بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، گوکہ ٹرمپ نے بظاہر جنگ بندی کا اعلان کروایا ہے لیکن صہیونی دشمن کی جارحیت جاری ہے اور حزب اللہ ہر ممکن طریقے سے صہیونیوں کی پیشقدمی روک رہا ہے لیکن چونکہ ایک طرف دشمن کے حملے جاری ہیں اور دوسری طرف سے معلوم ہؤا ہے کہ بیروت میں لبنان کے صدر اور وزیراعظم نے نیتن یاہو کو جارحیت کے حوالے سے معاہدہ کر لیا ہے، اور اس کو باقاعدہ اجازت دی ہے کہ لبنان پر حملے جاری رکھے، اور ٹرمپ کے ساتھ لبنانی اہلکاروں کی ملاقات میں بھی، ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ "لبنان کو حزب اللہ سے نجات دلائے گا"، اور لبنانی حکام نے بھی اس کی ہرزہ سرائیوں کا استقبال کیا، یعنی یہ کہ لبنانی صدر جوزف عون اور وزیر اعظم نواف سلام نے ٹرمپ سے گڑگڑا کر حزب اللہ کے خلاف کاروائی کی دوخواست کی ہے، لہذا حزب اللہ نے اپنی کاروائیوں کے نئے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے اپنے استشہادی مجاہدین کو جنوبی لبنان میں تعینات کر لیا ہے جو دشمن کے فوجی ٹھکانوں میں گھس کر حملے اور دھماکے کریں گے۔
واضح رہے کہ حزب اللہ نے 1980 کے عشرے میں صہیونی قابضوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کے لئے اسی روش سے استفادہ کیا تھا اور صہیونیوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا کر مار بھگایا تھا۔
حزب اللہ لبنان کے ایک فوجی کمانڈر نے کہا: استشہادیوں کا ایک بڑا گروپ، پہلے سے تیار کردہ منصوبوں کے ساتھ جنوبی لبنان کے مقبوضہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا: ہم سنہ 1980 کے عشرے کی حکمت عملی کو بروئے کار لا رہے ہیں اور شہادت پسند گروپووں کو فعال کر رہے ہیں تاکہ دشمن کو اپنی سرزمین سے مار بھگائیں۔
انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے استشہادیوں کا مشن جنوبی لبنان کی مقبوضہ بستیوں میں دشمن کے افسران اور سپاہیوں سے دوبدو لڑائی سے عبارت ہے۔
دریں اثنا شمالی فلسطین اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور غاصب صہیونی فوج کے درمیان کشیدگی میں زبردست اضافہ ہؤا ہے اور اگرچہ عالمی برادری نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی ہے اور لبنان پر مسلط صہیونی صدر اور وزیر اعظم نیتن یاہوں اور ٹرمپ کے ساتھ، لبنان کے خلاف، سازباز میں مصروف ہیں، حزب اللہ صہیونیوں کے ساتھ کانٹے دار مقابلے میں مصروف ہے۔
"وَمَن يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَالَّذينَ آمَنوا فَإِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ الغالِبونَ؛
(مائدہ-56)
اور جو توّ لا رکھے اللہ اور اس کے پیغمبر اور ان ایمان رکھنے والوں سے تو بلاشبہ اللہ کا لشکر ہی غالب آنے والا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ