قرآن کریم
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ سوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ دوئم | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حصۂ اول | دشمن شاید طاقتور نظر آئے؛ لیکن حقیقت میں وہی ہارنے والا اور نقصان اٹھانے والا ہے
سورہ زمر کی آیات 15 و 15، فتح و شکست کے تصور کی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ جہاں قرآن فرماتا ہے: "إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔۔۔؛ یقینا گھاٹا اٹھانے والے وہ ہیں جنہوں نے گھاٹا پہنچایا اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت کے دن۔۔۔" الٰہی منطق میں طاقت کا معیار ظاہری تسلط اور وقتی شور شرابہ (تشہیر اور پروپیگنڈا) نہیں ہے، اور یہ کہ ممکن ہے کہ کوئی دھڑا یا تحریک ظاہری طور پر بالا دست ہو، لیکن بالآخر وہی ہار جائے اور نقصان اٹھائے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دشمن اپنی طاقت اور غرور کے عروج پر سقوط و زوال سے دوچار ہوجاتا ہے
حتمی پیغام یہ ہے کہ دشمن شاید دھمکی دے، مذاق اڑائے، اور عارضی طور پر پیش قدمی بھی کر لے، لیکن اس کے راستے کا انجام بند اور واضح ہے۔ اس کے مقابلے میں، حق کا محاذ اگر اپنے راستے پر ثابت قدم رہے تو انتہائی مشکل حالات میں بھی ایک یقینی مستقبل کی امید رکھ سکتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
امریکہ کے پاس اللہ کا یہ وعدہ قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں
عالمی طاقتیں قائدین بدلنے اور حکومتیں گرانے کے عادی ہیں، لیکن ایران مختلف ہے۔ یہاں دشمن کے تمام حملے ناکام ہوئے ہیں اور دشمن کو جنگ بندی کی بھیک مانگنا پڑی ہے۔ بحری قزاقیاں، عہد شکنیاں، پابندیاں، قتل و دہشت گردیاں سب ناکام رہی ہیں۔ آج امریکہ کے پاس اللہ کے وعدے کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی چآرہ کار نہیں ہے۔
-
قرآن کریم
قرآنِ رنّانی ؛ایک قلمی گوہر ہے جس پر رہبرِ شہید (رحمت اللہ علیہ) کی یادگار تحریر درج ہے
رواں سال کے عشرہ کرامت کے ایّام میں آستان قدس رضوی نے اپنے قلمی خزانے سے ایک قیمتی اور نفیس قرآن کریم کو جو عبد اللہ رنّانی کی خوبصورت خطاطی پر مشتمل ہے سے نقاب کشائی کی۔
-
تدبر فی القرآن؛
فاتحِ مقتول؛ خون اور نصرت کا معمہ
حق ناقابل شکست ہے، خواہ اس کے پیروکار اپنے خون میں تڑپ جائیں۔ اللہ کی نصرت نور اور روشنی کی بقاء کی ضمانت ہے جس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چراغ بھی محفوظ رہے۔ حق کا راستہ زخموں کے بیچ سے گذرتا ہے، لیکن کبھی بھی تعطل سے دوچار نہیں ہوتا، یہ فتح کے گہرے معنی ہیں؛ قرآن کریم کی منطق میں۔
-
رمضان 1447ھ؛
ویڈیو | قرآنی تعلیمات عصر حاضر کے انسان کی حیات کا لائحۂ عمل؛ حصۂ چہارم: نفاذ عدل
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || قرآن کریم عدالت کو انسانی اور اجتماعی زندگی کی بنیادی اقدار میں شمار کرتا ہے اور انسان کو کلام، فیصلے اور عمل میں انصاف پر راغب کرتا ہے۔ قرآن کے نقطۂ نظر میں، عدالت محض ایک اخلاقی اصول نہیں، بلکہ قضاوت [فیصلے]، گواہی اور اختلافات کے حل میں انفرادی اور اجتماعی تعلقات کے استحکام کا معیار ہے۔
-
-
رمضان 1447ھ؛
ویڈیو | قرآنی تعلیمات عصر حاضر کے انسان کی حیات کا لائحۂ عمل؛ حصۂ اول؛ صبر و بردباری
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || قرآن، جو ہدایت و زندگی کی کتاب، انسانی زندگی کی تمامی جہتوں میں، ہدایت و راہنمائی اور راہ حل پیش کرتا ہے۔ اس کی بنیادی ترین تعلیمات میں سے ایک "صبر" ہے؛ ایک گہرا تصور جو قرآن کی منطق میں، صرف رنج و مصیبت میں بردباری کے معنی میں نہیں ہے بلکہ جینے کا ایک شعوری شیوہ اور نشوونما اور بالیدگی کا راستہ ہے۔۔۔۔ طاعت اور بندگی پر صبر، نفسانی خواہشات کے مقابلے میں صبر [= استقامت] اور آزمائشوں اور بلاؤں پر صبر، روح کی بلندی اور انسانی کمال کا راستہ ہموار کرتا ہے اور انسان کو سکون کے ساحل اور فلاح و کامیابی کے افق کے قریب پہنچاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
اپنے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ کیجئے + تیسرے پارے کی تلاوت
قرآن ایک ایسے لین دین کی بات کرتا ہے جس میں 'عطا کرنا' کا مطلب 'کم ہونا' نہیں ہے، بلکہ برکت اور اضافہ ہے. وحی کی منطق میں، ایک دانے کو سات سو گنا بڑھایا جا سکتا ہے، اور سرمایہ الہی نظام میں خرچ کرنے سے، کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
مکتبِ رمضان؛ انسان، معاشرے اور اسلامی انقلاب کے تہذیبی مشن کی تخلیقِ نو
مکتب رمضان میں، معنویت و روحانیت سیاست سے الگ تھلگ نہیں ہیں اور عبادت، معاشرے کی تقدیر سے منقطع نہیں ہوتی۔ سب سے بڑی تقدیر ساز تبدیلیاں اسی مہینے میں رونما ہوئی ہیں۔
-
تدبر فی القرآن؛
فلسفۂ روزہ
خداوند قرآن کریم میں سورہ بقرہ کی آیت 183 میں صراحت کے ساتھ ارشاد فرماتا ہے "کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیامُ؛ یعنی روزہ تم پر واجب کیا گیا ہے۔" اس آیت اور تفسیر المیزان میں اس کے تجزئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزے کا واجب (یا فرض) ہونا محض ایک تعبدی (اور عبادی) حکم نہیں ہے، بلکہ مؤمنوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے اور پروان چڑھانے، ارادے کی مضبوطی اور نفس پر قابو پانے کا ایک الٰہی منصوبہ ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دنیا تعطل سے دوچار؛ انسانی ساختہ حکمت عملیاں مؤثر نہیں ہیں
جس دنیا میں انسان اپنی صلاحیتوں کا بھروسہ کئے بیٹھا ہے، بہت سارے بحرانوں کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب بھی رہا ہے، بند گلیاں یکے بعد دیگرے سامنے نمایاں ہو رہی ہیں۔ قرآن کریم سورہ نمل میں بنیادی سوال اٹھا کر انسان کی نظروں کو بنی نوع انسان کی محدود حکمت عملیوں سے پلٹا دیتا ہے اور ایک بھولی بسری حقیقت کی طرف متوجہ کرواتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
یہ راستہ تاریخ کے مشرکین کا راستہ ہے، اس کے برے انجام کا انتظار کرو
تاریخ نے عیاں کیا ہے کہ ہر وہ طاقت جو حق کے مقابل کھڑی ہوئی، اس کا انجام مشرکوں جیسا ہؤا۔ سورہ حج کی آیات خبردار کرتی ہیں کہ یہ راستہ صرف تباہی اور زوال پر منتج ہوتا اور اس راہ کے راہگیر کا انجام انتہائی بھیانک ہے۔
-
ہمدان کے عوام نے شرپسند عناصر کی جانب سے قرآنِ کریم کی بے حرمتی کی شدید مذمت کر دی
ایران کے شہر ہمدان میں نمازِ جمعہ کے بعد ہزاروں نمازیوں نے احتجاجی ریلی نکال کر قرآنِ کریم کی بے حرمتی کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔
-
زہران ممدانی نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا؛
زہران ممدانی کا قرآن پر ہاتھ رکھ کر نیویارک کے میئر کا حلف
امریکی بائیں بازو کے ابھرتے ہوئے مسلمان نوجوان رہنما زہران ممدانی نے جمعرات کی علی الصبح نیویارک کے میئر کے طور پر حلف اٹھا لیا، جہاں آئندہ چار برسوں کے دوران ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹکراؤ متوقع ہے۔
-
عزہ اور قرآن؛
ویڈیو | غزہ میں 500 لڑکیوں نے مکمل قرآن حفظ کر لیا
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سوشل میڈیا میں ایک الشاطی کیمپ میں رہائش پذیر 500 فلسطینی لڑکیوں کے بارے میں ایک ویڈیو رپورٹ نشر ہوئی ہے جنہوں نے صہیونی غاصبوں کی مسلط کردہ دو سالہ جنگ، قتل عام، تباہی اور ویرانی کے باوجود دنیا کے لوگوں کو ایمان، علم، محبت اور اخلاق و استقامت کا سبق دیا۔ قرآن کریم کی ان حافظات نے "غزہ قرآن کے ساتھ بالیدہ ہوگا"، کے نعرے کے ساتھ جشن منایا۔
-
تدبر فی القرآن؛
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو قرآنی نکات
اس دن کی امید کے ساتھ، جب بنی نوع انسان کے مصلح اور موعودِ عالم حضرت مہدی (علیہ السلام) ظہور فرمائیں گے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تعاون سے ناانصافی اور ظلم سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، آمین یا رب العالمین۔
-
تدبر فی القرآن؛
صہیونیت کو گھٹنے ٹیکنا پڑیں گے، اللہ کا وعدہ یہی ہے
سورہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ محاذ جو حق کو دھوکے، قبضے اور بے گناہوں کے خون سے ڈھانپ لیتا ہے جلد یا بدیر منہدم ہو جاتا ہے۔ صہیونیت کے بارے میں جو کچھ آج دنیا کی آنکھوں کے سامنے، وہ طاقت کی علامت نہیں ہے، یہ گھٹنے ٹیکنے کے اسی عمل کا آغاز ہے جس کا خدائے متعال نے وعدہ دیا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
کچھ لوگ دین کو چاہتے ہیں مگر اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے، کیوں؟ + تصویر اور ویڈیو
سورہ نور کی آیات 54 سے 58 میں قرآن ایک پرانے تضاد کو نمایاں کرتا ہے: وہ لوگ جو دین و مذہب کا نام پسند کرتے ہیں لیکن جب خدا اور پیغمبر کے احکامات کی تعمیل کی بات آتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ آیات ظاہر کرتی ہیں کہ سچے ایمان کی پیمائش دعوؤں میں نہیں بلکہ عمل سے ہوتی ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
جو لوگ خدا کو نہیں مانتے، وہ اس تحریر کو ضرور پڑھیں
سورہ نور کی آیت 44 سے 53 تک کی آیات مؤمنوں سے خطاب سے پہلے، ان لوگوں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں جو خدا کے وجود کے بنیادی تصور کا انکار کرتے ہیں؛ یہ آیات شب و روز بلا وقفہ نظم و ترتیب اور تخلیق کے اسرار و رموز سے شروع ہوتی ہیں اور قدم بہ قدم یہ دکھاتی ہیں کہ مسئلہ صرف 'نشانیاں نہ دیکھنا' نہیں ہے، بلکہ 'فیصلہ اور قانون قبول کرنے سے گریز و انکار ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
دشمن کا بائیکاٹ آج کی کہانی نہیں، اللہ نے اس کا حکم 1400 سال پہلے دیا تھا
دشمن کا بائیکاٹ نہ تو ایک نیا سیاسی موقف ہے اور نہ ہی آج کے واقعات پر عارضی ردعمل۔ یہ تزویراتی حکمت عملی 1400 سال سے زیادہ عرصہ پہلے وحی کے متن میں بیان کی گئی تھی، جہاں قرآن واضح طور پر اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنے، ان کی اطاعت کرنے اور ان کو تقویت پہنچانے سے منع کرتا ہے، اور امت کی عزت اور کامیابی کے تحفظ کا واضح فارمولا پیش کرتا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
ابلاغی جنگ میں إرجاف [سنسنی خيزی] اور جارحانہ صف بندی
آج کی جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں۔ جنگ کا اصل میدان اقوام کے دلوں اور ذہنوں کا میدان ہے۔ جب دشمن میدان جنگ میں ناکام ہوتا ہے تو وہ اسی إرجاف کے راستے پر چل پڑتا ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
گھبراؤ نہیں، دشمن کی چیخ و پکار خدا کی قدرت کے سامنے محض دھوکہ ہے
سورہ حج کی آیات 65 تا 72 میں خدائے متعال نے ان دشمنوں کی نوعیت بتائی ہے جو بغیر علم کے تنازعات، دھونس دھمکیوں اور جھگڑوں میں مصروف رہتے ہیں لیکن خدا کی قدرت مطلقہ کے سامنے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ دشمن کے تمام شور شرابوں کے پیچھے درحقیقت ضعف و کمزوری، احساس کمتری اور حیرت و گھبراہٹ کارفرما ہے۔
-
سیدہ زہرا(س) - حصہ پنجم؛
ویڈیو | ہدایتِ الٰہیہ کے نظام میں سیدہ فاطمہ(س) کی حُجِّنیَّت کا فلسفہ
قرآن اور احادیث کی تعلیمات کے مطابق حضرت زہرا(س) یک تاریخی نمونہ نہیں بلکہ حق و باطل کی تمیز اور راہ ہدایت کی تشخیص کا ایک آسمانی معیار ہیں۔ موجودہ دور میں دین کی حقیقت کو سمجھنے اور الہی مشن کے جاری رہنے کے لئے ان کے مقام کو پہچاننا اور تسلیم کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
حکمتِ تصدیق؛
معاملہ محض صدق (سچ) اور کذب (جھوٹ) نہیں ہے! وہ واضح اور مسلّمہ اعداد و شمار کو بھی جھٹلا دیتے ہیں، ہر "صحیح کام پر حساسیت" پیدا کی جاتی ہے، حق کو پہچانتے ہیں پھر بھی قبول نہیں کرتے، بلکہ اس کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ یہ محض جھوٹ نہیں ہے، یہ جَحْد (ضد پر مبنی انکار) اور تکذیب (جھٹلانا) ہے۔
-
تدبر فی القرآن؛
اس دشمن کا انجام طاقت اور دولت نہیں؛ دہشت اور تباہی ہے
سورہ انبیا کی آخری آیات میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ جو دشمن انکار، تفرقہ اندازی اور اپنی طاقت کی نمائش کے ذریعے باطل کی راہ پر گامزن ہیں وعدہ حق کی تکمیل کے وقت ان کو ایک ایسے چہرے کا سامنا ہوگا جس کی انہیں توقع بھی نہیں تھی۔ ان کا انجام اقتدار اور فتح نہیں بلکہ حیرت، دہشت اور مکمل تباہی وبربادی ہے۔
-
قرآن کریم کی عالمگیریت؛
جاپان میں حفظ و قرائت قرآن کے سالانہ مقابلوں کی رجسٹریشن شروع
جاپان کے اسلامی مرکز نے ٹوکیو میں سالانہ قرآن پاک کی تلاوت اور حفظ کے چھبیسویں مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد قرآن سے مسلمانوں کا تعلق مضبوط کرنا اور بچوں اور بڑوں میں حفظ و تلاوت کو فروغ دینا ہے۔ شرکا کی رجسٹریشن 8 دسمبر 2025 تک جاری رہے گی۔
-
مصر کی 79 سالہ بےسواد خاتون نے پورا قرآن مجید حفظ کرلیا
مصر کے شہر قِنا سے تعلق رکھنے والی 79 سالہ فاطمہ عطیتو نے بڑھاپے اور بےسوادی کے باوجود پورا قرآن کریم حفظ کرکے ایک غیر معمولی مثال قائم کردی۔