اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی ٹی وی چینل i24 News کے عسکری تجزیہ کار یوسی یہوشع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اور عسکری اداروں کے حکام ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے شدید مایوس ہیں، جس کے تحت گزشتہ ہفتے کے آخر میں کیے جانے والے ایک بڑے حملے کو منسوخ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب کے سکیورٹی حلقوں میں یہ تشویش پائی جا رہی ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ فیصلوں سے نہ صرف واشنگٹن بلکہ صہیونی رژیم کی ایران کے مقابلے میں بازدارک صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔
یوسی یہوشع کے مطابق، اسرائیلی حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹرمپ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے خواہاں نہیں تھے، تاہم اس کے باوجود تل ابیب نے ایران کی جانب سے ممکنہ اچانک حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنی عسکری تیاریوں اور ہائی الرٹ کی سطح میں اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکام اس عرصے کے دوران ایران کے خلاف پیشگی حملہ کرنے یا پھر امریکہ کی کارروائی کا انتظار کرکے بعد میں اس میں شامل ہونے کے دونوں آپشنز پر غور کرتے رہے۔
صہیونی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ تل ابیب کے اندازوں کے مطابق ایران امریکہ کو ایک نئی محاذ آرائی میں الجھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسرائیلی حلقوں کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر تہران کے خلاف اپنی دھمکیوں پر عمل کریں گے۔ ان کے بقول، ہر گزرتے دن کے ساتھ ایران کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کے تمام ممالک ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے حامی نہیں ہیں، اور بعض ممالک، جن میں متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے، نے حالیہ دنوں میں امریکی صدر سے ایران کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یوسی یہوشع نے کہا کہ اس کے باوجود جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ثالثی میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق قطر نے اس حوالے سے ایران کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے اور ایرانی سفارت کاروں کے مثبت ردعمل کے بعد سیاسی حل کی امیدیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔
انہوں نے آخر میں دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا اور ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی حکمت عملی اور مجوزہ حملوں کے بارے میں وضاحت بھی طلب کی۔
آپ کا تبصرہ