28 جولائی 2026 - 01:40
مغربی ایشیا میں واشنگٹن کو درپیش تزویراتی مخمصہ / نئی علاقائی ترتیب - 2

یہ ایک عہد اور دوسری عالمی جنگ کے فاتحوں کی بنی بنائی روایتی عالمی ترتیب (یا World Order) کا خاتمہ اور مغربی ایشیا میں ایک نئی ترتیب کا آغاز ہے۔ ایک ایسی نئی ترتیب ہے جس میں قوموں کی مرضی غیروں کے توپ خانے اور ہوائی جہازوں پر غلبہ پائے ہو اور اسلامی جمہوریہ ایران، اللہ کی طاقت اور عوامی حمایت پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس نئی عالمی و علاقائی ترتیب کا علمبردار ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ماضی کے حملوں کے تجربئے سے معلوم ہؤا ہے کہ یہ طریقہ کار ایران کا موقف تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے اور چونکہ تہران اپنی افواج کی بحالی نیز بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے  میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ یہ مسئلے کا حل نہیں تھا اور نہیں ہے۔

دوسری قسط:

واشنگٹن کے محدود آپشنز اور تزویراتی تعطل

بین الاقوامی میڈیا اور آزاد ماہرین کے تجزیوں سے عیاں ہے کہ وائٹ ہاؤس کو ایران کے خلاف محدود، مہنگے اور خطرناک آپشنز کا سامنا ہے:

امریکہ کے سامنے چار آپشنز ہیں:

1۔ فضائی حملوں میں اضآفہ:

ماضی کے حملوں کے تجربئے سے معلوم ہؤا ہے کہ یہ طریقہ کار ایران کا موقف تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے اور چونکہ تہران اپنی افواج کی بحالی نیز بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے  میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے چنانچہ یہ مسئلے کا حل نہیں تھا اور نہیں ہے۔

2۔ بحری جہازوں کی فوجی حفاظت:

یہ آپشن، اس سے پہلے بھی یکسر ناکام ہو چکا ہے، اپنے بھاری اخراجات، براہ راست تصادم کے زیادہ خطرات، اور بین الاقوامی اتحادیوں کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے آپریشنل اور موثر نہیں لگتا۔

3۔ محدود زمینی کارروائیاں:

وسیع افرادی قوت اور آلات کی ضرورت، بھاری جانی نقصان کے امکانات، اور امریکہ کے لئے ایک نئی دلدل بننے کے امکان کی وجہ سے یہ منظر نامہ بہت مہنگا اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ [واضح رہے کہ امریکہ نے اصفہان کے جنوب میں ایران کا یورینیم چرانے کے لئے ایک زمینی کاروائی کی کوشش کی جو شرمناک شکست میں تبدیل ہوگئی اور کاروائی میں شریک امریکی فوجیوں کو تقریبا 11 امریکی طیاروں کی تباہی کے بعد، اپنی لاشیں اٹھا کر بھاگنا پڑا اور اس کے بعد ہی ٹرمپ نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔]

4۔ مذاکرات کی طرف واپسی:

یہ آپشن، جو سب سے کم خرچ راستہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اس آپشن کو بھی ـ واشنگٹن کی عہدشکنیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے بداعتمادی اور خطے کے نئے حقائق کو قبول کرنے پر ایران کے اصرار کی وجہ سے ـ شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

یہ مجبوریاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لئے ایک تزویراتی تعطل کو نمایاں کرتی ہیں، جو اپنی ظاہری فوجی برتری کے باوجود، ایک ایسے ملک کے خلاف اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو مضبوط ارادے کا مالک ہے اور اس کے پاس دباؤ کے بہت سے اوزاروں سے لیس ہے۔

نعروں پر میدان کی برتری؛ طاقت کی غلط پذیری (Fallibility) کی داستان

اس جنگ میں، اسلامی جمہوریہ ایران نے مغرب کی سیاسی نفسیات کے گہرے ادراک کے ساتھ یہ نمایاں کیا ہے کہ امریکہ کی زبانی دھمکیاں طاقت کے چبوترے سے نہیں بلکہ کمزوری اور میدانی شکستوں کی تلافی کی خواہش سے جنم لیتی ہیں۔ واشنگٹن کے حکام کے متضاد بیانات امریکی رائے عامہ کو دھوکہ دینے اور اپنی طاقت کھو جانے کی حقیقت کو چھپا کر خود کو طاقتور بنا کر پیش کرنے کی کوشش ہے۔

اس کے مقابلے میں ایران نے پورے یقین کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ:

• اگر ہمارے بنیادی ڈھانچے امریکیوں کا ہدف ہدف ہیں تو پورے خطے میں جارحوں کا بنیادی ڈھانچہ ایرانی مسلح افواج کا ہدف ہوگا۔

• اگر ہمارا تیل نہیں نکلے گا اور نہیں بکے گا تو خلیج فارس سے کسی کا تیل بھی نہیں نکلے گا اور نہیں بکے گا۔

• اگر ہمارے لئے کوئی پل نہیں بچے گا تو خطے میں کسی کے لئے بھی کوئی پل نہیں بچے گا۔

ان واضح اعلانات نے "کھیل کے قواعد" میں نئی ​​سرحدیں کھینچ لی ہیں جس میں پہل اس کے پاس ہے جو نہ تو جنگ سے ڈرتا ہے اور نہ ہی ذلت کی قیمت پر امن خریدنے کا روادار ہے۔

مستقبل کے امکانات؛ تسدید (Deterrence) کا استحکام یا حقیقت پسندی کے سائے میں فراخی

اس تصادم کے مستقبل کو دو سے زیادہ منظرناموں کا سامنا نہیں ہیں:

* پہلا منظرنامہ:

امریکہ "نئی حقیقت" تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔ ایک حقیقت جس میں:

• آبنائے ہرمز [جو بین الاقوامی پانیوں میں شامل نہیں ہے اور ایرانی سرزمین کا اٹوٹ انگ ہے] پر ایران کی پوزیشن اور حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

• مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈے مزيد دباؤ کا اوزار نہیں ہونگے بلکہ کمزور اور زدپذیر اہداف ہونگے۔

• کوئی بھی بات چیت باہمی احترام پر مبنی اور کسی بھی ذلت آمیز پیشگی شرط سے مشروط نہیں ہوگی۔

یہ منظر نامہ تمام فریقوں کے لئے کم سے کم مہنگا آپشن ہے، لیکن اس کے لئے اس استکباری امریکی تکبر کو توڑنے کی ضرورت ہے جسے امریکہ ہضم کرنے سے قاصر ہے، [لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ وہ اس بار اس تاریخی پسپائی پر مجبور ہے]۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha