8 جون 2026 - 07:03
ایران یا لبنان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، وزارت خارجہ

وزارت خارجہ نے آج صبح ایک بیان میں ایران کی جانب سے اسرائیلی اہداف کے خلاف دفاعی حملوں کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ لبنان یا اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صہیونی ریاست کی کوئی بھی شرارت آمیز مہم جوئی، ایران کی بہادر مسلح افواج کے وسیع پیمانے پر تباہ کن جوابی اقدام کا باعث بنے گی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صہیونی ریاست کی طرف سے بار بار جارحیتوں اور جنگ بندی کی لاتعداد خلاف ورزیوں کے بعد، کل رات ایران کے میزائلوں نے فلسطین کی مقبوضہ اراضی میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا: "ہم خطے میں صہیونی رژیم اور امریکہ کی کسی بھی شرارت کا شدت سے جواب دیں گے۔"

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے آج صبح (پیر) 8 جون 2026ع‍ کو صہیونی ریاست کے اہداف پر ایران کے دفاعی حملوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا؛ جو درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

"فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ"

پچھلے دو ہفتوں کے دوران ایران کے جنوبی علاقوں میں ایرانی جہازوں اور اہداف پر حملوں میں دہشت گرد امریکی فوج کے ساتھ ہم آہنگی، اور ایرانی قوم کے خلاف بحری قزاقی میں امریکی رجیم کے ساتھ ہم قریبی تعاون اور لبنان پر حملوں کے اعادے جیسے صہیونی جرائم اور مورخہ 8 اپریل 2026ع‍ کی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور لبنان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اتوار (7 جون 2026ع‍) اور پیر (8 جون) کی درمیانی رات کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاعِ خود کے فطری حق کے دائرے میں، مقبوضہ فلسطینی سرزمینوں کے شمال میں متعدد [اسرائیلی] فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

* لبنان میں جنگ بندی، 8 اپریل 2026 کی جنگ بندی ممکنہ مفاہمت کا لازم حصہ تھی

اسلامی جمہوریہ ایران، اپنے اس پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ایرانی قوم کے قومی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لئے جہاں بھی ضروری سمجھے، ہر قسم کا ضروری اقدام عمل میں لاتا رہے گا۔

لبنان میں جنگ بندی، 8 اپریل 2026) کی ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کی مفاہمت کا لازمی حصہ تھی، اور صہیونی ریاست کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور ان سے پیدا ہونے والے اثرات، نیز خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی میں اضافے کی براہ راست ذمہ داری امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران خبردار کرتا ہے کہ لبنان یا اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صہیونی ریاست کی کوئی بھی شرارت آمیز مہم جوئی، ایران کی بہادر مسلح افواج کے تباہ کن کاروائیوں اور ہمہ جہت جوابی اقدام کا باعث بنے گی۔

دوسری طرف، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مشیر نے علی صفری نے المیادین چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک ماہ سے زائد صبر و انتظار کے بعد صہیونی جارحیتوں کا جواب  دیا۔ لبنان ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا بنیادی حصہ ہے؛ اور طے یہی پایا تھا کہ معاہدہ ایران کے ساتھ بیک وقت لبنان میں نافذ کیا جائے گا۔ ایران کی جانب سے بیروت کے جنوبی ضاحیہ پر حملہ نہ کرنے کی انتباہ کے باوجود، اسرائیلیوں کی طرف کی خلاف ورزیاں جاری رہیں۔ ایران کی مسلح افواج نے صہیونی ریاست پر ایک دفاعی حملہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سپاہ پاسداران کے شعبہ تعلقات عامہ نے اتوار کی رات ایک بیان میں اعلان کیا: جنوبی لبنان میں وسیع پیمانے پر صہیونی جرائم، صور اور نبطیہ کے علاقوں اور دیگر مقامات ـ بشمول ضاحیۂ بیروت ـ کے مظلوم عوام کے قتل عام اور بے دخلی کے جواب میں، ان جارحیتوں کے لئے استعمال ہونے والے رامات ڈیوڈ فضائی اڈہ سپاہ کی فضائیہ کے بیلسٹک میزائلوں کا نشانہ بنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha