28 جولائی 2026 - 03:54
ایران نے حالیہ جنگ میں امریکی بحری-فضائی بھوت کو شکار کر دیا + تصویری مجموعہ

آپریشن نصر 2 امریکی جارحیت کے اعادے کے جواب میں 8 سے 22 جولائی 2026ع‍ تک جاری رہا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے اس 15 روزہ جنگ کے دوران 8 ریفیولنگ طیاروں سمیت متعدد امریکی اثاثوں کو نابود کر دیا ہے اور ان تباہ شدہ امریکی اثاثوں میں ایک  پی 8 اے پوزیڈن بحری گشتی طیارہ بھی شامل تھا جو خطے کی ایک عرب ریاست کی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈے پر تعینات تھا۔ یہ ایک اسٹراٹیجک طیارہ ہے جسے امریکی بحریہ کے اہم ترین جنگی معلوماتی کا نظامات (Combat information systems) میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر پاسدار حسین محبی نے آپریشن 'نصر 2' کے حاصل کردہ نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے متعدد امریکی ہوائی جہازوں کی تباہی کی خبر دی، جن میں ایک پی 8 اے پوزیڈن (P-8A Poseidon) بحری گشتی طیارہ بھی شامل تھا۔

رپورٹ کا خلاصہ

آپریشن نصر 2  امریکی جارحیت کے اعادے کے جواب میں 8 سے 22 جولائی  2026ع‍ تک جاری رہا جس کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے  اس 15 روزہ جنگ کے دوران امریکہ کے 8 ریفیولنگ طیاروں سمیت متعدد امریکی طیاروں اور دیگر اثاثوں کو نابود کر دیا اور ان تباہ شدہ امریکی اثاثوں میں ایک  پی 8 اے پوزیڈن (P-8A Poseidon) بھی شامل تھا جو در حقیقت ایک بحری گشتی اور جاسوس طیارہ ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر حسین محبی نے اس انہدام کی تصدیق کی۔

 پی 8 اے پوزیڈن جاسوسی-گشتی-بحری- طیارہ بوئنگ 737 کی بنیاد پر تیار کردہ ایک جدید سمندری گشتی طیارہ ہے، جو جدید ترین ریڈار، صوتی سینسرز، الیکٹرانک جنگی آلات، مواصلاتی نظام اور گائیڈڈ ہتھیاروں سے لیس ہے۔ یہ نہ صرف ایک گشتی طیارہ ہے بلکہ امریکی بحریہ کا ایک اہم اڑتا ہؤا جاسوسی مرکز ہے، جو ڈسٹرائرز، آبدوزوں، جنگی طیاروں اور کمانڈ سینٹرز کو ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔

پوزیڈن کے دور کا آغاز اور P-3 Orion کے دور کا خاتمہ

چار دہائیوں تک P-3 Orion امریکی بحری گشت اور آبدوزوں کے خلاف جنگ کا ستون رہا، جو سرد جنگ کے دوران بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل میں سوویت آبدوزوں کی نگرانی کرتا تھا۔ مگر 21ویں صدی میں P-3 اورین کی فرسودگی، جدید آبدوزوں کی پیچیدگی، اور نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر کی ضروریات نے امریکہ کو اس کا متبادل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ P-8A Poseidon اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جو محض آبدوز شکار کرنے والا پلیٹ فارم نہیں بلکہ بحری میدان جنگ میں ایک معلوماتی اور جنگی ہیڈکوارٹر کا کردار ادا کرتا ہے۔

خلیج فارس کے پانچویں بحری بیڑے سے ایران کے خلاف جاسوسی کردار تک

خلیج فارس اور بحر عمان میں P-8A کی خاص اہمیت ہے، کیونکہ یہ توانائی کے راستوں، آبنائے ہرمز اور امریکی فوجی موجودگی کی نگرانی اور CENTCOM، NAVCENT اور بحرین میں موجود پانچویں بحری بیڑے کو معلومات فراہم کرتا تھا۔ خلیج فارس کی تنگ جغرافیائی حدود، جزائر، ساحلوں کی قربت اور بحری جہازوں کی کثرت کی وجہ سے معمولی اور غیر معمولی سرگرمیوں میں فرق کرنا بہت اہم ہے۔ P-8A اپنے جدید ریڈاروں اور سینسرز کے ذریعے پانی کے اوپر اور پانی کی سطح کے نیچے کے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی منظرناموں میں اس کا کردار براہِ راست حملہ نہیں، بلکہ جنگی میدان کی معلوماتی تصویر بنانا، بحری سرگرمیوں کی نگرانی، آبدوزوں کے خلاف ارروائیوں میں مدد اور دیگر سسٹمز کو ڈیٹا فراہم کرنا تھا۔ تاہم، یہ طیارہ ناقابلِ تسخیر نہیں اور فضائی دفاعی سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور جغرافیائی پیچیدگیاں اس کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

P-8A کا انہدام ایک اسٹراٹیجک کامیابی کیوں ہے؟

پوزیڈن P-8A کی اصل اہمیت اس کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ڈیٹا جمع کرنے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور معلومات کی ترسیل کی صلاحیت، میں ہے۔

اس طیارے کا انہدام محض ایک طیارے کا نقصان نہیں، بلکہ امریکی بحری معلوماتی نیٹ ورک کے ایک اہم حصے کو تہس نہس کرنے کے مترادف ہے۔

جدید جنگوں میں برتری کا انحصار میزائلوں اور طیاروں کی تعداد پر نہیں، بلکہ زیادہ تیزی سے دیکھنے، تجزیہ کرنے اور فیصلہ سازی کرنے پر ہے۔ چنانچہ

پوزیڈن P-8A کو نشانہ بنانا امریکی بحریہ کی "معلوماتی آنکھ" پر حملہ ہے، جو اس کی بحری میدان جنگ کی نگرانی اور آگاہی کو محدود کر دیتا ہے اور اس کے متبادل کی تعیناتی کے اخراجات میں اضافہ کرتا ہے۔

لہٰذا یہ انہدام امریکی بحری اطلاعاتی ڈھانچے پر ایک اہم ضرب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: مہدی طلوع وند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha