دنیا ہر روز ایران پر زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کی حکمتِ عملی کی تزویراتی شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔ ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی سے لے کر نیٹو اور سینٹ کام کے سابق کمانڈروں تک، سب کا ماننا ہے کہ واشنگٹن نہ صرف اپنی مرضی تہران پر مسلط کرنے میں ناکام رہا بلکہ دباؤ کا بالکل الٹا نتیجہ نکلا: ایران زیادہ طاقتور اور زیادہ بےباک ہو گیا ہے اور ایک عالمی طاقت بننے کے دہانے پر ہے یا ایک عالمی طاقت بن چکا ہے اور اب دنیا کی سیاسی اور عسکری مفکرین امریکی حکمتِ عملی کی 'مکمل ناکامی' اور ایران کے ایک ایسی طاقت بننے کی بات کر رہے ہیں جسے نہ نظرانداز کرنا اور نہ ہی چھپانا، ممکن ہے۔
امریکی ماہر اقتصادیات نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے کے بارے میں اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ بالآخر ایرانی عوام سے انقلاب اسلامی کا بدلہ لینا اور اس کی توانائی اور قدرتی وسائل کو نگلنا چاہتا تھا۔ وہ ایرانی حکام کو خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ ناقابلِ اعتماد ہے۔
ایران اور امریکہ کا سمجھوتہ ٹرمپ کے اعلان کردہ اہداف و مقاصد سے پسپائی ہے، فرانسس فوکویاما / یہ معاہدہ تمام اسرائیلیوں اور ان کی اگلی نسل کے لئے غم انگیز ہے، ایلن بن ڈیوڈ/ ایران جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہو گیا ہے، ڈین شاپیرو/ امریکہ اور اسرائیل کمزور ہو گئے، جیفری ساکس۔
ماہر معاشیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس کہتے ہیں: جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ امریکہ میں حکمرانی کا زوال ہے، یہی نہیں بلکہ "فکر" کا زوال۔ یہ زوال اس جنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ ہم تمام شعبوں میں زوال دیکھ رہے ہیں۔ فکر و غور بالکل ناپید ہے۔ یہ جنگ کھلی جارحانہ اور بلا جواز جنگ ہے۔
پروفیسر جیفری ساکس کہتے ہیں: ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے معاہدے کو پھاڑ دیا۔ ٹرمپ نے اسرائیلی ریاست کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا۔ اسرائیلی ریاست اس معاہدے کو توڑنے کی خواہاں تھی مگر کیوں؟ کیونکہ مسئلہ کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کا نہیں تھا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے علاقائی تسلط (ہالادستی) کو برقرار رکھنے کا تھا۔ اسرائیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے نظام کا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔