بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نے اعلان کیا: "ٹرمپ انتظامیہ ایران پر حملوں کے نئے دور کی تیاری کر رہی ہے۔ جاری سفارتی کوششوں کے باوجود، امریکہ کے کئی فوجی اور انٹیلی جنس عہدیداروں نے اپنی میموریل ڈے کی چھٹیاں منسوخ کی ہیں، کیونکہ توقع کی جاتی ہے کہ فوجی فرمان جاری ہوجائے۔
ٹرمپ کے پرانے مشیر اور پرسنل آفس کے سابق ڈپٹی سربراہ ڈین اسکاوینو (Dan Scavino) نے اپنے ورچوئل اکاؤنٹ پر بی-2 طیاروں کی ایک ویڈیو نشر کر دی۔ اس نے آخری بار ایران پر حالیہ امریکی-اسرائیلی جارحیت سے چند روز قبل، ایسی ہی تصاویر شائع کی تھیں۔
ٹرمپ کی دہشت گرد انتظامیہ میں بحریہ کے قائم مقام وزیر "ہنگ کاؤ" نے بھی اعلان کیا: "واشنگٹن نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے معاہدہ ملتوی کر دیا ہے تاکہ وہ مطمئن رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں، اس کے کافی جنگی ذخائر موجود ہیں۔"
ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور اسپیکر پارلیمان ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے افواج پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا: "ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اس انداز سے خود کو بحال کر دیا ہے کہ ٹرمپ کی حماقت اور جنگ کے دوبارہ آغاز کی صورت میں، ہمارا جواب امریکہ کے لئے پہلے روز سے کہیں زیادہ تباہ کن اور اور بہت زیادہ تلخ ہوگا۔"
نکتہ:
شاید مبصرین کے لئے باعث حیرت ہو لیکن ایرانی عوام جب سنتے ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے تو وہ شوق جہاد کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ امریکہ کے ساتھ جامع اور مستقل مصالحت کا کوئی امکان نہیں ہے چنانچہ وہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز سے، قائل ہیں کہ اگر فیصلہ ہونا ہے تو میدان جنگ میں ہوگا اور میدان جنگ میں ہی ہونا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ