بہنام صدقی
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
دوسری قسط | جب تک ٹرمپ طاقت کی زبان بولتا رہے گا، حقیقی امن قائم نہيں ہوگا
جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کے تھنک ٹینکس امریکی خارجہ پالیسی کو "طاقت کی زبان" سے مرتب کرتے رہیں گے، امریکہ کے ساتھ ایران کی کوئی حقیقی مفاہمت قائم نہیں ہوگی؛ یہ کوئی سیاسی پیش گوئی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "تہذیبی حکم" ہے۔ امریکہ اب بھی ـ ایران کے ساتھ معاملات میں ـ "سلامتی کے کلاسیکی نظریات" (Classic Security Theories) کا اسیر ہے [۔۔۔]
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
پہلی قسط | تہذیبی طاقت بمقابلہ فوجی طاقت / طاقت کی زبان حقیقی امن کی ضامن نہیں ہو سکتی
جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کے تھنک ٹینکس امریکی خارجہ پالیسی کو "طاقت کی زبان" سے مرتب کرتے رہیں گے، امریکہ کے ساتھ ایران کی کوئی حقیقی مفاہمت قائم نہیں ہوگی؛ یہ کوئی سیاسی پیش گوئی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک "تہذیبی حکم" ہے۔ امریکہ اب بھی ـ ایران کے ساتھ معاملات میں ـ "سلامتی کے کلاسیکی نظریات" (Classic Security Theories) کا اسیر ہے۔ [۔۔۔]
-
اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح
ایران کی فتح مغربی مشاہیر کی زبانی؛
دنیا ہر روز ایران پر زیادہ سے زیادہ امریکی دباؤ کی حکمتِ عملی کی تزویراتی شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔ ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی سے لے کر نیٹو اور سینٹ کام کے سابق کمانڈروں تک، سب کا ماننا ہے کہ واشنگٹن نہ صرف اپنی مرضی تہران پر مسلط کرنے میں ناکام رہا بلکہ دباؤ کا بالکل الٹا نتیجہ نکلا: ایران زیادہ طاقتور اور زیادہ بےباک ہو گیا ہے اور ایک عالمی طاقت بننے کے دہانے پر ہے یا ایک عالمی طاقت بن چکا ہے اور اب دنیا کی سیاسی اور عسکری مفکرین امریکی حکمتِ عملی کی 'مکمل ناکامی' اور ایران کے ایک ایسی طاقت بننے کی بات کر رہے ہیں جسے نہ نظرانداز کرنا اور نہ ہی چھپانا، ممکن ہے۔