بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ نہ صرف ایک برا فیصلہ ہے، بلکہ اسے امریکی سلطنت کے زوال کے عمل میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ ہر سامراجی (Imperialist) نظام اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اس کے اوزار اس کے اہداف کو پورا کرنے کے لئے کافی ہوں۔ ایران جنگ نے ثابت کر دیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس سلطنت کو خطرناک سطح تک زیادہ توسیع پسندی اور حرص و لالچ میں الجھا دیا ہے۔ اس کے انتخابی وعدوں کے برعکس ـ جو مشرق وسطیٰ سے پسپائی اور مغربی نصف کرہ (پر مبنی مونرو ڈاکٹرائن کے نئے ورژن) پر توجہ مرکوز کرنے سے عبارت تھے ـ ایران پر یلغار ایک لامتناہی اور غیر ضروری مہم جوئی تھی جو نہ صرف امریکہ کے اہم مفادات کو پورا نہیں کرتی، بلکہ اس ملک کی مسلح افواج کو فرسودہ کر رہی ہے۔
مغرب نصف کرہ میں چین کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹرمپ کی ابتدائی حکمت عملی ـ بشمول پاناما نہر کی بندرگاہیں بیچنے، وینزویلا کے راہنما کو اغوا کرنے اور کیوبا کو دھمکی دینے ـ میں کم از کم ایک منطقی ربط پایا جاتا تھا۔ لیکن ایران کے ساتھ جنگ بالکل مختلف تھی: ایک خطرناک اور بے انتہا وابستگی جس کا اس کی نصف کرہ کی طرف پسپائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ صرف چند ماہ پہلے، ٹرمپ کی انتظامیہ میں کوئی بھی ایسی جنگ کی پیش گوئی نہیں کر رہا تھا۔ اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اپنی شیخیوں کے کے برعکس، ایک طویل تصادم میں ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لئے ضروری فوجی صلاحیت نہیں رکھتا۔
آج امریکہ ایران کی تسخیر کے لئے 1991 کی عراق جنگ کی طرح 40 ممالک سے دس لاکھ سپاہی جمع نہیں کر سکتا۔ ایران ایک بڑا، پیچیدہ اور ثابت قدم ملک ہے۔ یہاں تک کہ جدید میزائلوں پر انحصار کرتے ہوئے بھی، امریکہ محض اپنے اسٹراٹیجک ذخائر خالی کر دیتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے 1,100 اسٹیلتھ کروز میزائل جو چین کے ساتھ تصادم کے لئے ذخیرہ کئے گئے تھے، اور 1,000 ٹوماہاک میزائل (سالانہ اوسط خریداری سے دس گنا زیادہ) استعمال کر لئے ہیں۔ امریکی مسلح افواج نے اپنے دعوؤں کے برعکس، اپنی عدم افادیت کو ثابت کرکے دکھایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ