بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم سورہ زمر کی آیات 11 تا 21 میں حق و باطل کے محاذوں کی حدود کو، واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ ان آیات میں راستے کے انتخاب کی بات کی گئی ہے، ایسا انتخاب جو صرف دلی اعتقاد تک محدود نہیں، بلکہ عمل، اطاعت، استقامت اور دباؤ سے نمٹنے کے انداز میں خود کو ظاہر کرتا ہے۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ تفسیر المیزان اس حصے میں اس نکتے پر زور دیتے ہیں اللہ کا دین بکھرے ہوئے انتخابوں کا مجموعہ نہیں؛ بلکہ ایسی حقیقت ہے جو انسان کو خدا کے حضور مکمل اخلاص تک پہنچاتی ہے۔
آیات کا آغاز پیغمبرؐ کو الٰہی حکم سے ہوتا ہے:
"قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصاً لَّهُ الدِّينَ؛
کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اس کی خالص اطاعت کرتے ہوئے ۔"
پھر اگلی آیت میں ارشاد فرماتا ہے"
"وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ؛
اور مجھے حکم ہے کہ میں اول نمبر کا مسلمان ہو۔"
یعنی پیغمبرؐ کی مأموریت (اور مشن) صرف ابلاغ نہیں، بلکہ تسلیم و اطاعت میں سبقت لے جانا ہے۔
علامه طباطبائیؒ المیزان میں وضاحت کرتے ہیں کہ قرآن کا مطلوبہ اخلاص محض ظاہری شرک سے دوری نہیں، بلکہ انسان اپنے شَوق و ذَوق، ہدف اور راستے میں بھی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی فیصلہ سازی کا مرکز محور نہ بنائے۔ قرآن کی منطق میں حق کا محاذ صرف اس وقت طاقت حاصل کرتا ہے جب غیر الٰہی وابستگیاں اور محرکات اس کے وجود اور اس کی فکر اور ارادوں میں میں کمزور پڑ جائیں۔ جو معاشرہ خدا کی رضا کو اصل اور بنیاد بنائے، وہ خطرات اور دباؤ کے سامنے متزلزل نہیں ہوتا؛ کیونکہ اس نے بدلتی ہوئی انسانی طاقتوں کو اپنی پشت پناہ نہیں بنایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ