بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم کی سورۂ فصلت کی آیات 30 تا 38، حق و باطل کی جنگی کشمکش میں اہل ایمان کی حیثیت کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ آیات ایک طرف ثابت قدم مؤمنین کے زبردست اجر کو بیان کرتی ہیں اور دوسری طرف دشمنیوں، وسوسوں اور محاذِ باطل کی شر پسندیوں اور شر انگیزیوں سے نمٹنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔
حصۂ دوئم:
اہل ایمان کے لئے تصور سے بھی بڑھ کر اجر و ثواب
اس کے بعد، خدائے متعال جنت کی عظیم نعمتوں کے بارے میں بیان فرماتا ہے، یہ کہ "لَکُمْ فِیهَا مَا تَشْتَهِی أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیهَا مَا تَدَّعُونَ؛ تمہارے لئے اس میں وہ ہے جو تمہارے نفوس خواہش رکھتے ہیں اور تمہارے لئے وہاں وہ ہے جو طلب کروگے۔"
علامہ طباطبایی کہتے ہیں کہ یہ تعبیر اللہ کے اجر کی لامحدود وسعتوں کا اظہار ہے ہے، کیونکہ اہل ایمان کی تمام جائز خواہشات اور تمام تر آرزوئیں جنت میں پوری ہو جاتی ہیں۔
ان وعدوں سے واضح ہوتا ہے کہ اہل حق کی تکلیفیں اور استقامتیں لا حاصل اور بلا نتیجہ نہیں رہتیں۔ قرآن کی منطق میں، ایمان کے راستے کی مشکلات اللہ کی ابدی رحمت اور کرامت تک پہنچنے کے لئے سرمائے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی لئے مؤمن دشمنوں کے سامنے شکست محسوس نہیں کرتے، کیونکہ ان کی نگاہ کا افق دنیا اور اس کی محدودیتوں سے ماوراء ہے۔
اللہ کی طرف دعوت بہترین قول اور بہترین راستہ
مؤمنین کا مرتبہ بیان کرنے کے بعد، قرآن حق کی طرف دعوت کی اہمیت کو بیان کرتا ہے:
"وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ؛
اور کون ہوگا قول (بات کرنے) کے لحاظ سے، اس جو اللہ کی طرف بلائے۔"
اللہ کی طرف دعوت تب مؤثر ہوتی ہے جب عملِ صالح اس کے ساتھ ہو، اسی لئے آیت میں فوری طور پر ارشاد ہوتا ہے کہ:
"وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ؛
اور نیک اعمال بجا لائے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔"
یعنی حقیقی مبلغ وہ ہے جو خود میدانِ عملی میں بھی اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم رکھے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ محاذِ حق کی فتح صرف نعرے سے ہاتھ نہیں آتی، بلکہ اس کے لئے ایمان، عمل اور واضح دینی شناخت کی ضرورت ہوتی ہے۔
برائی کا جواب بھلائی سے دو
سورہ فصلت کے اس حصے میں دشمنیوں کے مقابلے کے لئے سب سے اہم قرآنی حکمت عملی پیش کی گئی ہے:
"ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ؛
تم برائی کا دفعیہ زیادہ سے زیادہ بھلائی سے کرو۔"
اس آیت میں اللہ مؤمنین کو حکم دیتا ہے کہ برائیوں کو بہترین طریقے سے دفع کرو۔
مقصد، ناپسندیدہ رویوں سے حکمت و اخلاق کی روشنی میں نمٹنا ہے، ایسا رویہ جو دشمنیوں کو دوستی میں تبدیل کر سکے۔ اس طرح کے طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار ایک ضدی دشمن گہرا دوست بن جاتا ہے: ارشاد ہوتا ہے:
"فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ؛
تو ایک دم دیکھ لیں گے کہ آپ کے ساتھ جس کی دشمنی تھی، وہ ایسا ہوجائے کہ جیسے آپ کا نہایت قریبی دوست ہے۔"
قرآن تاکید کرتا ہے کہ اس مرتبے تک پہنچنا آسان نہیں اور صرف وہ لوگ اس پر فائز ہوتے ہیں جو صبر کرنے والے ہوں اور ایمان و اخلاق کس بہترین سے بہرہ ور ہوں:
"وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا" ۔
اور یہ طریقہ کار سکھایا نہیں جاتا مگر ان کو جو صبر [و برداشت] کرنے والے ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ