اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یونیسف نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد گزرنے والے 300 دنوں کے دوران غزہ میں کم از کم 300 بچے شہید ہوئے۔ جنگ بندی معاہدے میں فوجی کارروائیوں کی معطلی اور انسانی امداد کی مکمل رسائی کی ضمانت دی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہا۔
یونیسف کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگ بیڈر نے کہا کہ ایسی جنگ بندی جس کے دوران اوسطاً روزانہ ایک بچہ جان سے جائے، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ناکام سمجھی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران سیکڑوں دیگر بچے زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ خاندان اب بھی تشدد کے مکمل خاتمے کے منتظر ہیں۔
یونیسف کے مطابق غزہ کی بڑی آبادی انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ تقریباً ایک تہائی علاقے میں خاندان ایسے مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے اور ملبے اور کچرے کے ڈھیر موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا کہ غزہ کے بچے اب بھی شدید غذائی قلت، مختلف بیماریوں، پینے کے صاف پانی کی کمی اور صحت و نکاسی آب کے نظام کی تباہی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
یونیسف نے کہا کہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے لیے حالیہ اعلانات میں ایک ایسا لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے جس کا مقصد جنگ بندی کو آگے بڑھانا، دشمنی کا خاتمہ اور انسانی امداد میں اضافہ ہے۔
ایڈورڈ بیگ بیڈر نے ان پیش رفت کو بچوں کی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ روکنے کے لیے ’’نئی امید‘‘ قرار دیا۔
یونیسف نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کریں۔
آپ کا تبصرہ