3 اگست 2026 - 18:25
جنگِ ایران کے بعد صہیونی سکیورٹی حکمتِ عملی پر نظرثانی؛ ہرزلیا کانفرنس میں تزویراتی ناکامی کا اعتراف

ہرزلیا کانفرنس میں صہیونی سیاسی اور سکیورٹی ماہرین نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں بعض عسکری کامیابیوں کے باوجود مطلوبہ تزویراتی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، جس کے بعد اسرائیل اپنی سکیورٹی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کر رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بائیسویں ہرزلیا کانفرنس میں، جس کا موضوع "قومی سلامتی اور قومی استحکام" تھا، صہیونی حکام اور سکیورٹی ماہرین نے کہا کہ حالیہ فوجی حملوں سے اگرچہ ایران کے بعض بنیادی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا، تاہم ان حملوں سے وہ تزویراتی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے جن میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر روکنا اور اس کی میزائل و ڈرون صلاحیت کو کمزور کرنا شامل تھا۔

شرکاء نے اس بنیاد پر حالیہ جنگ کو تزویراتی اعتبار سے ناکام قرار دیتے ہوئے ایران کے ساتھ آئندہ مختلف نوعیت کی حکمتِ عملی کے تحت مقابلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ صہیونی رژیم کے روایتی سکیورٹی نظریے کے بنیادی ستون، یعنی روک تھام کی صلاحیت، پیشگی انتباہ اور فیصلہ کن عسکری کارروائی، بتدریج کمزور ہو رہے ہیں، لہٰذا اب "مسلسل پیشگی روک تھام" کی نئی حکمتِ عملی اپنانے اور بیک وقت متعدد محاذوں پر جنگ کی تیاری کی ضرورت ہے۔

شرکاء نے بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ داخلی مسائل، جن میں سماجی تقسیم، حریدی یہودیوں کی فوجی خدمت کا تنازع اور سماجی ہم آہنگی میں کمی شامل ہیں، کو بھی صہیونی رژیم کی قومی سلامتی کے لیے اہم چیلنج قرار دیا۔

کانفرنس میں امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے اور علاقائی اتحادوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ حالیہ پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ صرف عسکری برتری اور واشنگٹن کی حمایت پر انحصار کرکے سکیورٹی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے، اس لیے صہیونی رژیم کو خطے کی نئی حقیقتوں اور ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سکیورٹی حکمتِ عملی ازسرِنو مرتب کرنا ہوگی۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha