15 جولائی 2026 - 00:30
نام نہاد "حماسۂ غضب [ایپک فیوری] نے امریکی فوج پر کتنے اخراجات لاد لئے؟

فروری 2026 میں شروع ہونے والی ایران کے خلاف امریکہ کی حالیہ جنگ کے اخراجات کا تخمینہ بتاتا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کے مجموعی براہِ راست اخراجات تقریباً 40 بلین ڈالر رہے ہیں۔ یہ تخمینہ، جو CSIS کی طرف سے پیش کیا گیا ہے، چھ اہم اقسام کے اخراجات پر مبنی ہے جو صرف عام بجٹ کے مقابلے میں اضافی اخراجات پر مشتمل ہے۔ ذیل میں، ان چھ اقسام کو علیحدہ علیحدہ متعلقہ اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یہ تخمینہ CSIS (سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز) نے چھ اہم اقسام کے تحت پیش کیا ہے، جس میں صرف عام بجٹ پر اضافی اخراجات کو شامل کیا گیا ہے۔

نام نہاد "حماسۂ غضب [ایپک فیوری] نے امریکی فوج پر کتنے اخراجات لاد لئے؟

پہلی قسم:

تعیناتیوں اور نقل و حرکت کے اخراجات تقریباً 0.17 بلین ڈالر رہے، جس میں فوجیوں، سامان اور آپریشنل اڈوں کی منتقلی شامل ہے۔

دوسری اور سب سے بڑی قسم:

مهمات کے اخراجات تھے جو 26.1 بلین ڈالر بنے۔ اس جنگ میں 13,600 سے زائد گولہ بارود، بشمول مہنگے ٹوماہاک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، 13,000 اہداف پر استعمال کئے گئے۔ بعد میں سستے ہتھیاروں کے استعمال سے روزانہ لاگت کم ہوئی۔

تیسری قسم:

کارروائیوں کی شدت کے باعث اضافی اخراجات 0.75 بلین ڈالر رہے، جن میں پروازوں میں اضافہ، بحری جہازوں کی طویل موجودگی اور فوجیوں کو زائد مراعات کی  ادائیگی شامل ہے۔

چوتھی قسم:

سامان کے نقصانات کا تخمینہ 1.8 سے 3.5 بلین ڈالر ہے، جس میں 42 طیارے (اور 180 ڈرون) مکمل طور پر تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔

پانچویں قسم:

اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان 4 سے 9.4 بلین ڈالر تک ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے سینکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچایا، تاہم سیٹلائٹ امیجری تک مکمل رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اس تخمینے میں ابہام ہے۔

چھٹی قسم:

دیگر اخراجات جیسے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ (1.4 بلین ڈالر) اور سیکیورٹی/اوور ٹائم اخراجات (0.1 بلین ڈالر) ہیں، جبکہ دیگر سرکاری اداروں پر تقریباً 1 بلین ڈالر کا اضافی بوجھ پڑا۔

نتیجہ:

اس جنگ کا مالی بوجھ زیادہ تر جدید ہتھیاروں کی کھپت اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات پر مشتمل ہے۔ CSIS کا تخمینہ دیگر تخیمنوں کے درمیانی درجے پر ہے۔ جنگ کے اختتام پر اصل چیلنج میدانِ جنگ نہیں، بلکہ امریکی بجٹ میں ان اخراجات کی مالی فراہمی ہے۔

نکتہ:

واضح رہے کہ یہ اخراجات وزارت جنگ کی رپورٹوں کی بنیاد پر پیش کئے گئے ہیں، اور اصل اخراجات کا پتہ اس وقت لگے گا جب ٹرمپ کی حکومت کے خاتمہ ہوگا اور مخالف پارٹی برسراقتدار آئے گی۔ فی الحال سینسرشپ کا دور ہے اور رازاداری پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے اور مثلا کہا جا رہا ہے کہ اس جنگ مین 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ یہ تعداد ہزاروں میں ہے اور ٹرمپ کی ایپک فیوری در حقیقت حماسۂ شرمساری میں بدل گئی ہے جبکہ منصف لوگ اس کو "اپسٹین فیوری" بھی کہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha