دیا ہے جو کتابیں اٹھائے پھرتا ہے۔" یہ اس فاصلے کے بارے میں ایک تنبیہ ہے جو علم اور عمل کے درمیان پیدا ہو سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دوسری قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنیاسرائیل پر اثر نہ کر سکیں
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
پہلی قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنیاسرائیل پر اثر نہ کر سکیں
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ پنجم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ چہارم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک
اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دوسری قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے
سورۂ ممتحنہ کی ابتدائی آیات اس مقام کی گفتگو کرتی ہیں جہاں محبت اور حق سے وفاداری کے درمیان حد کو واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جہاں دشمن پر اعتماد انسان کو ایمان کے راستے سے دور کر سکتا ہے اور حتیٰ کہ انتہائی قریبی رشتے اور وابستگیاں بھی حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
-
قرآن کے مطابق ازدواجی زندگی کا راز؛ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس ہیں
قرآنِ کریم ازدواجی تعلق کو ایک نہایت خوبصورت اور جامع مثال کے ذریعے بیان کرتا ہے، جس میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لیے “لباس” قرار دیا گیا ہے۔ اس تعبیر کے مطابق زوجین نہ صرف ایک دوسرے کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں بلکہ حفاظت، عزت اور باہمی تکمیل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے
خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا" ۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے
خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا"۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جاؤ، قدرت مطلق اللہ ہے
خدائے متعال سورۂ فصلت (یا سورہ حم سجدہ) میں صابر مؤمنوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی طاقت سے نہ گھبرائیں اور انہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ "أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا" ۔ یہ آیات بتاتی ہیں کہ دشمن کے سامنے ڈٹے رہنے کا راز اللہ کی مطلق قدرت پر بھروسہ کرنا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔