بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "جو روگن (Joe Rogan)" کے ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے متنازعہ انٹرویو نے ـ جو بی بی سی نے شائع کیا ہے، ـ ایک ایسی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے جو برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کی ابلاغیاتی حکمت عملی کا محور رہی اور وہ یہ "صہیونی ریاست" امریکہ میں رائے عامہ کو انجینئر کر رہی ہے اور امریکی معاشرے کی افکار میں ہیرا پھیری کر رہی ہے، اور وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف ایک نہ ختم ہونے والے میدان جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔ [۔۔۔] واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمت کی یادداشت (MOU) کے معماروں میں سے ایک کی جانب سے یہ عدیم المثال اعتراف نہ صرف امریکی-صہیونی اتحاد کے اندر گہری دراڑ کو عیاں کرتا ہے بلکہ ایران کے سلامتی کے نظریئے میں ایک اسٹراٹیجک اصول کی تصدیق بھی کرتا ہے: ذہین مزاحمت اور 'جنگی میدان اور سفارت کاری کی ہم آہنگی' نے دشمن کو تعطل اور بند راستوں سے دوچار کر دیا ہے اور اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ دست بگریباں ہوچکے ہیں۔
حصۂ دوئم:
صہیونی ریاست کا تزویراتی ہدف کیا ہے؟
صہیونی ریاست کا تزویراتی ہدف، ـ جیسا کہ وینس نے اشارتاً تسلیم کیا ہے ـ ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے سے کہیں آگے ہے؛ تل ابیب ایران میں "ایٹمی اور میزائل پروگرام کے مکمل خاتمے اور نظام کی تبدیلی" کا خواہاں ہے۔
مگر یہ علیل اور غیر صحتمند اور (Psychopathic) خواہش اور اسلامی جمہوریہ کی "جامع تسدید (comprehensive deterrence)" نامی حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتی ہے۔ صہیونی ریاست، جو خود سیاسی خانہ جنگی اور سلامتی کے لحاظ سے زوال کا شکار ہے، 'اپنی بقا اور اندرونی اتحاد و یکجہتی کو خطے میں بحران پھیلانے کے امتداد' کے سائے میں دیکھتی ہے اور اسی وجہ سے وہ کسی بھی ایسے معاہدے سے گھبراتی ہے جو ایران کو بین الاقوامی نظام میں ایک قانونی کھلاڑی کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔ وینس کا یہ اعتراف کہ "صہیونی سرغنے معاہدے سے مُتَنَفِّر ہیں" صہیونی ریاست کے اسی وجودی ہراس کا ثبوت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: سید ابراہیم حسینی فرد
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ