بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران نے حال میں برطانیہ اور بلغاریہ کو امریکی فوج کے سپرد کرنے کے حوالے سے دوٹوک انتباہات دیئے ہیں جو یورپ اور امریکہ کے اتحادیوں کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ یہ تنبیہات اور دھمکیاں: نیٹو کے اندر فوجی ہم آہنگی کو چیلنج کرکے یورپی ممالک کو واشنگٹن کی پالیسیوں کے لئے اپنی حمایت کی سطح پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ دوسری طرف، / یہ دھمکیاں عدم تحفظ کو یورپ کے بالکل اندر واقع فوجی اڈوں تک پھیلاد یں گے اور اس براعظم کی سلامتی کے فارمولوں میں بنیادی تبدیلیوں کا سبب بنیں گی۔
تیسری اور آخری قسط:
* دوسرا منظر نامہ:
• مسلسل دھونس دھمکیوں اور بڑھتی ہوئی محاذ آرائی جس میں ایران، اپنی ثابت شدہ تسدید پر بھروسہ کرتے ہوئے، نہ صرف پیچھے نہیں ہٹے گا، بلکہ اپنے دباؤ کے وسائل اور اوزاروں میں اضافہ کرے گا۔
• اس راستے میں، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ان کے تصور سے کہیں زیادہ بھاری اخراجات کا متحمل ہونا پڑے گا۔
علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جارح امریکہ کا ساتھ دینے والوں کا انجام
ایران نے حال میں برطانیہ اور بلغاریہ کو امریکی فوج کے سپرد کرنے کے حوالے سے دوٹوک انتباہات دیئے ہیں جو یورپ اور امریکہ کے اتحادیوں کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ یہ تنبیہات اور دھمکیاں:
• نیٹو کے اندر فوجی ہم آہنگی کو چیلنج کرکے یورپی ممالک کو واشنگٹن کی پالیسیوں کے لئے اپنی حمایت کی سطح پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ دوسری طرف،
• یہ دھمکیاں عدم تحفظ کو یورپ کے بالکل اندر واقع فوجی اڈوں تک پھیلاد یں گے اور اس براعظم کی سلامتی کے فارمولوں میں بنیادی تبدیلیوں کا سبب بنیں گی۔
تیسرے ممالک کی سرزمین سے کسی بھی دشمنانہ کارروائی کے خلاف ایران کے واضح اور فیصلہ کن موقف نے بین الاقوامی تعلقات میں نئی سرخ لکیریں کھینچ دی ہیں۔ یہ نقطۂ نظر، ـ آبنائے ہرمز پر ایران کی جائز حکمرانی زور دینے اور دنیا کی توانائی کے قواعد میں اس کے منفرد کردار کے ساتھ، ـ مغربی ایشیا میں سلامتی کی ایک نئی ترتیب (New Rregional Security Order) کے معرض وجود میں آنے کی طرف اشارہ ہے، جس میں غیر علاقائی طاقتوں کو اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس علاقے میں رہنا ان کے لئے بہت مہنگا پڑے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ محاذ آرائی میں اب نہ تو "دھمکی" کا کوئی سوال ہے نہ ہی "رد عمل" کا، بلکہ سوال اب مغربی ایشیا اور اس سے باہر، طاقت کی سطح اور قواعد کی نوعیت میں تبدیلی ہے۔
جو چیز حالیہ ہفتوں میں نمایاں ہوئی ہے وہ ایک اسٹراٹیجک حقیقت کی نقاب کشائی ہے جسے واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادی نظر انداز کرنے کی بھرپور مگر ناکام کوشش کر رہے ہیں؛ اور وہ حقیقت یہ ہے کہ: "خطے میں بلا قیمت اور قیمت ادا کئے بغیر، فوجی یکطرفہ پن، کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔"
حالیہ پیش رفت نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ نہ تو دھمکیوں سے ڈرتا ہے اور نہ ہی مذاکرات کو جنگ سے پسپائی کی علامت کے طور پر دیکھتا ہے؛ بلکہ حقائق کو قبول کرنے کی روشنی میں باعزت مذاکرات کو ایک ممکن راستہ سمجھتا ہے۔
ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ اسے کسی پیغام اور جوابی پیغام کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی شرطیں واضح، اس کی مفاہمت کی یادداشت شفاف ہے، اور خلیج فارس میں اس کی پوزیشن ناقابل تردید و ناقابل انکار ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خطے میں ایک دوراہے کا سامنا ہے
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا پڑے گا:
• اگر وہ "فوجی فتح" کے خواہاں ہیں تو وہ اس کا خواب بھی نہیں دیکھ پائیں گے۔ اور
• اگر وہ "پرامن حل" کے خواہاں ہیں تو انہیں خطے میں ایران کی آزادی، خودمختاری اور سالمیت و و عظمت کو ایک "حقیقت" کے طور پر تسلیم کرنا پڑے گا، نہ کہ صرف "دعوؤں" پر اکتفا کریں؛ [یا پھر اس حقیقت کو تسلیم ہی نہ کریں جس کو ملت ایران اور ایران کی مسلح افواج نے منوا کر مستحکم کر دیا ہے]۔
یہ ایک عہد [اور روایتی عالمی ترتیب یا World Order] کا خاتمہ اور مغربی ایشیا میں ایک نئی ترتیب کا آغاز ہے۔ ایک ایسی نئی ترتیب ہے جس میں قوموں کی مرضی غیروں کے توپ خانے اور ہوائی جہازوں پر غلبہ پائے ہو اور اسلامی جمہوریہ ایران، اللہ کی طاقت اور عوامی حمایت پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس نئی عالمی و علاقائی ترتیب کا علمبردار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ