29 جون 2026 - 01:03
ایران پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے نجانے ہم کیا کر رہے ہیں، کرنل ڈگلس میک گریگور

پینٹاگون کے سابق مشیر اور امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگور کے حوالے سے لکھا: ایران کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی اور آج کا ایران، جنگ کے آغاز کے مقابلے میں فوجی اور سیاسی لحاظ سے زیادہ طاقتور پوزیشن میں ہے/ گذشتہ 1000 سالوں کے دوران مغربی ایشیا میں برتر طاقت ایران رہا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پینٹاگون کے سابق مشیر اور امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگور نے کہا: امریکہ آشفہ حالی کا شکار ہے اور اس کے پاس کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے اور وائٹ ہاؤس میں صرف ایک ہدف کا تعاقب کیا جا رہا ہے اور وہ اسرائیل کی مدد کرنا ہے!"

پینٹاگون کے سابق مشیر اور امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگور نے ویڈیو کلپ میں کہا:

یہ کہنا عجیب ہے کہ ایران جنگ ختم ہوئی ہے، میرا یہ خیال نہیں ہے۔

میں دبئی والوں کو بھی مشورہ دیتا ہوں کہ اپنے مستقبل کے بارے میں دو بار سوچیں۔ کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی۔

ایرانی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں لیکن یہ جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔

حال ہی میں لبنان پر اسرائیلی حملے کے بدلے میں ایران نے اسرائیل کو وسیع پیمانے پر میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

چنانچہ علاقہ جنگ سے محفوظ نہیں ہے یہ دعوے میرے لئے قابل فہم نہیں ہیں کہ جنگ ختم ہوئی ہے۔

اسرائیلی وزراء اس انداز سے بات کرتے ہیں کہ گویا ایران کی شکست  اسرائیل اور امریکہ کی فوج طاقت سے ممکن ہے؛ جبکہ اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

تو سب سے پہلے ہمیں ایک دوسرا مسئلہ واضح کرنا چاہئے اور وہ یہ کہ: ایران آج فوجی طاقت ـ حتی کہ سیاسی طاقت کے لحاظ سے بھی ـ جنگ کے آغاز کے دن سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہے؛ اور ہرگز طے نہیں ہے کہ وہ دشمن کے معاشی دباؤ کے سامنے ٹوٹ جائے گا۔

علاوہ ازیں، ایران کے پاس طاقتور اتحادی چین اور روس اور کچھ دوسرے ممالک بھی ہیں۔ 

یہ سوال پوچھنا کافی ہے کہ گذشتہ 1000 برسوں کے دوران مغربی ایشیا کا سب سے طاقتور ملک کونسا تھا؟

یہ ایرانی ہیں، ایرانی اب بیٹھے ہیں اور ہمیں دیکھ رہے ہیں اور سروں کو ہلا رہے ہیں اور کہتے ہیں: سچی بات ہے، کتنے بے وقوف لوگ ہیں یہ امریکی! وہ علاقے کو نہیں پہنچانتے! اس خطے کے لوگوں کو نہیں پہنچانتے، خطے کی سمجھ بوجھ بھی نہیں رکھتے۔

فارسی یا ایرانی مکمل طور پر حق بجانب ہیں، جبکہ "we don't know what the hell we are doing."

یہ بات سب کے لئے واضح ہونی چاہئے، اتنا ہی کافی ہے کہ آپ ٹرمپ کے منہ سے نکلنے والی بکواسات اور واہیات سن لیں؛ اور پھر چینل تبدیل کریں اور اس کے نائب جے ڈی وینس کی ہرزہ سرائیوں کو سن لیں!!

کوئی واضح اسٹریٹجی  نہیں ہے، کوئی بھی درست نہیں جانتا ہے کہ وہ (ٹرمپ) کیا حاصل کرنا چاہتا ہے! واحد چیز جو اس وقت وائٹ ہاؤس والے جانتے ہیں یہ کہ "ہم پر لازم ہے کہ اسرائیل کی مدد کریں!"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha