رجب طیب اردوان
-
اردوغان: مکہ معاہدہ عالم اسلام کے لیے اہم پیغام ہے، مثبت نتائج سامنے آئیں گے
ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے مل کر عالم اسلام کے لیے ایک پیغام دیا ہے اور مکہ میں ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں مثبت نتائج کا باعث بنے گا۔
-
رجب طیب اردوان کا نیا چہرہ؛
اسرائیل نے اسلام آباد مفاہمت نامہ تباہ کرکے رکھ دیا، رجب طیب اردوان
ترکیہ کے صدر، رجب طیب اردوان نے اسرائیلی اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس رجیم کے جھوٹ اور تخریب کاری نے ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمت نامے کو ناکام بنا دیا ہے۔
-
ترکیہ نے شامی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے سے استثنیٰ دے دیا
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوغان نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے شامی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ترکیہ میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنے سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ اس سہولت کا اطلاق سرکاری دوروں کے علاوہ سیاحتی اور ترکیہ سے گزرنے والے سفروں پر بھی ہوگا۔
-
پھر بھی نورا کشتی یا حقیقی اختلاف؟
نیتن یاہو کا اردوان پر زبانی حملہ
ترکیہ کے وزیر انصاف کی جانب سے نیتن یاہو کے لئے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی کارروائی شروع کرنے کے اعلان کے بعد صہیونی وزیر اعظم کے دفتر نے اردوان پر حملہ کیا اور ان کو "یہود دشمن ڈکٹیٹر" قرار دیا۔
-
اسرائیلی وزیر جنگ کی اردوان کو دھمکی، ترکیہ کو شام میں خطرناک مہم جوئی سے باز رہنے کا انتباہ
اسرائیلی وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ شام میں خود کو ’’خطرناک مہم جوئی‘‘ کی طرف لے جا رہا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے دفاع کے عزم کا امتحان لینے سے باز رہنے کا انتباہ بھی دیا۔
-
نیتن یاہو اردوان ہنی مون کا اختتام
اردوغان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور انہیں امریکہ تک پہنچائیں گے، نیتن یاہو
صہیونی ریاست کے وزیراعظم نے آج اپنے بیان میں کہا کہ ترکیہ کے صدر ہر روز اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ کرتے ہیں؛ ہم ان باتوں کو نظرانداز نہیں کرتے اور انہیں امریکہ تک پہنچائیں گے۔
-
اردوغان: صہیونی نظریہ پوری ترک قوم کو نشانہ بنا رہا ہے
ترک صدر کا کہنا ہے کہ صہیونیت کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ترکی کی سلامتی، خودمختاری اور قومی بقا کا معاملہ ہے۔
-
اردوغان: اسرائیل کے خلاف ہمارا مؤقف ملک کی بقا کے لیے ہے
اردوغان کے مطابق صہیونی نظریہ قبضہ، جارحیت اور نسل کشی پر مبنی ہے اور یہ صرف کسی فرد یا جماعت تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے خطرہ ہے۔
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
ایران کی فتح مغربی مشاہیر کی زبانی؛
دنیا ہر روز ایران پر زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کی حکمتِ عملی کی تزویراتی شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔ ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی سے لے کر نیٹو اور سینٹ کام کے سابق کمانڈروں تک، سب کا ماننا ہے کہ واشنگٹن نہ صرف اپنی مرضی تہران پر مسلط کرنے میں ناکام رہا بلکہ دباؤ کا بالکل الٹا نتیجہ نکلا: ایران زیادہ طاقتور اور زیادہ بےباک ہو گیا ہے اور ایک عالمی طاقت بننے کے دہانے پر ہے یا ایک عالمی طاقت بن چکا ہے اور اب دنیا کی سیاسی اور عسکری مفکرین امریکی حکمتِ عملی کی 'مکمل ناکامی' اور ایران کے ایک ایسی طاقت بننے کی بات کر رہے ہیں جسے نہ نظرانداز کرنا اور نہ ہی چھپانا، ممکن ہے۔
-
اردوغان: ترکیہ کی سلامتی بیروت، دمشق اور حلب سے شروع ہوتی ہے
لیڈ: ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ ترکیہ کی سلامتی صرف اس کی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ بیروت، دمشق اور حلب کی صورتحال سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انقرہ خطے پر کوئی نئی حقیقت مسلط نہیں ہونے دے گا اور ایسے منصوبوں کا مقابلہ کرے گا جو اس کے بقول اسرائیلی مقاصد کی تکمیل کے لیے ترتیب دیے جا رہے ہیں۔
-
اسرائیل نے ہزاروں افراد کا قتل عام کیا اور اور انہیں تاوان دینا پڑے گا قیمت چکا رہا ہے، اردوان
ترکیہ کے صدر نے عید فطر کی نماز کے موقع پر کہا: مشرق وسطیٰ بے چین اور غیر مستحکم ہے۔
-
صہیونیت نوازی کارگر نہ ہوسکی؛
ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بادل، صہیونی ماہر کا جائزہ
ترکیہ، سہ فریقی اسرائیل-یونان-قبرص اجلاس کو اپنے اوپر حملہ سمجھتا ہے۔ اردوان کے قریبی ترک اخبار "ینی شفق" - اردگان کے قریبی - نے اپنے صفحہ اول کی سرخی میں لکھا: "آج سے اسرائیل ہمارے لئے پہلے نمبر کا خطرہ ہے۔"
-
وزیرِاعظم پاکستان کے پیوٹن سے ملاقات کا انتظار کرنے کی خبر غلط نکلی!
آر ٹی انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیرِاعظم شہباز شریف کے بارے میں ایک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے "انتظار کر رہے تھے"۔ آر ٹی انڈیا نے وضاحت میں کہا ہے کہ یہ پوسٹ "واقعات کی غلط عکاسی" ہو سکتی تھی۔
-
صہیونیت کے گماشتے؛
غزہ اور فلسطین کے بارے میں ایران اور ترکیہ کے موقف کا موازنہ - 5
اسلامی جمہوریہ کے اس موقف کی حقانیت ـ کہ فلسطین کی آزادی پورے خطے کو عبرانی-مغربی محاذ کے تکبر، غنڈہ گردی اور اس کے جبر کی زنجیر سے پورے علاقے کی نجات کی کنجی ہے ـ دن کی روشنی میں دوحہ پر صہیونی بمباری اور شام میں 'ترک-اسرائیل حمایت سے قائم شدہ کٹھ پتلی حکومت!' کی عملداری اور لبنان پر روزانہ صہیونی حملوں کی بنا پر، بالکل ثابت ہو چکی ہے۔
-
صہیونیت کے گماشتے؛
غزہ اور فلسطین کے بارے میں ایران اور ترکیہ کے موقف کا موازنہ - 4
ایک ایسے شخص کے طور پر، جو ذاتی اور سیاسی طور پر اپنی شناخت ایک "اسلام پسند" کے طور پر کراتے ہیں، اردوان فلسطین اور قدس شریف کے مسئلے کو اسلامی دنیا پر اثر انداز ہونے کے ایک آلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ مسئلہ ان کی سیاسی شناخت کا حصہ ہے۔
-
صہیونیت کے گماشتے؛
غزہ اور فلسطین کے بارے میں ایران اور ترکیہ کے موقف کا موازنہ - 3
اسلامی جمہوریہ ایران نے عالمی "صہیونیت" اور اس کے حتمی مظہر "اسرائیلی ریاست" کے خلاف "مسلحانہ مزاحمت' پرمبنی جدوجہد کے ذریعے "فلسطین کی سالمیت" کے تحفظ کو اپنی حکمت عملی کے طور پر منتخب کیا ہے۔
-
صہیونیت کے گماشتے؛
غزہ اور فلسطین کے بارے میں ایران اور ترکیہ کے موقف کا موازنہ - 1
غزہ جنگ بندی کے بارے میں اردوان کا بیان 'منافقت' اور 'موقع پرستی' کا امتزاج ہے / سیکورٹی تعاون انقرہ تل ابیب تعلقات کے سب سے زیادہ مستحکم اور سب سے زیادہ خفیہ شعبوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اس تعاون کی تفصیلات مکمل طور پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔