بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "جو روگن (Joe Rogan)" کے ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے متنازعہ انٹرویو نے ـ جو بی بی سی نے شائع کیا ہے، ـ ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جو برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ابلاغیاتی حکمت عملی کا محور رہی اور وہ یہ "صہیونی ریاست" امریکہ میں رائے عامہ کو انجینئر کر رہی ہے اور امریکی معاشرے کی افکار میں ہیرا پھیری کر رہی ہے، اور وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والے میدان جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔ [۔۔۔] واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) کے معماروں میں سے ایک کی جانب سے یہ عدیم المثال اعتراف نہ صرف امریکی-صہیونی اتحاد کے اندر گہری دراڑ کو عیاں کرتا ہے بلکہ ایران کے سلامتی کے نظریئے میں ایک اسٹراٹیجک اصول کی تصدیق بھی کرتا ہے: ذہین مزاحمت اور 'جنگی میدان اور سفارت کاری کی ہم آہنگی' نے دشمن کو تعطل اور بند راستوں سے دوچار کر دیا ہے اور اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ دست بگریباں ہوچکے ہیں۔
حصۂ سوئم:
امریکی رائے عامہ میں ہیراپھیری میں اسرائیل کی ناکامی: حسینی انقلاب کے بیانئے کی فتح
حالیہ واقعات کا جائزہ بتاتا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں رائے عامہ کی تشکیل اور اس میں ہیراپھیری کی تل ابیب کی بھاری سرمایہ کاری، "جہاد تبیین (تشریحی اور تبصیری جہاد)" اور اسلامی انقلاب کی نرم طاقت کے مقابلے میں ماند پڑ کر ناکارہ بن گئی ہے۔ امریکہ میں طلبہ کی تحریکیں، کانگریس کے 104 اراکین کا اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کی فراہمی خلاف منفی ووٹ (جس میں کچھ ڈیموکریٹس بھی شامل ہیں)، اور بالآخر وینس کا تلخ اعتراف ـ یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ "مقاومت و مزاحمت" کا بیانیہ، ـ جو تحریکِ حسینی(ع) سے جنم لیتا ہے ـ مغربی میڈیا کی اجارہ داری اور صہیو-مغربی روایتی بیانیہ توڑنے میں کامیاب رہا ہے۔
ایران کا حسینی(ع) انقلاب کبھی بھی اپنے تزویراتی اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتا اور اس نے فائرنگ کی صلاحیت (الیکٹرانک جنگ اور دفاع میں شاندار پیشرفت) اور عزتمندانہ سفارت کاری کو ایک ساتھ رکھ کر مخالف قوتوں کو کو غیر فعال پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے خلاف نام نہاد مفلوج کن پابندیاں، ـ جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ مقاومت کی فورسز کو ختم کر دیں گی، ـ آج ایک تاریخی مذاق معلوم بن گئی ہیں؛ کیونکہ سپاہ خطے کی مساوات میں اپنی طاقت اور مرکزیت کے عروج پر، اب اپنے دشمن کے کیمپ میں سیاسی تزویراتی خود کشی کا تماشا دیکھ رہا ہے۔
نتیجہ: اتحاد میں دراڑ اور بالادستی کا زوال
• بی بی سی کا نشر کردہ یہ انٹرویو محض ایک خبر نہیں؛ بلکہ ایک عظیم جغرافیائی سیاسی تبدیلی کا اعلان و اظہار ہے۔
• امریکہ، جو کل تک "تمام آپشنز میز پر ہیں" کے بلند بانگ نعرے لگا کر اسلامی جمہوریہ ایران کو ہراسان کرنے کی کوشش کرتا تھا، آج اس کا نائب صدر چلاّ رہا ہے کہ اسرائیل نے اس کے ملک کی رائے عامہ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ
• ایرانوفوبیا (Iranophobia) کا پروجیکٹ اپنی سرنگونی کے نقطے (Tipping point) پر پہنچ چکا ہے اور
• اسلامی جمہوریہ کا "میدان اور سفارت کاری" کے فارمولے نے، امریکی تجزیوں کو بھی بدل کرکے رکھ دیا ہے۔
• آبنائے ہرمز سے لے کر جنیوا کی مذاکراتی میز تک، ایران نے ثابت کر دیا کہ اس کی سلامتی غیروں کی منت کرنے پر نہیں، بلکہ فعال تسدید (Active Deterrence)، مقامی دفاعی صلاحیت اور قومی اتحاد پر استوار ہے۔
• اب واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہے: یا تو
- صہیونی لابی کی گرفت میں رہ کر مزید گہرے دلدل میں دھنس جائے اور اپنی زوال پذیر سلطنت کے سقوط کی رفتار تیز تر کر دے؛ یا پھر
- طاقت کی منطق کو تسلیم اور ایرانی قوم کی مرضی کا احترام کرے۔
• یقینی امر یہ ہے کہ نفسیاتی دھونس اور دباؤ کا دور ختم ہو چکا ہے، امریکہ چاہے صہیونیوں کی فرسودہ رسی کے سہارے تاریخ کے کنویں میں گر جائے، خواہ اپنے زوال کی رفتار کم کرنے کی خاطر ایران کی طاقت و صلاحیت کو تسلیم کرے، کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ امر مسلّم ہے کہ "مقاومت و مزاحمت" پہاڑ کی مانند استوار ہے، جو تاریخ کے دھارے کو آزاد اقوام کے حق میں موڑ رہی ہے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: سید ابراہیم حسینی فرد
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ