بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا:
- ایران پر حالیہ حملے سے پہلے، "نیتن یاہو" نہ صرف Situation Room میں "ٹرمپ" کے بغل میں بیٹھا رہتا تھا بلکہ بحث کی ہدایت کاری بھی کرتا تھا۔
- نیتن یاہو نے وعدہ دیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایک مشترکہ حملہ ایران میں شکست و ریخت کا سبب بنے گا۔ لیکن
- جب اس کی باتیں جھوٹی نکلیں تو حالات مختلف ہوگئے۔ دو اسرائیلی فوجی عہدیداروں کے مطابق، نیتن یاہو اس انداز سے ٹرمپ کے بغل سے دور کیا گیا کہ حتی اب وہ ایران اور امریکہ کے مذاکرات کی تفصیلات سے بھی بے خبر ہے۔"
نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان نورا کشتی اس وقت ابھر کر سامنے آتی ہے جب وہ عالم اسلام کے خلاف کسی سازش میں مصروف ہوتے ہیں۔ اب بھی لگتا ہے کہ یہ دو شیاطین کوئی کھچڑی پکانے میں مصروف ہیں۔
اسی وقت امریکہ اور صہیونی ریاست بڑي مقدار میں اسلحہ لائے ہوئے ہیں اور بن گوریون ایئرپورٹ امریکی جہازوں سے بھر گیا ہے، کچھ امریکی ذرائع نے کہا ہے کہ گویا وہ دونوں ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں لیکن ایک تجزیہ کار کہا کہنا تھا کہ "ایک فیصد امکان یہ بھی ہے کہ وہ ترکیہ پر حملے کی تیاری کر رہے ہوں!"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ