بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اپنے اکاؤنٹ میں ایک پیغام جاری کرتے ہوئے امریکہ کی طرف سے "14 شقوں پر مشتمل مفاہمت نامے کی خلاف ورزی کے کلیدی ترین نمونے" کی طرف اشارہ کیا۔
انھوں نے اس پیغام میں "آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی"، "مزید فوجی حملوں کی مسلسل دھمکیاں"، "جنوبی ایران کے علاقوں پر حملہ"، "تیل کی برآمد کی پابندیوں کی بحالی" اور "لبنان پر صہیونی ریاست کی جارحیت کا تسلسل" کو اس مفاہمت نامے کی خلاف ورزی کے اہم ترین نمونے قرار دیا۔
ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نے اس پیغام کے آخر میں واضح کیا: "غنڈہ گردی اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا ہے؛ تم کسی بھی مقصد تک بھی نہیں پہنچ پاؤگے۔ ہم پیچھے ہٹنے اور اپنے حق سے پسپا ہونے والے نہیں ہیں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110

آپ کا تبصرہ