25 جولائی 2026 - 18:49
سعودی آرامکو پر یمنیوں کی دوسرا بڑا وار، سات سال بعد

دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی اور سعودی معیشت کے دھڑکتے دل 'آرامکو' کو آج یمن کی مسلح افواج نے بیک وقت دو کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ اس حملے نے ستمبر 2019 کے تاریخی اور بے مثال آپریشن کی یاد 7 سال بعد زندہ کر دی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ذرائع کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے سعودی عرب کے دو اسٹراٹیجک مقامات پر آرامکو کی حساس  تنصیبات کے خلاف دو فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا۔

سعودی آرامکو پر یمنیوں کی دوسرا بڑا وار، سات سال بعد

خبر رساں ذرائع کے مطابق،  آج ہفتہ کی صبح یمنی مسلح افواج نے یمنی سرحد کے قریب جنوب مغربی سعودی عرب میں 400,000 بیرل کی جازان ریفائنری اور یورپ کو تیل برآمد کرنے کی شاہرگ 'ینبع' تنصیب کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

خبری ذرائع نے جازان میں آرامکو ریفائنری میں بڑے دھماکوں اور آگ لگنے کی بھی خبر دی ہے، اور سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں اس تنصیب کے اوپر وسیع پیمانے پر دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔

کہا گیا ہے کہ امریکی پیٹریاٹ سسٹمز سے لیس سعودی ایئر ڈیفنس نے ـ جو یونانی فوجی اہلکاروں کے زیر انتظام ہے ـ ینبیع ریفائنری کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا ہے۔ تاہم جازان ریفائنری کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آرامکو، یعنی "سعودی-امریکن آئل کمپنی"، پیداوار اور برآمدات کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ہے۔

یہ کمپنی روزانہ تقریباً 10 ملین بیرل تیل پیدا کرتی ہے اور سعودی حکومت کی آمدنی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے۔

آرامکو صرف ایک کمپنی نہیں بلکہ سعودی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسے کوئی بھی دھچکا لگا تو پوری سعودی معیشت کو بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سعودی آرامکو پر یمنیوں کی دوسرا بڑا وار، سات سال بعد

جازان اور ینبع کے دو اسٹراٹیجک مقامات کو بیک وقت نشانہ بنانے سے یمن کے نفوذ کی گہرائی اور آپریشنل درستگی کا مظاہرہ ہؤا ہے۔

جازان ریفائنری، 400,000 بیرل یومیہ تیل صاف کرنے کی صلاحیت کے ساتھ، جنوبی علاقوں اور سعودی فوجی دستوں کو درکار ایندھن فراہم کرتی ہے۔

دوسری طرف، ینبع مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کا آخری نقطہ ہے جو مشرقی سعودی عرب سے یومیہ 7.2 ملین بیرل خام تیل بحیرہ احمر تک پہنچاتا ہے، جہاں سے نہر سوئز کے ذریعے سعودی تیل یورپی منڈیوں میں بھیجا جاتا ہے۔

نیز آج سعودی عرب کے بعض علاقوں بشمول ینبع، خمیس مشیط اور جازان پر یمنی میزائل اور ڈرون حملوں اور تیل کی تنصیبات اور ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز شائع کی گئیں جن میں سعودی عوام کو ریاض اور جدہ سمیت مختلف شہروں میں ایندھن کے اسٹیشنوں پر قطاروں میں کھڑے دکھایا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مشرقی مغربی پائپ لائن پر انحصار کرتے ہوئے سعودی عرب نے خود کو آبنائے ہرمز سے آزاد کرا لیا تھا، جو کہ ایرانی محاصرے میں ہے؛ لیکن یمن اب باب المندب اور بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی برآمدات کی سلامتی کو کامیابی سے نشانہ بنا رہا ہے۔

سعودی آرامکو پر یمنیوں کی دوسرا بڑا وار، سات سال بعد

یہ ستمبر 2019 میں البقیق اور الخریص کی سعودی تنصیبات پر یمنی حملوں کے بعد سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف یہ دوسری بڑی یمنی کارروائی ہے، جس سے سعودی تیل کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہوئی تھی۔

البقیق تنصیب سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع ہے، جو ظہران شہر سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے، اور خریص آئل فیلڈ اس کے جنوب مغرب میں تقریباً 190 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

ستمبر 2019 کا حملہ، 10 ڈرونز کے ذریعے کیا گیا، اور اس حملے نے سعودی تیل کی یومیہ پیداوار تقریباً 5.7 ملین بیرل کم کر دی۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہؤا اور دنیا والوں کے سامنے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کی زد پذیری کو عیاں کر دیا۔

اس حملے کے صرف ایک ہفتے بعد، 20 ستمبر 2019 کو، انصار اللہ کے رہنماؤں نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے، سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا اعلان کیا، اور اسے سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے کا ایک موقع قرار دیا۔

ریاض کے مثبت ردعمل کے ساتھ، یہ صنعا سمیت چار علاقوں میں محدود جنگ بندی کا باعث بنا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آپریشن نے جنگ کا پلڑا یمن کے حق میں بھاری کر دیا اور فوجی کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کی۔

سخنگوی نیروهای مسلح یمن در بیانیه امروز شنبه خود همچنین هشدار داده که این حملات در چارچوب استراتژی «تلافی در برابر تلافی» و «محاصره در برابر محاصره» انجام شده و در صورت ادامه تجاوزات، عملیات‌های گسترده‌تری در انتظار عربستان خواهد بود.

یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے بھی آج بروز ہفتہ اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ یہ حملے "جوابی کارروائی" اور "ناکہ بندی بمقابلہ ناکہ بندی" کی حکمت عملی کے فریم ورک کے اندر کئے گئے ہیں اور یہ کہ اگر جارحیتیں جاری رہیں تو سعودی عرب کو مزید وسیع کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha