14 جولائی 2026 - 16:10
دوسری قسط | 45 سال سے جھوٹ کہا گیا کہ ایران علاقے کے لئے خطرہ ہے، عمان کے وزیر خارجہ

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے ایک مضمون میں لکھا کہ "ایران کے خطرے" کے بہانے اور جھوٹ کی بنیاد پر خلیج فارس کا علاقہ فوجی چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ فوجی اڈوں اور ہتھیاروں کی اتنی بڑی مقدار کوئی کارکردگی نہ دکھا سکی۔ / انھوں نے ایران کو 'قابو' کرنے کی نام نہاد پالیسی ترک کرنے اور علاقائی امن کے لئے ایک جامع اور علاقائی شراکتی ترتیب قائم کرنے کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے فرانسیسی اخبار لی مونڈے (Le Monde) میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں خلیج فارس کے سیکورٹی ڈھانچے میں بنیادی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، ایران کو 'قابو' کرنے کی نام نہاد پالیسی ترک کرنے اور علاقائی امن کے لئے ایک جامع اور علاقائی شراکتی ترتیب قائم کرنے کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری اور آخری قسط:

انھوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی خطے کی ریاستوں کے لئے کوئی وجودی خطرہ نہیں تھا اور حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ "ایران کو روکنے" کی پالیسی محض ایک افسانہ تھی۔

عمانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ خلیج فارس کی سیکورٹی کو سب سے بڑا خطرہ خطے کے اندر سے نہیں بلکہ باہر سے، ـ خاص طور پر تل ابیب سے آنے والے فیصلوں اور اقدامات کی صورت میں ـ ابھرتا ہے؛ لیکن بہرحال  یہ حقیقت اب عیاں ہو چکی ہے۔

البوسعیدی نے اس بات پر زور دیا کہ خلیج فارس کے آٹھ ساحلی ممالک (عمان، خلیج تعاون کونسل کے پانچ ارکان، عراق اور ایران) سب کے اپنی قومی مفادات ہیں اور سب مشترکہ سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ ان سب کو نئے سیکورٹی انتظامات کی تشکیل میں شامل ہونا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے پرانی قیاس آرائیوں کو ترک کرنا ہوگا اور یہ جائزہ لینا ہوگا کہ کس قسم کی شراکت داری حقیقی طور پر پائیدار سلامتی فراہم کر سکتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی لکھا کہ اس عمل میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے، گوکہ اس کا مطلب تعلقات منقطع کرنا نہیں ہے۔ یہ تعلقات تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور مستقبل میں بھی تعاون کے لئے ماحول فراہم کر سکتے ہیں، البتہ انہیں موجودہ اسٹراٹیجک حقائق کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔

البوسعیدی نے شمال مغربی بحر ہند کے وسیع علاقے کی اہمیت کا بھی ذکر کیا جو اہم بندرگاہوں اور آبی گذرگاہوں پر مشتمل ہے اور خلیج فارس کے ممالک کے بنیادی ڈھانچے سے منسلک ہے۔

انھوں نے مضمون کے آخر میں لکھا کہ یہ جنگ ایک تباہی تھی جو اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر شروع کی گئی اور جنگ شروع کرنے والے اپنے اعلان کردہ کسی بھی مقصد کو حاصل نہ کر سکے۔ لیکن اگر اس جنگ کے نتیجے میں خلیج فارس میں ایران کو 'قابو' کرنے کی پالیسی کا افسانہ دفن ہو جاتا ہے تو پھر مستقبل کے حوالے سے اچھائی کی امید رکھی جا سکتی ہے کہ ایک زیادہ منصفانہ، حقیقت پسندانہ اور موثر نظام ابھرے گا جو نصف صدی کی اسٹراٹیجک غلطیوں کو درست کر سکے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha