اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عالمی توانائی منڈیوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق مثبت پیش رفت پر فوری ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات سے متعلق ممکنہ رعایتوں اور بعض منجمد اثاثوں کی بحالی کی خبروں نے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کو کم کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق خام تیل برینٹ کی قیمت 1.53 ڈالر کمی کے بعد 79.04 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 76.53 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہوتا رہا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے امکان اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکیوں کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ کر 82.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں، تاہم سفارتی پیش رفت کی خبروں کے بعد مارکیٹ کا رجحان تیزی سے تبدیل ہو گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں ایک مشترکہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق بھی شامل ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد جغرافیائی سیاسی خطرات میں کمی آئی، جس سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ قطری اور پاکستانی ثالثوں کی کوششوں سے ایران کے بعض منجمد اثاثے آزاد کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات سے متعلق پابندیوں کو معطل کر دیا گیا ہے اور بحری پابندیوں میں بھی نرمی لائی گئی ہے۔
عراقچی کے مطابق یہ اقدامات ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے ایک وسیع منصوبے کا حصہ ہیں، جس کے اثرات مستقبل میں عالمی توانائی منڈی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ