23 جون 2026 - 10:54
حصۂ دوئم | آبنائے ہرمز کا انتظام ایرانی ترتیبات کے تحت، ایران کے ہاتھ میں باقی رہے گا، قالیباف

ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ نے سوئٹزرلینڈ میں چار فریقی مذاکرات سے واپسی کی پرواز کے دوران کہا: بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے، آبنائے ہرمز کو ایرانی ترتیبات کے تحت، چلایا جائے گا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ، ٹاکٹر محمد باقر قالیباف نے سوئٹزرلینڈ میں چار فریقی مذاکرات سے واپسی کی پرواز میں کہا: کچھ دوستوں کو لگتا ہے کہ سفارت کاری کا میدان فوجی میدان سے متصادم ہے؛ بنیادی طور پر یہ سوچ غلط ہے۔

حصۂ دوئم:

** آبنائے ہرمز کا انتظام ایرانی ترتیبات کے تحت، ایران کے ہاتھ میں باقی رہے گا

• ہم نے جنگ کے آغاز میں واضح پر کہا تھا کہ سب جان لیں کہ آبنائے ہرمز کا انتظام کبھی بھی جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس نہیں جائے گا۔

• بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی جائے گی اور آبنائے ہرمز ان قوانین کی رعایت اور ایرانی ترتیبات کے تحت، ایران کے ذریعے چلایا جائے گا اور خطے کی معیشت ترقی کرے گی۔

• ایک مواصلاتی لائن بنائی جائے گی جو صرف جہازوں کے مسائل یا ممکنہ حادثات کے حل کے لئے ہے تاکہ حقائق کو واضح کیا جاسکے، کوئی بدخوااہ ان حادثات سے غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ آبنائے کا انتظام ایران کے پاس ہے اور خرابیوں کو ہم دور کریں گے۔

• سوئٹزرلینڈ میں، ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد، ایرانی مذاکراتی ٹیم نے امریکی ٹیم کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے انکار کر دیا، کیونکہ ہمارے اپنے اصول ہیں اور ہم نے اِس لمحے تک کبھی امریکیوں کے ساتھ ایک فریم میں رہنا پسند نہیں کیا۔

• ثالث دوستوں نے امریکی فریق کے ساتھ مشترکہ گروپ فوٹو بنوانے پر میں اصرار کیا اور کہا کہ یہ مذاکرات کا آغاز ہے؛ لیکن ہم نے واضح کیا کہ ہم ان کے ساتھ ایک فریم میں شامل نہیں ہوں گے اور صرف مذاکرات کے لئے آئیں گے، بغیر کسی فریم اور کسی تصویر کے۔

• مذاکرات کے وسط میں مجھے معلوم ہؤا کہ ٹرمپ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی شان میں گستاخی کی ہے اور مذاکراتی ٹیم اور ہماری سرزمین پر حملوں پر مبنی دھمکی آمیز باتیں کی ہیں؛ چنانچہ میں نے وینس سے کہا کہ ہم یہاں مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ بھی دستخط شدہ مفاہمت کی بنیاد پر، جس کی پہلی دفعہ میں درج ہے کہ دھمکی اور طاقت کا استعمال نہیں ہوگا؛ لیکن آج آپ کے صدر نے دھمکی دی ہے۔ جان لیں کہ ہم کبھی بھی دھمکی اور طاقت استعمال کرنے کی وعیدوں کے موقع پر ہی مذاکرات نہیں کیا کرتے۔ چنانچہ ہم نے مذاکرات ختم کر دیئے، اجلاس سے باہر آئے اور دوبارہ اجلاس میں واپس نہیں گئے۔

• ہم نے قطری اور پاکستانی ثالثوں سے کہا کہ ہم آپ سے بات کریں گے، لیکن امریکی فریق سے بات نہیں کریں گے۔

• 80 منٹ کے ان مذاکرات اور گفتگو کا خلاصہ، ایک بیان تھا جو پاکستانی اور قطری فریق نے جاری کیا۔

** سوئٹزرلینڈ مذاکرات سے ایران کی چار اہم حصول یابیاں

• لبنان میں جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کا ایرانی انتظام، منجمد اثاثوں کی آزادی اور پابندیوں کا خاتمہ، سوئٹزرلینڈ کے سفر کی حصول یابیاں تھیں۔

** اتحاد و یکجہتی ولایت کے سائے

** ہمیں ولایت کے محور پر متحد رہنا ہوگا / جان لیں کہ آخری فیصلہ رہبر کا قول اور حکم ہے

مذاکراتی وفد کے سربراہ، ڈاکٹر قالیباف نے سوئٹزرلینڈ کے چار فریقی مذاکرات سے واپسی کی پرواز میں نشاندہی کی:

• تنقید اور آگاہی، تمام لوگوں کا حق ہے۔ البتہ چونکہ ہم جنگ میں ہیں، اگر ہم سب لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے سب کچھ کہہ دیں تو اسی حد تک دشمن بھی ہمارے رازوں سے آگاہ ہو جائے گا۔ لہٰذا ہم مجبور ہیں، نہ یہ کہ لوگوں پر بے اعتمادی کی وجہ سے، بلکہ اس لئے کہ دشمن ان رازوں سے غلط فائدہ نہ اٹھائے، چنانچہ ہم مجبور ہیں کہ بہت سے معاملات کی وضاحت نہ کریں۔

• ہم سب رہبر کے احکامات کے تابع و مطیع ہیں اور ہمیں واقعات پر کسی بھی قسم کا حاشیہ لگانے سے بچ کر رہنا چاہئے۔ ہمارا مشترکہ دشمن ہے اور ہمیں ولایت کے محور کے گرد متحد رہنا چاہئے؛ نہ کہ ان امور پر اتحاد جو ہم خود پسند کرتے ہیں۔

• اتحاد، رہبر کا حکم ہے؛ چاہے جنگ ہو، چاہے امن، چاہے مذاکرات ہوں چاہے ثقافتی میدان۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ فیصلہ کن اور آخری قول و حکم، رہبر کا قول اور حکم ہے۔

اختتام

-----------------

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha