اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بین الاقوامی کانگریس برائے بزرگداشتِ علامہ میر حامد حسین لکھنوی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ "عبقات الأنوار فی إمامة الأئمة الأطهار علیہم السلام" کے احیا و اشاعت کے سلسلے میں "حدیثِ منزلت" سے متعلق تین جلدیں محقق محمد جواد رجب زادہ کی تحقیق و تصحیح کے ساتھ منظرِ عام پر آگئی ہیں۔
یہ علمی منصوبہ کانگریس کے شعبۂ احیائے آثار، بین الاقوامی بنیادِ امامت کی نگرانی اور بنیادِ تحقیقاتِ اسلامی آستانِ قدسِ رضوی کے تعاون سے مکمل کیا گیا، جبکہ اس کی اشاعت نشرِ امامتِ اہلِ بیتِ طاہرین علیہم السلام نے کی ہے۔
"حدیثِ منزلت" عبقات الأنوار کے منہجِ دوم کی دوسری حدیث ہے، جس میں علامہ میر حامد حسین لکھنوی نے ان اعتراضات کا تفصیلی علمی جائزہ لیا ہے جو شاہ عبدالعزیز دہلوی نے اپنی کتاب "تحفۂ اثنا عشریہ" میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی امامت سے متعلق اس حدیث کی دلالت پر اٹھائے تھے۔
اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1898ء (1295ھ) میں لکھنؤ سے سنگی طباعت کے ذریعے شائع ہوا تھا، جبکہ نئے تحقیقی ایڈیشن میں اسے جدید ترتیب کے ساتھ تین جلدوں اور 1,549 صفحات میں مرتب کیا گیا ہے۔
اس ایڈیشن میں حدیثِ منزلت کی سند، تواتر، دلالت، راویوں، تاریخی، رجالی، تفسیری، کلامی اور ادبی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی خلافت، افضلیت، عصمت، اعلمیت اور مقامِ امامت پر حدیثِ منزلت کی دلالت کے حوالے سے چالیس اہم علمی دلائل بھی پیش کیے گئے ہیں۔
تحقیقی ایڈیشن میں قدیم نسخے کا باریک بینی سے تقابل، آیات و احادیث کی تخریج، مشکل عربی و فارسی الفاظ کی وضاحت، اصطلاحات کی تصحیح، مصادر کے اختلافات کی نشان دہی اور تفصیلی عنوانات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے تاکہ محققین کے لیے استفادہ مزید آسان ہو سکے۔
محمد جواد رجب زادہ نے اس کتاب کی تحقیق و تصحیح انجام دی، جبکہ سید حمید منتظری، محمد خداپرست اور مہدی حیدری نے بعض حصوں کی تخریج میں معاونت کی۔ تحقیق کا آغاز 3 جولائی 2023ء (12 تیر 1402 شمسی) کو ہوا اور یہ 4 فروری 2026ء (15 بہمن 1404 شمسی) کو مکمل ہوئی۔
یہ تین جلدیں بین الاقوامی کانگریس کے مجموعۂ آثار کی چودھویں، پندرھویں اور سولہویں کتاب، جبکہ "عبقات الأنوار" کی نویں، دسویں اور گیارہویں جلد کے طور پر شائع کی گئی ہیں۔ پہلی اشاعت 2026ء میں ایک ہزار نسخوں پر مشتمل ہے، جس کا مقصد علامہ میر حامد حسین لکھنوی کے علمی ورثے کو نئی نسل اور علمی حلقوں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔
آپ کا تبصرہ