بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
* امریکی ماہرِ معاشیات اور سیاسی تجزیہ کار پروفیسر جیفری سیکس (Jeffrey Sachs):
• امریکہ اپنی مرضی ایران پر مسلط نہ کر سکا، کیونکہ ایران کے پاس مضبوط اور جدید عسکری صلاحیت ہے۔
• پہلے ایران کو ہتھیار ڈالنے کا مشورہ دے رہے تھے لیکن وہ ایرانی طاقت پر بات کر رہے ہیں!
* شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد پروفیسرِ رابرٹ پیپ (Robert Pape):
• ایران ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جہاں وہ اپنی طاقت بڑھانے کا خواہاں ہے اور وہ پیسے یا دیگر چیزیں لینے پر راضی نہیں ہوتے بلکہ خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
* ہارورڈ یونیورسٹی کے تھیوریسٹ اور پروفیسرِ بین الاقوامی تعلقات، اسٹیفن والٹ (Stephen Walt):
• ٹرمپ کو اعتراف کرنا چاہئے کہ اس نے ایران پر جنگ مسلط کرکے غلطی کا ارتکاب کیا ہے، اس کے اندازے غلط تھے اور اس کو اس بحران سے باوقار طریقے سے نکلنے کا سوچنا چاہئے۔
• ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی ایک تزویراتی شکست تھی۔
• ایران نہ صرف گرا نہیں بلکہ وہ اپنی علاقائی طاقت مضبوط کرنے میں کامیاب رہا۔
* شکاگو یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسرِ اور نظریہ ساز جان میئر شیمر (John Mearsheimer):
• ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شکست تباہ کن تھی۔
• ہم ہار گئے۔ یہ امریکہ کے لئے ایک تباہ کن شکست ہے۔
• ریاستہائے متحدہ اور خاص طور پر صدر ٹرمپ یہ دکھاوا ضرور سکتا ہے کہ 'ہمارے پاس تمام پتے موجود ہیں اور بالآخر ہم جیت جائیں گے' لیکن ایسا ہوگا ہرگز نہیں۔
* یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے ڈائریکٹرِ تحقیقات جیریمی شاپیرو (Jeremy Shapiro):
• ایران کے خلاف ٹرمپ کا زیادہ سے زیادہ دباؤ کا نظریہ ایک مکمل شکست ہے۔ ایران آج 60٪ افزودہ یورینیم حاصل کر چکا ہے اور اپنے علاقائی اثر و رسوخ کو برقرار رکھا ہؤا ہے۔
* ممتاز امریکی تجزیہ کار اور سی این این کے میزبان فرید زکریا:
• ایران کے خلاف امریکہ کا زیادہ سے زیادہ دباؤ ناکام ہو چکا ہے اور ایران کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کا موجودہ طرزِعمل ناکام رہا ہے۔
• مرکز برائے اسٹریٹیجک اور بین الاقوامی مطالعات (CSIS) میں مشرقِ وسطیٰ ڈیسک کے سربراہ جان آلٹرمین (Jon B. Alterman):
• ایران نے ثابت کرکے دکھایا ہے کہ اس میں دباؤ برداشت کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ ایران ایک مسئلہ بنا رہے گا۔
* کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر ٹریٹا پارسی (Trita Parsi):
• ٹرمپ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے حوالے سے صدارتی یادداشت پر دستخط کرتے وقت، اپنے دعوؤں پر ٹھنڈا پانی انڈیل دیا اور اس پالیسی سے اپنی واضح ناراضگی کا اظہار کیا۔
* 'یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات' تھنک ٹینک کی ماہر ایلی گرانمایہ (Ellie Geranmayeh):
• ایران آج ایک جوہری دہلیز والی طاقت ہے اور زیادہ سے زیادہ دباؤ نے امریکہ کے بارے میں ایرانی عوام کے منفی رویے میں شدید اضافہ کیا ہے۔
* اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک میں ایران کے مستقبل کے اقدام کی ڈائریکٹر باربرا اسلاون (Barbara Slavin):
• ایران پر امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ سے الٹے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
* سینٹ کام کے سابق کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی، (Kenneth F. McKenzie):
• میں ذاتی طور پر ایران کے ڈرون پروگرام، کروز میزائلوں اور بیلسٹک میزائلوں کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں۔
برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کے سیاستدان فلپ ہیمنڈ (Philip Hammond):
• ہم ایران کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔
* روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف (Sergey Lavrov):
• ایران کے کے گرد حالات حوصلہ افزا ہیں؛ ایران اچھا جا رہا ہے۔
* ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان (Recep Tayyip Erdoğan):
• اسرائیل وہمیات میں مبتلا ہے۔
• نیٹو کے سابق کمانڈر جیمز اسٹاورائیڈس (James G. Stavridis):
• ایران کے پاس اب بھی طاقتور اوزار ہیں جو اس ملک کو جنگ جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔
* باراک اوباما دور میں قائم مقام مشیرِ برائے قومی سلامتی بین روڈز (Ben Rhodes):
• ایران 5 ہزار سالہ تہذیب والا ملک ہے، یہ ایسا ملک نہیں ہے کہ دباؤ اور حملے کے سامنے ہتھیار ڈال دے۔
* سی آئی اے کے سابق افسر اور تجزیہ کار لیری جانسن (Larry C. Johnson):
• ایران کی سنجیدگی نے ٹرمپ کا لہجہ بدل دیا۔
• ٹرمپ کے لہجے میں تبدیلی یقینی طور پر ایران میں ایک زبردست قوت کے وجود کے نتیجے میں آئی ہے۔
• امریکہ کو عالمی سطح پر طاقت کا نیا توازن قبول کرنا چاہئے۔
* ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی (Chris Murphy):
• ہم نے ایران کے ساتھ اپنے اطاعت نامے پر دستخط کر دیے۔
• اس جنگ میں امریکہ کو مکمل شکست ہوئی،
• جس تسلیم نامے اور اطاعت نامے پر ٹرمپ نے حال ہی میں دستخط کئے، اس کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
• اس جنگ میں جیت کا کوئی امکان نہیں تھا اور اسی وجہ سے ہم میں سے بہت سے لوگ شروع ہی سے اس کے مخالف تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: بہنام صدقی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ