8 جون 2026 - 05:54
حصۂ دوئم | امریکہ سے اسرائیل کی جاسوسی نے پینٹاگون کی سرخ لکیر کو پامال کر دیا

نیویارک ٹائمز اور این بی سی نیوز نے انکشاف کیا کہ پینٹاگون نے اسرائیل کی جاسوسی کے خطرے کی سطح کو "اعلیٰ" سے بڑھا کر "بحرانی" کر دیا ہے۔ بنیادی ہدف، ایران کے معاملے میں ٹرمپ کا سینئر مذاکرات کار اسٹیو وٹکاف، اور پینٹاگون کے دو اعلیٰ عہدیدار تھے۔ واشنگٹن اور تل ابیب دونوں نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی دفاعی انٹیلیجنس ایجنسی (DIA) نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے کاؤنٹر-انٹیلی جنس خطرے کی سطح کو "اعلیٰ" (High) سے بڑھا کر اعلیٰ ترین یعنی "بحرانی" (Critical) کر دیا ہے۔ یہ اضافہ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف صہیونی ریاست کی جاسوسی سرگرمیوں میں شدید خدشات کے بعد کیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز اور این بی سی نیوز کے مطابق، DIA کی تشخیص نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی "انسانی جاسوسی اور تکنیکی جاسوسی" کی صلاحیت "بحرانی" سطح پر ہے۔

حصۂ دوئم:

خطرے کی سطح کو "بحرانی" تک بڑھانا عملاً یہ معنیٰ رکھتا ہے کہ DIA نے اسرائیل کے خطرے کی سطح کو امریکہ کے دیگر تمام اتحادیوں اور حتیٰ کہ واشنگٹن کے ساتھ مخاصمانہ تعلقات رکھنے والے بعض ممالک سے بھی بالاتر درجہ دیا ہے۔ امریکہ کے اتحادیوں میں، صرف جنوبی کوریا کی طرف کا جاسوسی کا خطرہ کبھی کبھار "اعلیٰ" سطح پر ہوتا ہے، جو "بحرانی" کے قریب بھی نہیں پہنچتا۔

تردیدیں؛ کھوئے ہوئے اعتماد کی پردہ پوشی

وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے، دونوں نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔ پینٹاگون نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، ایک انٹیلیجنس ایجنسی کی جانب سے خطرے کی سطح کو بلند ترین درجے تک بڑھانا، خود اس بحران کی سنگینی کی تصدیق کرتا ہے۔

یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا ہے جب دونوں ریاستیں ایران کے ساتھ جنگ کے مستقبل پر شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ امریکی ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں اس کو بیروت پر بمباری کی دھمکی دینے پر "دیوانہ" قرار دیا اور وہ فکر مند تھا کہ اس طرح کا اقدام ایران کے ساتھ امن مذاکرات کو برباد کر دے گا۔

اسٹراٹیجک اتحاد کے افسانے پر بطلان کی لکیر

یہ اسکینڈل ایک تلخ حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے: اسرائیل، جو سالانہ اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد پر انحصار کرتے ہوئے خطے کی سب سے ترقی یافتہ فوج بنا چکا ہے، اس حمایت کے عوض واشنگٹن کی قومی سلامتی اور فیصلہ سازی کے عمل کو اپنی جاسوسی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

خطرے کی سطح کو "بحرانی" تک بڑھانا عیاں کرتا ہے کہ پینٹاگون اب تل ابیب کے رویے کو محض اتحادیوں کے درمیان "ایک معمولی جاسوسی کارروائی" نہیں سمجھتا، بلکہ اسے اپنے بنیادی قومی مفادات کے لئے مکمل خطرہ تصور کرتا ہے۔

اس انکشاف کی رو سے، واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان "بے مثال تزویراتی تعاون" کے دعوے کی ساکھ ہمیشہ کے لیے داغدار ہو گئی ہے۔

سینٹکام (CENTCOM) میں اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ تعاون کرنے والے امریکی فوجی اہلکار اب اس سوال کا سامنا کر رہے ہیں کہ کیا وہ خفیہ معلومات جو وہ شیئر کرتے ہیں، بعد میں ان کے خلاف جاسوسی کے لئے استعمال نہیں ہونگی؟

یہ اسکینڈل ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے طریقے پر شدید اختلافات کے دوران، اتحادیوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیتا ہے اور نمایاں کرتا ہے کہ اسرائیل اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے امریکی قومی سلامتی کی خلاف ورزی سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اس معاملے کا سب سے بڑا شکار وہ اعتماد اور شراکت داری ہے جسے قائم کرنے میں دہائیوں کا وقت اور کھربوں کی رقم بطور لاگت آئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: فاطمہ کاوند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha