27 جولائی 2026 - 22:54
مغربی ایشیا میں واشنگٹن کو درپیش تزویراتی مخمصہ / نئی علاقائی ترتیب - 1

یہ ایک عہد اور دوسری عالمی جنگ کے فاتحوں کی بنی بنائی روایتی عالمی ترتیب (یا World Order) کا خاتمہ اور مغربی ایشیا میں ایک نئی ترتیب کا آغاز ہے۔ ایک ایسی نئی ترتیب ہے جس میں قوموں کی مرضی غیروں کے توپ خانے اور ہوائی جہازوں پر غلبہ پائے ہو اور اسلامی جمہوریہ ایران، اللہ کی طاقت اور عوامی حمایت پر بھروسہ رکھتے ہوئے اس نئی عالمی و علاقائی ترتیب کا علمبردار ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ایران کے خلاف ٹرمپ کے تمام آپشنز یا تو ناکام ہو چکے ہیں یا اگلے ایام میں ایک نئی دلدل بن جائیں گے، اور اب ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک ناقابل تردید آلے اور اوزار میں تبدیل کر کے اور خطے سے دور دراز واقع امریکی اڈوں کو خطرے میں ڈال کر مغربی ایشیا میں واشنگٹن کا سیاسی اور فوجی نقشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا ہے۔

تاہم، اہم سوال یہ ہے کہ: جب آپشنز ختم ہو جائیں گے، کیا ریاست ہائے متحدہ "نئی حقیقت" کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا یا وہ ایک ایسے تنازع کی طرف بڑھے گا جسے کوئی کنٹرول نہیں کر سکے؟ [کیا 'واشنگٹن تھوسیڈائڈز' کے جال میں (Thucydides' trap) پھنس جاتا ہے یا نہیں؟]

چونکہ خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، اسلامی جمہوریہ ایران نے سختی سے اعلان کیا ہے کہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کے لئے تیسرے فریق کی سرزمین کا استعمال ناقابل برداشت ہے اور دھمکی دی ہے کہ وہ کسی بھی خطرے اور دھمکی کا جواب دے گا، اور چاہے وہ کسی بھی فریق کی طرف سے، اور جہاں سے، بھی ہو۔ اس انتباہ نے امریکیوں کی طرف سے ایران کے خلاف حملوں میں شدت لانے کے لئے برطانیہ اور بلغاریہ میں فوجی اڈوں کے ممکنہ استعمال کے ساتھ ساتھ، موجودہ بحران کا پیمانہ وسیع تر کر دیا ہے۔

دھمکیوں کے مقابلے میں آہنی عزم

اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے بیانات کے تجزیئے سے معلوم ہوتا ہے کہ تہران، اپنی میدانی تسدید (Field Deterrence) پر بھروسہ کرتے ہوئے، یہی سمجھتا ہے کہ واشنگٹن کی زبانی دھونس دھمکیاں، اس کی کمزوری ـ اور براہ راست تصادم میں داخل ہونے سے اس کی عاجزی ـ سے جنم لیتی ہیں۔

ایرانی حکام خلیج فارس اور اردن میں اپنے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے، سمجھتے ہیں کہ کھیل کے اصول بدل چکے ہیں اور کوئی بھی ملک ـ جو اپنی سرزمین کو ایران کے دشمنوں کے قبضے میں دے دیتا ہے ـ اسے سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

یہ نقطہ نظر امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو بھی واضح پیغام دیتا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ فوجی تعاون کی قیمت بہت بھاری اور ناقبل تحمل ہو سکتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت پر زور دیتے ہوئے اس اہم آبی گذرگاہ کو دباؤ کا بے مثال آلہ بنا دیا ہے۔ یہ اعلان کرنے میں حکام کی صراحت اور فیصلہ کن عزم  اور ـ "آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے کی صورت حال میں نہیں پلٹے گا" اور تیل کی فروخت کے میدان میں "سب بیچیں گے یا کوئی بھی نہیں بیچ سکے گا" کا ـ فارمولا نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اس تصادم میں اپنے تمام کارڈ استعمال کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha