بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یمن کی وزارت نقل و حمل نے آج پیر کو ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا کہ سعودی جنگی طیاروں نے آج صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بمباری کا نشانہ بنایا اور یہ "امریکی حمایت سے ریاض کی طرف کی ناکہ بندی اور جارحیت جاری رکھنے پر اصرار" کا اظہار ہے۔
اس بیان میں سعودی رجیم کو "آنے والے تمام نتائج کا مکمل ذمہ دار" قرار دیا گیا ہے۔
گوکہ گذشتہ ہفتے ایران کے ماہان ایئر لائنز کی یمن کے لئے پرواز کے بعد امامِ شہیدِ امت کے جنازے میں شریک ہونے والے یمنیوں کی منتقلی کے لئے، تہران-صنعاء-تہران کی باقاعدہ پرواز بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، سعودی فریق نے آج پیر کو خطے میں صہیو-امریکی محاذ کی پیروی کرتے ہوئے بدامنی کا دائرہ پھیلانے کی غرض سے تخریبی کردار ادا کیا اور بددیانتی کے ساتھ صنعاء ایئرپورٹ پر جہازوں کی لینڈنگ روکنے کے لئے رن وے کو تباہ کرکے اس اقدام کو روک دیا۔
آج ماہان ایئر لائنز کا ایک طیارہ یمنی عوام کے لئے ایران کی طبی اور انسانی امداد کی منتقلی اور امامِ شہیدِ امت کے جنازے میں شریک یمنی وفد کو واپس لے جانے کے لئے صنعاء ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہؤا، لیکن سعودی فریق نے صنعاء ہوائی اڈے کے رن ویز پر وحشیانہ حملے کئے جس کے بعد، اس طیارے نے نے اپنا راستہ بدل دیا اور یمن کے مغرب میں الحدیدہ ہوائی اڈے پر اتر کر یمنی وفد اور ادویات کے کی کھیپ کو منزل تک پہنچایا۔ یمن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ سعودیوں نے یہ حملہ ایرانی طیارے کو اترنے سے روکنے کے لئے کیا ہے۔
یمن کی وزارت نقل و حمل نے آج صنعاء ہوائی اڈے کے رن ویز پر فضائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس اقدام کو "واضح جارحیت اور یمن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی" اور "ایک دہائی سے زائد عرصے سے یمن کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر مسلط کردہ ناکہ بندی کے تسلسل" کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے "ہزاروں مریضوں اور مسافروں کو ان کے کم از کم انسانی حقوق سے محروم کرنے" کے ارادے سے کیے گئے ہیں۔
یمن کی وزارت نقل و حمل نے اس بیان میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن کی طویل ناکہ بندی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھائیں اور "دوہرے معیاروں کو ترک کرکے" جارحیت اور ناکہ بندی کے واقعات کے ساتھ "واحد معیار" کے ساتھ پیش آئیں۔
صنعاء حکومت کی وزارت نقل و حمل نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ "سعودی جارحیت بلا جواب اور بلا سزا، نہیں رہے گی۔" اور یہ کہ "یمن پر بیرونی تسلط اور سرپرستی کا دور ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکا ہے۔"
واضح رہے کہ یمن دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے، اور اپنی خوراک اور ادویات کی تقریباً 90 فیصد ضروریات کو درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے اور اس کی 80 فیصد سے زائد آبادی علاج کے لئے بیرونی سفر اور نقل و حرکت کے لئے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر منحصر ہے، سعودی رجیم فضائی ناکہ بندی اور اس ہوائی اڈے کے رن ویز پر بمباری جاری رکھ کر لاکھوں یمنیوں کو ان کے انتہائی سادہ سے انسانی حقوق سے محروم کئے ہوئے ہے۔
یمنی حکام نے اعلان کیا ہے کہ صنعاء اور تہران کے درمیان شہری پروازوں کا سلسلہ، صنعاء ہوائی اڈے پر مسلط پابندیوں کو توڑنے اور ایک دہائی سے زائد عرصے سے یمنی عوام پر مسلط ناکہ بندی ختم کرنے کی جانب ایک مؤثر قدم ہے۔
یمن کے نائب وزیر خارجہ نے بھی صنعاء ہوائی اڈے کی ناکہ بندی توڑنے میں ایران کے کردار کو سراہتے ہوئے اس اقدام کو دو قوموں کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا مظہر اور مریضوں، زخمیوں اور بھٹکتے ہوئے مسافروں کی منتقلی کی سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔
یمن کے مغرب میں الحدیدہ ہوائی اڈہ، صوبۂ الحدیدہ میں، بحیرہ احمر کے کنارے واقع ہے اور امریکی اور صہیونی ریاست نے گذشتہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ اس ہوائی اڈے پر بمباریاں کی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، الحدیدہ بندرگاہ نے بھی گذشتہ متعدد بمباریوں کے باوجود اپنی سرگرمیوں کی صلاحیت مکمل طور پر بحال کر لی ہیں۔
تاہم، الحدیدہ ہوائی اڈہ صنعاء ہوائی اڈے کا مناسب متبادل نہیں ہو سکتا۔
اسی دوران اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ صنعاء ہوائی اڈے میں کسی بھی قسم کا خلل، یمن میں درآمدی سامان کی نقل و حمل اور انشورنس کے اخراجات میں شدید اضافے کا باعث بنے گا اور انسانی بحران کی شدت میں بھی اضافہ کرے گا۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، اقوام متحدہ نے 22 ملین سے زائد یمنیوں کی انسانی امداد کی فوری ضرورت کا اعلان کرنے کے باوجود، اب اس امداد میں کمی کر دی ہے!
یمنی حکام نے تاکید کی ہے کہ صنعاء ہوائی اڈہ دارالحکومت کا بیرونی دنیا سے واحد شہری فضائی رابطہ ہے اور اس کی ناکہ بندی ایک قسم کی اجتماعی سزا اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ