بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کونسل آن فارن ریلیشنز تھنک ٹینک کے قلمکار اور تجزیہ کار، اسٹیون کوک نے "وقت آ گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ مشرق وسطیٰ چھوڑ دے (یا 'امریکہ خلیج فارس سے بھاگنے پر مجبور کیوں ہے؟')" کے عنوان سے ایک مضمون میں، ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کو اسٹراٹیجک کامیابی سے عاری قرار دیا اور لکھا کہ اس جنگ کا اصل نتیجہ خطے میں امریکہ کی پوزیشن کا استحکام نہیں، بلکہ نتیجہ مشرق وسطیٰ سے واشنگٹن کے بتدریج انخلا کے عمل کی تقویت ہے۔
حصۂ چہارم
امریکی فوجی ڈھانچے اور فوجی مصنوعات کی خطے کی موجودہ سیکیورٹی و فوجی ضروریات سے عدم مطابقت
- سنہ 1971 میں خطے سے برطانوی انخلا اور امریکی تعیناتی کے دور کے برعکس، آج کوئی بھی طاقت خطے میں امریکہ کی جگہ لینے کے لئے تیار نہیں ہے
- چین، اگرچہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اپنے معاشی اور سیاسی تعلقات بڑھا چکا ہے، اس نے واشنگٹن کی مداخلتوں سے اچھا خاصا تجربہ سیکھ لیا ہے اور
- یہ نہیں لگتا کہ چین خطے کے پیچیدہ تنازعات میں پھنسنے کا خواہاں ہو۔ لہٰذا،
- امریکہ کا انخلا یا موجودگی میں کمی کا ضروری مطلب یہ نہیں کہ اس کی جگہ فوری طور پر کوئی اور طاقت لے لے گی۔ تاہم،
- امریکہ کے شراکت دار ممکنہ طور پر اپنی دفاعی ضروریات کی تکمیل کے لئے ہتھیاروں کے ذرائع متنوع بنانے کی طرف بڑھیں گے اور امریکہ پر انحصار نہیں کریں گے۔ کیونکہ
- 10 یا 20 یا 30 ڈالر کی لاگت والے ڈرونز روکنے کے لئے کروڑوں ڈالر کے امریکی میزائلوں کی خریداری، معاشی اور فوجی طور پر پائیدار نہیں [بلکہ نامناسب] ہے۔ لہٰذا،
- چین، جنوبی کوریا، ترکیہ، یوکرین اور یہاں تک کہ اسرائیل بھی! خطے کے ممالک میں امریکی دفاعی نظامات پر انحصار کم ہونے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؛ خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی، اینٹی ڈرون اور فضائی دفاع کے شعبے میں۔ (1)
ٹرمپ اگر امریکہ پر احسان کرنا چاہتا ہے تو امریکہ کو مشرق وسطیٰ سے نکال دے
- ٹرمپ امریکہ کا پہلا صدر ہے جس نے اپنے پیشرو صدور کے برعکس، ایران کے ساتھ جنگ میں داخل ہونے کے لئے آنے والے دباؤ کے سامنے سر خم کیا۔ کیونکہ
- امریکہ کے پچھلے صدور کو بھی جنگی منصوبوں، اسرائیلی رہنماؤں کے دباؤ اور ایران کے بارے میں تشویش کا سامنا تھا، لیکن
- پچھلے صدور نے آخرکار اس جنگ میں داخل ہونے سے گریز کیا، کیونکہ
- سابق امریکی سربراہان ایران پر حملوں کو غیر دانشمندانہ سمجھتے تھے۔ تاہم
- ٹرمپ نے یہ راستہ منتخب کیا اور اب،
- ٹرمپ کی اپنی ہی اس بڑی غلطی کو درست کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ پھر بھی ایسا کام کرے جو کسی امریکی صدر نے اب تک انجام نہیں دیا تھا اور وہ یہ کہ
- ٹرمپ ریاستہائے متحدہ کو مشرق وسطیٰ سے نکال دے۔
نتیجہ یہ کہ
- خلیج فارس کے عرب ممالک، اردن، مصر اور اسرائیل کو اس دور کے لئے تیاری کرنا پڑے گی جس میں امریکہ اب خطے کی سلامتی کا مرکزی ضامن نہیں ہے۔ البتہ
- واشنگٹن کے شراکت داروں کو اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ امریکہ کبھی بھی وہ مضبوط اور بھروسے کے لائق عنصر نہیں تھا جس کا وہ دعویٰ کرتا تھا؛ اور
- امریکی قیادت میں قائم علاقائی ترتیب پر مکمل انحصار کا دور ختم ہونے کو ہے۔
کوک کا آخری پیغام واضح ہے:
- جن ممالک نے دہائیوں تک امریکی نظام کے فریم ورک میں کام کیا ہے، انہیں بعدازیں، پہلے سے زیادہ، اپنی صلاحیت، پہل اور خود مختار حساب کتاب اور منصوبوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ [بےچارے کوک! امریکہ کے چلے جانے پر سوگوار ہیں، وہ سوگواری کر رہے ہیں، اور امریکہ کے جانے کے بعد امریکی اسلحے کی عدم فروخت کے لئے بھی پریشان ہیں، اور خطے کے ممالک کو اسلحے کے نئے ذرائع کا پتہ دے رہے ہیں، حالانکہ اگر امریکہ یہاں سے چلا جائے تو اس خطے کے ممالک کے لئے ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس خطے کے ممالک کے درمیان جنگ پر منتج ہونے والا کوئی تنازع نہیں پایا جاتا۔ ہاں مگر، اگر ان ممالک نے دینی اور عربی غیرت کی طرف پلٹ کر اسرائیل کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ ایران سے کافی مقدار میں جدیدترین، سستے اور انتہائی مؤثر ہتھیار لے سکتے ہیں، وہی ہتھیار جنہوں نے کوک کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ وہ آج امریکہ کو خطے سے چلے جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ