بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کونسل آن فارن ریلیشنز تھنک ٹینک کے قلمکار اور تجزیہ کار، اسٹیون کوک نے "وقت آ گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ مشرق وسطیٰ چھوڑ دے (یا 'امریکہ خلیج فارس سے بھاگنے پر مجبور کیوں ہے؟')" کے عنوان سے ایک مضمون میں، ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی فوجی کارروائی کو اسٹراٹیجک کامیابی سے عاری قرار دیا اور لکھا کہ اس جنگ کا اصل نتیجہ خطے میں امریکہ کی پوزیشن کا استحکام نہیں، بلکہ نتیجہ مشرق وسطیٰ سے واشنگٹن کے بتدریج انخلا کے عمل کی تقویت ہے۔
کونسل آن فارن ریلیشنز (Council on Foreign Relations) تھنک ٹینک کے قلمکار اور تجزیہ کار، اسٹیون کوک (Steven A. Cook)، نے لکھا ہے:
- ٹرمپ نے اپنے بہت سے سابقہ اقدامات کی طرح، فتح کا اعلان کرکے جنگ کے نتیجے کو کامیاب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے؛ لیکن تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمت نامے کی دفعات، حقیقت کی مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی جنگ نے دنیا پر نئے سیکیورٹی، معاشی اور سیاسی اخراجات لاد لئے
- مفاہمت نامے میں سے شائع ہونے والی معلومات کی بنیاد پر، ایران اور امریکہ، ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات شروع کرنے والے ہیں؛ ایران کو ایک خصوصی استثنیٰ کے تحت 60 دن کی مدت کے لئے تیل برآمد کرنے کا موقع ملے گا اور ایران اتنی ہی مدت لئے آبنائے ہرمز کو کھول دے گا۔ تاہم
- آبنائے کی مستقبل کی صورت حال ابھی بھی مبہم اور غیر یقینی ہے۔
- ٹرمپ نے ہرمز میں جہازرانی کی آزادی کو جنگ سے پہلے کی صورت حال میں واپسی کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن
- ایرانی حکام نے کہا ہے کہ یہ صورت حال صرف مفاہمت نامے میں متوقعہ مدت تک برقرار رہے گی اور اس کے بعد، اس آبنائے سے گذرنے والے جہازوں کو محاصل ادا کرنا پڑیں گے۔
- اسی حقیقت سے ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے اور وہ یہ امریکہ بنیادی طور پر جنگ میں کیوں اترا؟
- اگر جنگ کا آخری نتیجہ ایٹمی کیس کے بارے میں مذاکرات میں واپسی، ایران کو تیل برآمد کرنے کی عارضی اجازت اور آبنائے ہرمز کو وقتی طور پر کھولنا تھا، تو اس صورت میں
- 28 فروری کو ایران پرامریکہ اور اسرائیل کی [مسلط کردہ] جنگ کے آغاز سے پہلے کی صورت حال امریکیوں، واشنگٹن کے علاقائی شراکت داروں اور عالمی صارفین کے لئے بہت بہتر تھی۔ چنانچہ
- اس جنگ نے نہ صرف ایران کا مسئلہ حل نہیں کیا، بلکہ خطے اور دنیا پر نئے سیکیورٹی، معاشی اور سیاسی اخراجات کا بوجھ بھی ڈال دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ