اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی محقق اسٹیون اے کوک نے 26 مئی 2026 کو جریدے "فارین پالیسی" میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا کہ اسرائیلی رژیم کو امریکی فوجی امداد کم یا بند کرنے کا مطالبہ اب صرف حاشیے کی آواز نہیں بلکہ امریکی سیاسی فضا میں ایک اہم موضوع بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے امریکی سینیٹ میں حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپریل میں زیادہ تر ڈیموکریٹ سینیٹرز نے اسرائیل کو 295 ملین ڈالر مالیت کے بکتر بند بلڈوزرز اور 151 ملین ڈالر کے ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کی مخالفت کی، اگرچہ یہ معاہدہ آخرکار ریپبلکن حمایت سے منظور ہوگیا۔
کوک کے مطابق یہ ووٹنگ غزہ جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تل ابیب کی پالیسیوں کے حوالے سے ڈیموکریٹک پارٹی کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ڈیموکریٹس سے وابستہ آزاد سینیٹر برنی سینڈرز اسرائیل کو امریکی اسلحہ فروخت روکنے کے لیے چار تجاویز پیش کر چکے ہیں، جبکہ اپریل کی ووٹنگ پہلی بار تھی جب ڈیموکریٹ سینیٹرز کی اکثریت نے ان کا ساتھ دیا۔
اسٹیون اے کوک نے مزید لکھا کہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کو مشروط یا محدود کرنے کی بحث سات اکتوبر 2023 سے پہلے بلکہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت آنے سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ان کے مطابق برنی سینڈرز نے 2020 کے صدارتی انتخاب کے دوران تجویز دی تھی کہ امداد کو فلسطینیوں سے مذاکرات کی شرط سے مشروط کیا جائے۔
امریکی محقق نے فوجی امداد کے خاتمے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی نام نہاد دفاعی ضروریات کے اخراجات خود برداشت کرنے کی مالی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان 10 سالہ فوجی امدادی معاہدہ، جس کی مدت 2028 میں ختم ہو رہی ہے اور جسے 2038 تک بڑھانے کی بات ہو رہی ہے، اس نوعیت کا آخری معاہدہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس حوالے سے مختلف سیاسی شخصیات اور ماہرین کی آراء کا بھی ذکر کیا، جن میں یوسی بیلین، ڈینیل کرٹزر، وکٹوریا کوٹس، رابرٹ گرین وے، ڈینیل سامٹ اور لیکود پارٹی کے رکن آمیت ہالوی شامل ہیں، جنہوں نے بتدریج امداد ختم کرنے کی حمایت کی ہے۔
کوک نے کہا کہ امداد بند کرنے کے کچھ نتائج بھی ہوں گے، کیونکہ موجودہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو ملنے والی رقم امریکہ ہی میں خرچ کرنا ہوتی ہے، جس سے امریکی دفاعی صنعت میں ہزاروں ملازمتیں وابستہ ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل آئندہ دس برسوں میں 38 ارب ڈالر امریکی دفاعی شعبے میں خرچ نہیں کرتا تو روزگار کے بعض مواقع متاثر ہوسکتے ہیں۔
اسٹیون اے کوک نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امداد کا خاتمہ امریکہ کو اسرائیلی خلاف ورزیوں میں شراکت داری سے کچھ حد تک دور کر سکتا ہے، لیکن اس سے تل ابیب کی پالیسیوں کو روکنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اسرائیل متبادل ذرائع سے بھی اسلحہ حاصل کرسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل جتنا زیادہ عسکری خود انحصاری کی طرف بڑھے گا، واشنگٹن کا اثر و رسوخ اتنا ہی کم ہوتا جائے گا، اگرچہ ان کے بقول یہ تصور کہ امریکہ اسرائیل پر فیصلہ کن دباؤ ڈال سکتا ہے، کسی حد تک مبالغہ آمیز بھی ہے۔
مضمون کے اختتام میں اسٹیون اے کوک نے زور دیا کہ امریکہ کو اسرائیلی اقدامات کی سیاسی، اخلاقی اور تزویراتی قیمت مزید ادا نہیں کرنی چاہیے اور اب وقت آ گیا ہے کہ تل ابیب کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت پر دوبارہ غور کیا جائے۔
یہ مضمون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی فوجی حمایت کم یا بند کرنے کا مطالبہ اب صرف بائیں بازو یا فلسطین حامی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکی سیاسی ڈھانچے کے اندر، خصوصاً ڈیموکریٹک پارٹی میں، ایک مضبوط بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
آپ کا تبصرہ