23 فروری 2026 - 04:11
دشمن کے 'بڑے لشکر' کے مقابلے کے لئے ایرانیوں کا 'طاقتورترین دفاعی ہتھیار' + ایک ویڈیو

طاقت کے اس قاعدے میں ایک 'ظاہر بین نگاہوں سے اوجھل' پوشیدہ حقیقت ہے، جس کا نام "خدا" ہے۔ یعنی کھوکھلی طاقتوں سے بے نیازی کا اعلان؛ اور اس طاقت پر بھروسہ جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ہمارا خدا، وہی طبس میں ریت کا طوفان اٹھانے والا خدا ہی ہے جس نے بڑی طاقتوں کے حسابات الٹ دیئے؛ وہی خرمشہر والا خدا جو خالی ہاتھوں مجاہدین کے ہاتھوں آزاد ہؤا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کیا آپ نے کبھی "ایک آیت کے ساتھ جینے" کا ذائقہ چکھا ہے؛ جس لمحے، کسی مصیبت کی شدت کے وقت، اچانک کوئی [قرآنی] آیت آپ کے دل میں ابھرتی ہے اور تمام پریشانیوں کو دھو ڈالتی ہے؟ یا کسی تقدیر ساز دوراہے پر، قرآن کریم میں سے کوئی ربانی کلام چمکتے ہوئے چراغ کی طرح اندھیری راہ کو روشن کر دیتا ہے۔ وہ آیت جو اب صرف کاغذ پر موجود متن تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک قریبی دوست، ایک دانا مشیر اور ایک محفوظ پناہ گاہ بن جاتی ہے۔

مستضعفین کا خدا تو یہیں ہے، نیوجرسی [ڈسٹرائر] کہاں ہے؟!

یہ تجربہ ـ وہی اکسیر ہے جو آج کی دنیا کے شور و غل میں روح و جان کو زندہ رکھتی ہے۔ ہم بھی ماہ مبارک کی ضیافت الٰہیہ کو قرآن کریم کی آیات مبارکہ کے ساتھ، مزید شیریں بنا نے کا ارادہ رکھتے ہیں:

"حَسْبُنَا اللَّهُ" یہ وہی جڑ ہے جسے میں نے اپنے دل کی گہرائی میں بو دیا ہے۔ یہ وہ ستون ہے جس پر میری روح نے ٹیک لگائی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میں نے بس اپنے دل کو ہر خوف سے خالی کر دیا ہے۔ تیرے سوا کسی پر نگاہ نہیں ڈالی۔ طوفانِ کے خطرات میں یہ آیت کریمہ میری کشتیِ جان کی سکان گیر ہے اور جہاں تک "نِعْمَ الْوَكِيلُ" کا تعلق ہے تو وہ ابدی پناہ گاہ ہے اور کوئی بھی اس کے قریب نہیں پہنچ پاتی۔

تمہارا سہارا کون ہے؟

"الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ؛ (سورہ آل عمران، آیت 173۔)

وہی لوگ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ 'لوگ تمہارے خلاف [جنگ کے لئے] جمع ہو گئے ہیں'، تو ان سے ڈرو [لیکن] اس بات سے ان کے ایمان میں اضافہ ہؤا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے تو بس اللہ ہی کافی ہے [جو] بڑا اچھا کارساز [اور حامی ہے۔"

دشمن کے 'بڑے لشکر' کے مقابلے کے لئے ایرانیوں کا 'طاقتورترین دفاعی ہتھیار' + ایک ویڈیو

کیا کریں کہ زندگی کے خطرات اور مشکلات ہمیں مایوس نہ کر دیں؟

نہ ٹوٹنے کا راز

طوفان سے گذرنا ہر کسی کا کام نہیں ہے۔ اس سے بھی مشکل یہ ہے کہ تیز آندھیوں کے جھکڑوں میں تھکا ہارا اور زخمی ہو کر پکار اٹھو: "مَا رَأَیْتُ إِلَّا جَمِیلًا؛ میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔" واقعی اس خاتون کا راز کیا تھا جس نے قتلگاہ کی بلندی پر اپنے بھائی کے لہو میں نہال جسم کا مشاہدہ کرکے صبر کا دامن تھاما؟ جس نے بے یار و مددگار بچوں کو ایک ایک کر کے بغیر پالانوں کے اونٹوں پر سوار کیا؟ جو یزید کے محل میں فاتحانہ انداز میں دشمن کو للکار اٹھی: "فَوَاللهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنا وَلَا تُمِيتُ وَحْيَنَا؛ خدا کی قسم، تم ہمارا نام لوگوں کی یادوں سے نہیں مٹا سکو گے اور ہماری وحی کو محو نہیں کرسکو گے۔" اس خاتون کے نہ ٹوٹنے کا راز کیا تھا؟ شاید یہی سادہ سے کلمات تھے: "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ؛ یعنی اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین سہارا اور بہترین حامی ہے۔" سیدہ زینب (علیہا السلام) کا سہارا یہی تھا جس کی بنا پر آپۜ نے تمام تر میدانوں میں، آخر تک قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔

دشمن کے 'بڑے لشکر' کے مقابلے کے لئے ایرانیوں کا 'طاقتورترین دفاعی ہتھیار' + ایک ویڈیو

میرا اور تمہارا سہارا کون ہیں؟

نفسیاتی جنگ کے خلاف چار لفظی دفاعی ڈھال

"ممکن نہیں ہے"، "تیرا حریف زیادہ طاقتور ہے"، "چھوڑ دو، پریشانی ہو گی۔" کیا یہ جملے جانے پہچانے نہیں ہیں؟ وہ جملے جو کبھی کسی دوست کی زبان سے زندگی کے میدان میں سنائی دیتے ہیں اور کبھی کسی میڈیا کی زبان سے جو "عالمی اتفاق رائے" سے ڈراتا ہے تاکہ ہمارا مایوس اور خوفزدہ کر دے۔ اس نفسیاتی کاروائی کا ایک ہی مقصد ہے: "کسی بھی اقدام سے پہلے ارادے کو مفلوج کر دینا۔"

مسلمان جب غزوہ احد سے ناکام، زخمی، تھکے ہارے، شہیدوں کا نذرانہ دے کر، اور مصیبت زدہ ہو کر لوٹے تو منافقین میں سے کچھ لوگ بیچ میں آ گئے اور کہنے لگے کہ دشمن کا ایک لشکرِ انبوہ تم سے جنگ کے لئے تیار ہے، ان سے ڈرو! لیکن عجیب بات ہے کہ دھمکیاں حقیقی مؤمنین کو میدان چھوڑنے پر آمادہ نہیں کر سکیں؛ بلکہ ارشاد ربانی ہے کہ ان دھمکیوں نے ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ کیا اور انہوں نے کہا: "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" (آل عمران-173) "خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین حامی و کارساز ہے۔"

میدان کے میں رہنے کے لئے ایک ذکر

"حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کا مطلب ہے کہ طاقت کے اس قاعدے میں ایک 'ظاہر بین نگاہوں سے اوجھل'، پوشیدہ حقیقت ہے، جس کا نام "اللہ" ہے۔ یعنی کھوکھلی طاقتوں سے بے نیازی کا اعلان؛ اور اس طاقت پر بھروسہ جو کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ہمارا خدا، وہی طبس میں ریت کا طوفان اٹھانے والا خدا ہی ہے جس نے بڑی طاقتوں کے حسابات الٹ دیئے؛ وہی خرمشہر والا خدا جو خالی ہاتھوں مجاہدین کے ہاتھوں آزاد ہؤا۔

"حَسْبُنَا اللَّه" کی بنیادی شرط

کائنات کی بڑی طاقت پر اس فعالانہ بھروسے کی ایک بنیادی شرط ہے جس پر انقلاب اسلامی کے رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) زور دیتے ہیں: "یقیناً 'حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ' کو کمرے کے گوشے میں، اور آرام دہ بستر پر، نہیں کہا جا سکتا۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم نہ کوئی کام کریں، نہ کوئی کوشش کریں اور بس کہہ دیں کہ: "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ!" نہیں، خدا اس شخص کو کفایت نہیں کرے گا [اور اس کا سہارا نہیں کرے گا] جو اس کی راہ میں جہاد نہیں کرتا۔ یہ کفایت میدان جنگ سے متعلق ہے۔"

لہٰذا، یہ اصول انفرادی زندگی میں بھی جاری ہوتا ہے جب ہم اپنی طاقت سے کسی بڑی مشکل کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اپنی محنت اور کوشش ترک نہیں کرتے اور اور نتیجہ اس [اللہ] کے سپرد کر دیتے ہیں۔ جب ہم ملک کی ترقی کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوتے ہیں اور دوسروں کے کھوکھلے وعدوں سے دل نہیں لگاتے اور ان کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے۔ یہ فعال توکل و اعتماد دشمن کے بوئے ہوئے خوف کو 'سکون' اور ایک 'بڑی فتح' کا 'موقع'  بنا دیتا ہے۔

جی ہاں! الحاج قاسم سلیمانی کا وہی مشہور قول کہ: "جتنے "مواقع" میں ہوتے ہیں، 'خود مواقع' میں نہیں ہوتے؛ بشرطیکہ نہ ڈریں اور نہ ڈرائیں۔"

آیت کے ساتھ عمل اور زندگی

● جب دشمن کے ذرائع ابلاغ "عالمی اتفاق رائے" اور "فوجی لشکر" کی بات کرتے ہیں تاکہ تمہارا دل خالی کر دیں، تمہیں مایوس و خوفزدہ کریں، تو یاد کرو کہ 'آیت کا منظر' یہی ہے۔ جو خدا 'آج' ہمارا حامی و پشت پناہ ہے، وہی طبس میں طوفان اٹھانے والا اور فتحِ خرمشہر والا خدا ہے۔

● تم ایک فنکار یا کھلاڑی ہو اور اپنے سوشل میڈیا پیج پر اپنے دین اور ملک کا دفاع کرنا چاہتے ہو، لیکن دشمن کی طرف سے اپنی کردار کُشی کی لہر اور مالی معاونت کرنے والوں کے معانت کھو جانے سے ڈرتے ہو؟ تو جان لو کہ تمہارا پشت پناہ خدا ہے، نہ کہ اشتہاری کمپنیاں۔

● اگر تم ایک ذمہ دار اہلکار ہو تو تشہیری مشینریاں دشمن کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور تمہیں ذلت آمیز فیصلوں کی طرف دھکیلتے ہیں، تو "حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنا حساب کتاب اللہ کی طاقت کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ دشمن کی دھمکیوں پر۔

● اگر رشتہ داروں اور دوستوں کے مجمع میں، سب لوگ مستقبل کی تاریک منظر کشی کرتے ہیں اور مجمع کا ماحول خراب کرتے ہیں؟ تو تم سکون و اطمینان کا سرچشمہ بنو؛ یاد دہانی کرا دو کہ "ہمارا حامی اللہ ہے" اور وہ اپنے مومن بندوں کے لئے کافی ہے۔

● کیا تم امر بالمعروف کرنا چاہتے ہو لیکن دوسرے "چھوڑ دو، تمہیں پریشانی ہو گی" جیسے جملے کہہ کر مایوس اور خوفزدہ کر رہے ہیں؟ تو تم "حَسْبُنَا اللَّهُ" کہہ کر اپنے قدم مضبوطی سے اٹھاؤ اور اپنا فرض ادا کرو۔

● اگر تم والدین ہو اور اپنی اولاد پر ہونے والی شدید ثقافتی یلغار کے سامنے بے بسی محسوس کرتے ہو، تو جان لو کہ تم اس مورچے میں اکیلے نہیں ہو؛ چنانچہ اللہ پر توکل کے ساتھ اپنا فرض ادا کرو اور اسے اللہ کے سپرد کر دو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: نرجس سادات موسوی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha