بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا|| آج، انقلاب اسلامی کے بیانیے اور بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں اس کے فروغ کے نتیجے میں، بین الاقوامی ترتیب ایک نئی سرد جنگ سے گذر رہی ہے: زوال پذیر لبرل جمہوری ترتیب اور انقلاب اسلامی کے مکتب اور بیانیے کے درمیان، جو اپنی پہلی صدی کے دوسرے نصف میں داخل ہونے والی ہے۔
آج، جو تہذیب و ثقافت، تعلقات، معیشت، سلامتی اور سیاست نیز انسان، حکمرانی اور مستقبل کے بارے میں ـ توحید، عدالت، انسان کی عزت، الہی قیادت اور حیات طیبہ اور پائیدار امن و سلامتی کے حصول کی کوشش پر مبنی ـ نقطہ نظر کی بنیاد پر، ایک نئی اور مختلف طاقت ظہور پذیر ہو رہی ہے۔
ایک طرف نئی اسلامی تہذیب کے بیانیے سے ابھرنے والی نئی طاقت ہے جس کا مرکز اسلامی جمہوریہ ایران ہے، اور دوسری طرف مغربی - امریکی سلطنت ہے جس کے تزویراتی زوال، اندرونی گھِساؤ اور عالمی قانونیت کو درپیش گہرے بحران کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔
اس میدان میں، "تسدید (Deterrence)" صرف ہتھیاروں کے توازن سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یہ سخت، نرم، ذہین، عوامی اور تہذیبی طاقتوں کے دانشمندانہ امتزاج سے جنم لیتی ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جسے "غیر متناسب تہذیبی تسدید" (Asymmetric Civilizational Deterrence) کہا جا سکتا ہے۔
نئی سرد جنگ کی نوعیت: طاقت کی دو منطقوں کا تصادم
نئی سرد جنگ، ایسی جنگ ہے جس کا باضابطہ اعلان نہیں ہؤا ہے، جس میں [دو مخالف قوتوں کے درمیان] رابطے کی لکیر (line of contact) کی لکیر، پوشیدہ ہیں اور محاذ فوجی میدان سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ یہ جنگ بیک وقت درج ذیل میدانوں میں جاری ہے:
• سیکورٹی - فوجی
• اقتصادی - پابندیاں
• ادراکی (Cognitive) - بیانیوں پر مبنی (Narrational)
• قانونی - ادارہ جاتی
• ثقافتی - تہذیبی
اس فریم ورک میں، اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف ایک "علاقائی کھلاڑی" ہے، بلکہ مغرب کے زیر اثر نظام کے ایک متبادل تہذیبی منصوبے کا حامل بھی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی انقلاب اسلامی، مزاحمت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے مکتب اور بیانیے کا ساختی دشمن ہے۔
غیر متناسب تسدید؛ دعویدار امریکی اور صہیونی طاقتوں کے مقابلے میں تہذیبی قوت کی حکمت عملی
امریکہ اب بھی دنیا بھر میں کمیتی اور تکنیکی فوجی برتری کا دعویدار ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے غیر متناسب تسدید کی حکمت عملی سے اس برتری کو عملاً بے اثر کر دیا ہے۔
ایران کی غیر متناسب تسدید کئی بنیادوں پر استوار ہے:
1۔ کلاسیکی میدان جنگ کی نفی
ایران جنگ کو ایسی زمین پر لے جاتا ہے جہاں وہ امریکہ کے لئے مہنگی ہو، اور یہ ملک وہاں غیر مستحکم ہو، اور پہل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ انقلاب اسلامی اور محور مقاومت کے مکتب اور بیانیے سے ابھرنے والی غیر متناسب تسدید نے، میدان جنگ کو امریکہ کے لئے ـ خلیج فارس سے مغربی ایشیا تک، سمندر سے خلا تک، اور توانائی کی حفاظت سے لے کر نفسیاتی سلامتی تک، غیر متوقع بنا دیا ہے۔
2۔ دفاعی - فوجی اقتدار اور ایمانی اور عوامی عزم و ارادے کا امتزاج
مغربی کلاسیکی افواج اور امریکی سلطنت کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی اور دفاعی طاقت کی جڑیں ایمان، شناخت اور مقاومت و مزاحمت کی ثقافت میں پیوست ہیں۔ یہ الٰہی طاقت پر انحصار کرتی ہے اور عوامی پشت پناہی سے مستفید ہے۔ اس نظام میں، عوام، اسلامی جمہوریہ، آئیڈیلز، توحیدی اقدار اور الٰہی قیادت کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے: "بعضهم من بعض" (یہ ایک دوسرے سے ہیں)۔
جہاد، قربانی اور "شہادت طلبی" ایک آگے بڑھانے والا تسدید عنصر ہے جو مادی حساب کتاب میں نہیں سماتا اور امریکہ کی آلاتی عقل (Instrumental Wisdom) کے حساب کتاب کو درہم برہم کر دیتا ہے۔
3۔ "غیر متوقع حملے" کا امکان؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی تسدید کا ستون
اسلامی جمہوریہ ایران کی تسدید کے اہم عناصر میں سے ایک، جواب کی 'نوعیت، وقت، جگہ اور سطح' میں اسٹریٹجک ابہام (Strategic Ambiguity) ہے۔ امریکہ کو ایک حقیقت کا سامنا ہے: وہ جانتا ہے کہ اسے جواب ضرور دیا جائے گا، لیکن نہیں جانتا کہ یہ جواب کب، کہاں، کیسے اور کس راستے سے آئے گا۔
غیر متوقع حملے کا یہ امکان، براہ راست یا بالواسطہ، متناسب یا غیر متناسب، فوری یا فرسودہ (Attritive)، ظاہری یا پوشیدہ شکل میں ہو سکتا ہے۔ یہی غیر یقینی کیفیت، اعلیٰ جنگی تیاری، تخویف پیدا کرنے والے نقطہ زن (اور ٹھیک ہدف پر لگنے والے) میزائل، خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور عزم، محور مقاومت کی طاقت اور علاقائی جنگ کے امکان کے ساتھ مل کر، حقیقی تسدیدی صلاحیت کو تشکیل دیتی ہے۔
4۔ امریکی سلطنت کا زوال
زوال پذیر، بے منطق، حد سے زیادہ لالچی اور ظالم امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے۔ میڈیا کی سلطنت کی تصویر کشی کے برعکس، یہ ملک آج بیک وقت متعدد بحرانوں کا شکار ہے: جیسے گہری سماجی تفریق و تقسیم، مفلوج کن قرضہ جات، عالمی بد اعتمادی، علاقائی جنگوں میں شرمناک ناکامیاں ـ خاص طور پر مضبوط ایران کی حسینی قوم کے عزم کے سامنے ـ فیصلہ سازی کے عزم و ارادے کا فقدان، براہ راست جنگ اور مداخلت میں تذبذب اور جنگ کے نتائج سے خوف۔
ایسی صورت حال میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کوئی بھی براہ راست تصادم ان کے قابو سے باہر، ناقابلِ فتح اور امریکی عوام کی رائے عامہ کے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ اسی لئے، امریکہ کی دھمکیاں طاقت کی علامت ہونے سے زیادہ، اس کی کمزوری اور تزویراتی ضعف اور اسٹراٹیجک مجبوری کی علامت ہیں۔
5۔ اسلامی جمہوریہ ایران؛ دفاعی تسدید اور تہذیبی پہل
اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی محض "جنگ نہ کرنا" نہیں ہے؛ بلکہ یہ باوقار تسدید، خطرے کا ازالہ، قومی سلامتی کا تحفظ، آزادی، ترقی، عدالت، انسانی وقار، امت مسلمہ کی حفاظت و تعمیر نو اور جدید اسلامی تہذیب کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔
غیر متناسب تسدید (Asymmetric Deterrence) کی حکمت عملی، باعزت و پروقار طاقت کی فراہمی اور جنگ سے بچاؤ کی ضامن ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ میں داخل ہوئے بغیر، بین الاقوامی نظام میں پروقار تسدید پیدا کر سکتا ہے، خطرے کو ـ پسپا ہوئے بغیر ـ ٹال سکتا ہے، اس طرح سے کہ نہ مفاہمت کے حصول پر مجبور ہو، نہ ہتھیار ڈالنے کی ذلت قبول کرنے، یا ایرانی قوم کے مسلمہ حقوق سے دستبردار ہونے پر؛ نیز اسلامی جمہوریہ ایران مختلف میدانوں میں طاقت پیدا کر سکتا ہے، اس طرح سے کہ کبھی بھی دعویدار طاقتوں کا محتاج نہ ہو۔
نئی سرد جنگ، ارادوں کی جنگ ہے؛ اور اس میدان میں، اسلامی جمہوریہ ایران غیر متناسب تہذیبی تسدید کی حکمت عملی کے بدولت، اہداف کے حصول، مادی اور اخلاقی و روحانی ترقی و شادابی اور چوٹیوں کو فتح کرنے تک آگے بڑھتا ہے۔ دشمن کی سخت برتری کو بے اثر کرتا ہے، اقدام کے اختیار کو برقرار رکھتا ہے اور غیر متوقع حملے کے امکان کو ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔
اس کے برعکس، امریکی سلطنت پہلے سے کہیں بہتر جانتی ہے کہ: مسلحانہ طریقے سے اسلامی جمہوریہ ایران سامنا کرنے کی قیمت اس کے برداشت کرنے کی حد سے باہر ہے، اور اگر اس سے کوئی تخمینی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے تاریخی اور تہذیبی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) فرماتے ہیں: ""نیا عالمی نظام بن رہا ہے، جو بلاشبہ پرانا نظام نہیں رہے گا۔ امریکہ اس نئے نظام میں الگ تھلگ اور تنہا ہو گا۔۔۔ یہ جو میں نیا نظام کہہ رہا ہوں، اس میں امریکہ کی کوئی اہم پوزیشن نہیں ہے اور وہ الگ تھلگ اور تنہا ہے۔۔۔ امریکہ کے ہاتھ پاؤں دنیا بھر میں موجودگی سے کھنچ جائیں گے۔" (خطاب بمورخہ 2 نومبر 2022ع)
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
"أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَمَا أَغْنَى عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ؛
تو کیا وہ اطراف زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھ لیں کہ کیا ہؤا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے، وہ جو [تعداد میں] ان سے [کہیں] زیادہ اور طاقت میں اور دنیا میں چھوڑے ہوئے نشانوں کے لحاظ سے ان سے [کہیں] بڑھ کر تھے، تو انہیں کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچا سکا وہ جو وہ کماتے تھے۔" (سورہ غافر، آیت 82)
24 فروری 2026ع
عباس کعبی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ