28 جون 2026 - 10:24
حصۂ دوئم | آبنائے ہرمز نے واشنگٹن کا گلا دبا رکھا ہے/  امریکی تسلط پلٹانے کے راستے بند

امریکی مسلسل آبنائے ہرمز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا وزیر خارجہ ـ جو جنگ کے دوران خاموش رہنے والوں میں شامل تھا، ـ اب آسمان و زمین کے قلابے ملا کر دعویٰ کر رہا ہے کہ آبنائے کو جنگ سے پہلے کی حالت میں لوٹنا چاہئے اور ایران کو کسی بھی عنوان سے ـ خواہ وہ محصول ہو یا خدمات کی صورت میں ـ کچھ بھی وصول نہیں نہیں کرنا چاہئے۔ امریکیوں کا یہ رویہ بہترین گواہی ہے اس حقیقت کی کہ آبنائے کی صورتحال کبھی پہلے کی طرح نہیں ہوگی [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی مسلسل آبنائے ہرمز کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، یہاں تک کہ ان کا وزیر خارجہ ـ جو جنگ کے دوران خاموش رہنے والوں میں شامل تھا، ـ اب آسمان و زمین کے قلابے ملا  کر دعویٰ کر رہا ہے کہ آبنائے کو جنگ سے پہلے کی حالت میں لوٹنا چاہئے اور ایران کو کسی بھی عنوان سے ـ خواہ وہ محصول ہو یا خدمات کی صورت میں ـ کچھ بھی وصول نہیں نہیں کرنا چاہئے۔ امریکیوں کا یہ رویہ بہترین گواہی ہے اس حقیقت کی کہ آبنائے کی صورتحال کبھی پہلے کی طرح نہیں ہوگی بلکہ قطعی طور پر بدل جائے گی، کیونکہ اگر مفاہمت نامے کے مطابق آبنائے کو پرانی طرح ہونا ہوتا تو امریکی جانب اس قدر عجز و آہ نیز اس قدر نعرے اور رجز خوانیاں بے معنی ہوتیں!

حصۂ دوئم:

اس اعلان کے بعد، امریکہ اور اس کے بعض علاقائی شراکت داروں نے عمان کے ساحلوں پر متوازی راستے متعین کرکے، جہازوں کو فوج کی حفاظت میں، لے جانے کی کوشش کی تاکہ اس پابندی کو نظرانداز کیا جا سکے؛ لیکن گذشتہ چند دنوں کے مجموعی واقعات نے آشکار کر دیا کہ یہ اقدام نہ صرف ایران کے متبادل باضابطہ راستوں کا کوئی قابل اعتماد اور پرامن متبادل فراہم نہیں کر سکا بلکہ امریکہ اس کی علاقائی پیرو ریاستوں نے خود دنیا بھر کی توانائی کی انتہائی اہم اور حساس شاہراہ کو کافی حد تک بدامنی سے دوچار کر دیا ہے اور اس مقام پر عدم استحکام کے اسباب فراہم کئے ہیں۔

غیرمجاز راستوں کے نتائج کے بارے میں PGSA کی وارننگ

خلیج فارس آبی گذرگاہ کے انتظامی ادارے (خلیج فارس آبنائے اتھارٹی Persian Gulf Strait Authority [PGSA]) کی جانب سے جمعرات کو یہ باضابطہ اعلان، ـ کہ متعینہ راستوں سے باہر کوئی بھی آمدورفت محفوظ جہازرانی کی ضمانت سے محروم ہوگی اور انشورنس کوریج اور ادارے کی متعلقہ ذمہ داریوں کے دائرے سے خارج ہوگی، ـ متوازی راستے بنانے کے منصوبے کو لگنے والا پہلا شدید دھچکا تھا۔

اس ادارے نے سوشل نیٹ ورک 'ایکس' پر لکھا: "بار بار پوچھے گئے سوالات کے جواب میں اعلان کرتے ہیں؛ کہ PGSA کی متعینہ بحری حدود سے باہر کسی بھی راستے سے جہازرانی محفوظ گذر کی ضمانت میں شامل نہیں ہوگی اور انشورنس کوریج اور ادارے کی متعلقہ ذمہ داریوں سے مسفید نہیں ہو سکے گی۔ غیرمجاز راستوں سے آمدورفت کے نتائج، جہاز کے مالک، آپریٹر اور کمانڈر کے ذمے ہوں گے۔" یہ وارننگ ـ عملاً امریکہ کی طرف سے ایران کے اعلان کردہ ضوابط کو نظرانداز کرنے کی کسی بھی کوشش پر ـ پانی پھیرنے کے مترادف تھی اور اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی شپنگ کمپنی یا جہاز کا مالک ایران کی منظور شدہ چوکھٹے (اور ضآبطے) سے باہر کے غیر مجاز طریقے سے اعلان کردہ راستوں پر انحصار کرکے ضروری قانونی اور آپریشنل تحفظ سے مستقید نہیں ہو سکتا۔

ایرانی انتظامات آبنائے ہرمز سے گذرنے کا واحد قانونی راستہ

تھوڑی دیر بعد، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ نے بھی ایک بیان جاری کرکے زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے جہازرانی کا واحد قانونی راستہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اعلان کردہ راستوں کا انتخاب ہے اور ان راستوں سے باہر کوئی بھی آمدورفت خطرناک، غیرمجاز اور قابل گرفت ہوگی۔

اس بیان میں واضح کیا گیا ہے: "چند گھنٹے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کی اطلاع اور متعلقہ ادارے سے ہم آہنگی کے بغیر، بعض دیگر حوالوں سے، آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے لئے جہازرانی کے لئے نئے راستے کا اعلان کیا گیا ہے جو ناقابل قبول اور مکمل طور پر خطرناک ہے۔ سب کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت کا واحد مجاز راستہ وہی ہے جس کا اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا ہے؛ اس راستے سے باہر، جہازوں کی آمدورفت بہت خطرناک اور ممنوع ہے؛ اور ہم خبردار کرتے ہیں کہ شپنگ کمپنیاں نیز تمام تر بحری جہاز، اعلان شدہ راستوں سے باہر کسی بھی آمدورفت سے سختی سے گریز کریں۔ آبنائے ہرمز سے گذر کے لئے سپاہ نیوی کے ساتھ چینل 16 کے ذریعے ہم آہنگی لازمی ہے؛ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں سے سختی سے نمٹا جائے گآ۔"

جہازوں کا سپاہ بحریہ کے ساتھ چینل 16 کے ذریعے ہم آہنگی کی لازمی شرط نے بھی ظاہر کیا کہ اس آبی گزرگاہ میں آمدورفت کا عملیاتی انتظام اب بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے اختیار میں ہے۔

مبہم انتظامات کے ساتھ آبنائے سے جہازرانی کے قانونی نتائج

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور ڈاکٹر کاظم غریب آبادی کے موقف نے اسی حقیقت کو بین الاقوامی قانون کے زاویئے سے مکمل کر دیا؛ اور زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز کی ساحلی ریاست ہے اور ایران کے تحفظات کو مدنظر رکھے بغیر آبنائے سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی؛ اور یوں انھوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ کوئی بھی متوازی طریقہ کار ایران کی طرف سے متعین کردہ قانونی اور عملیاتی (Operational) انتظامات کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر غریب آبادی نے سوشل نیٹ ورک 'ایکس' پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا: "آبنائے ہرمز میں محفوظ جہازرانی کو ـ مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ساحلی ریاست کے طور پر ایران کی تحفظات کو نظرانداز کرکے، ـ یقینی نہیں بنایا جاتا۔ کوئی بھی معتبر چوکھٹا ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمت نامے کی پانچویں شق کے مندرجات پر مبنی ہونا چاہئے۔ بصورت دیگر، نتیجہ [غیر قانونی طور پر] متعینہ متوازی راستے کی معطلی کی صورت میں برآمد ہوگا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: رحیم زیادعلی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha