25 جولائی 2026 - 17:01
اگر ایران، عراق اور پاکستان عزم کر لیں تو زائرین کے لیے مستقل زیارتی راہداری کے قیام میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی

پاکستان کے ممتاز ماہرِ قانون اور سپریم کورٹ کے وکیل یافث نوید ہاشمی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عتباتِ عالیات اور روضۂ اقدس حضرت امام رضا(ع) کی زیارت پاکستانی عوام کے لیے ایمان، محبتِ اہل بیت(ع) اور ولایت سے وابستگی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان زائرین کی آمد و رفت کے لیے مستقل اور پائیدار نظام کے قیام کے لیے تینوں ممالک کی مشترکہ سیاسی خواہش، موجودہ رکاوٹوں کا خاتمہ اور بیرونی دباؤ سے آزادی ناگزیر ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے معروف ماہرِ قانون اور سپریم کورٹ کے وکیل یافث نوید ہاشمی نے ابنا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں پاکستانی عوام کے نزدیک عتباتِ عالیات اور روضۂ اقدس حضرت امام رضا(ع) کی زیارت کی غیر معمولی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کی آمد و رفت کے لیے مستقل نظام کا قیام، ایران، عراق اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کا متقاضی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ زیارت صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کی دینی شناخت اور مذہبی آزادی کے بنیادی حق کا بھی مظہر ہے۔

اہل بیت(ع) سے محبت؛ پاکستانی عوام کا مشترکہ سرمایہ

انہوں نے گفتگو کے آغاز میں حضرت امام حسین(ع)، حضرت امام رضا(ع) اور دیگر اہل بیت(ع) سے پاکستانی عوام کی محبت و عقیدت کو گہری تاریخی جڑوں کا حامل اور بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ نجف اشرف، کربلائے معلیٰ اور مشہد مقدس میں پاکستانی زائرین کی وسیع موجودگی اس امر کی واضح علامت ہے کہ پاکستان کے عوام کا اہل بیت(ع) کے ساتھ روحانی تعلق نہایت مضبوط اور گہرا ہے۔

ہاشمی نے پاکستان میں عزاداری کی قدیم روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہل بیت(ع) کی مجالسِ عزا اور سوگواری کی تقریبات صرف شیعہ برادری تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں اہل سنت بھی ان تقریبات میں بھرپور شرکت کرتے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اہل بیت(ع) کی محبت پورے پاکستانی معاشرے کا مشترکہ سرمایہ ہے۔

پائیدار زیارتی نظام کے لیے تینوں ممالک کی مشترکہ سیاسی خواہش ضروری

پاکستانی ماہرِ قانون نے پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان مستقل زیارتی نظام قائم نہ ہونے کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں داخلی اور خارجی دونوں طرح کے عوامل مؤثر رہے ہیں اور اب تک بعض انتظامی رکاوٹیں اور ضروری بین الحکومتی ہم آہنگی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومتیں کسی پالیسی پر سنجیدگی سے عمل درآمد کا فیصلہ کرتی ہیں تو بہت سی مشکلات خود بخود حل ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، ایک مستحکم زیارتی نظام کا قیام کسی ایک ملک کے اختیار میں نہیں بلکہ اس کے لیے پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان باہمی اتفاقِ رائے اور مؤثر تعاون ناگزیر ہے۔

زیارت؛ ایمان اور ثقافتِ مقاومت کی علامت

یافث نوید ہاشمی نے اس بات پر زور دیا کہ حضرت سیدالشہداء(ع) کی زیارت محض ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ عشق، ایمان، ولایت سے وابستگی اور روحانی حرارت کا عملی اظہار ہے، جو معاشرے میں ثقافتِ ولایت کو زندہ رکھتا ہے۔

انہوں نے عظیم الشان اربعین واک کو اسی ثقافت کا سب سے اہم مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک مختلف اقوام میں جذبۂ مقاومت اور استقامت کو فروغ دیتی ہے، اسی لیے استکباری طاقتیں ہمیشہ ایسی عوامی تحریکوں کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں جو ان کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔

ان کے بقول، مستقل زیارتی نظام کے قیام میں حائل بعض رکاوٹوں کی جڑیں بھی انہی بیرونی دباؤ میں تلاش کی جا سکتی ہیں، اور یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے حالات دیکھے جا سکتے ہیں۔

دہشت گردی؛ زائرین کی تعداد کم کرنے کا ایک ذریعہ

پاکستان کے اس سینئر وکیل نے ماضی میں تفتان کے قدیمی زمینی راستے پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستانی زائرین کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، زائرین کی تعداد میں کمی لانا اور زیارت کی ثقافت کو محدود کرنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اور پاکستان کی حکومتیں بیرونی دباؤ کے باوجود مستقل زیارتی نظام کے قیام کے لیے مخلصانہ اور مسلسل تعاون جاری رکھیں تو اس ہدف کا حصول مکمل طور پر ممکن ہے۔

عوامی مطالبہ؛ زیارتی پالیسیوں میں اصلاح کی بنیاد

نوید ہاشمی نے زائرین کے مطالبات کو آگے بڑھانے میں علماء، دانشوروں اور بااثر سماجی شخصیات کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف دینی اداروں کی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس وقت حقیقی نتائج سامنے آئیں گے جب یہ ایک ہمہ گیر عوامی مطالبے کی صورت اختیار کرے۔

انہوں نے کہا کہ علماء، مفکرین، سماجی شخصیات اور معاشرے کے مختلف طبقات اگر منظم انداز میں اس مطالبے کو آگے بڑھائیں تو حکومت زائرین کے مسائل پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دے گی اور اس شعبے میں فیصلہ سازی کا عمل بھی تیز ہو جائے گا۔

جامع اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت

پاکستان کے ممتاز ماہرِ قانون یافث نوید ہاشمی نے کہا کہ عوامی مطالبے کے ساتھ ساتھ موجودہ خامیوں اور رکاوٹوں کو دور کرنا بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے تصریح کی کہ متعلقہ حکام کے ساتھ مؤثر مذاکرات، اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرنا، موجودہ رکاوٹوں کی درست نشاندہی کرنا اور ایک جامع، منظم اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنا ان بنیادی اقدامات میں شامل ہے جنہیں ترجیحی بنیادوں پر اختیار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا منصوبہ نہ صرف پاکستان کے قومی مفادات کے مطابق ہونا چاہیے بلکہ زائرین کی حقیقی ضروریات کو بھی مدنظر رکھے، بیرونی دباؤ کے اثرات کو کم کرے اور مناسب سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ان کی آمد و رفت کو آسان بنائے۔

علماء اور دانشوروں کا باہمی تعاون؛ کامیابی کی بنیادی شرط

ہاشمی نے زائرین کے مسائل کے حوالے سے پاکستانی علماء اور مذہبی شخصیات کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک متعدد بیانات، اجلاس، پریس کانفرنسیں اور مختلف سرگرمیاں علماء، قافلہ سالاروں اور مذہبی شخصیات کی جانب سے منعقد کی جا چکی ہیں۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام کوششیں اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوں گی جب ملک کی تمام علمی، دینی اور سماجی صلاحیتیں ایک مربوط اور مشترکہ تحریک کی صورت میں متحد ہو کر میدان میں آئیں۔

ان کے بقول، اگر یہ ہم آہنگی اور تعاون وجود میں آ جائے تو زیارت کے نظام کو منظم بنانے کا مطالبہ عوامی رائے، پالیسی ساز اداروں اور سرکاری محکموں تک زیادہ قوت کے ساتھ پہنچے گا اور بالآخر عملی شکل اختیار کر سکے گا۔

زیارت میں سہولت؛ عوامی اعتماد کے فروغ کا ذریعہ

پاکستان کے اس سینئر وکیل نے مستقل زیارتی نظام کے سماجی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نظام قائم ہو جاتا ہے تو پاکستانی عوام، بالخصوص اہل بیت(ع) سے محبت رکھنے والوں اور زائرین کے نزدیک حکومتِ پاکستان کا اعتماد اور وقار مزید مستحکم ہوگا اور حکومتی کارکردگی پر عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس میدان میں سہولت فراہم کرنے والے کردار (Facilitator) کے طور پر سامنے آنا چاہیے اور مناسب رابطہ جاتی نظام، واضح اور جامع پالیسی اور قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے زائرین کے سفر کو منظم بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

زیارت؛ شہریوں کی مذہبی آزادی کا بنیادی حق

یافث نوید ہاشمی نے اپنے قانونی تجربے اور پاکستان میں مختلف عدالتی مقدمات میں شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیارت پاکستانی شہریوں کے مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق میں شامل ہے، لہٰذا حکومت کو بھی اسی زاویے سے اس مسئلے کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ریاست کو اس شعبے میں قانون سازی اور پالیسی مرتب کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن ان پالیسیوں کا مقصد بالخصوص زیارتِ اربعین کو محدود کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کا محور زائرین کے سفر کو منظم، محفوظ اور آسان بنانا ہونا چاہیے۔

قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کارروائی، زائرین پر پابندیاں نہیں

پاکستانی ماہرِ قانون نے موجودہ مسائل کی درست تشخیص کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر چند افراد زائرین کے سفری راستوں کا غلط استعمال کرتے ہیں یا کسی قسم کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو قانونی کارروائی صرف انہی افراد کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ چند افراد کی وجہ سے لاکھوں زائرین پر وسیع پابندیاں عائد کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی پالیسیوں میں قانون شکنی سے نمٹنے اور لاکھوں زائرین کے حقوق کے تحفظ کے درمیان واضح فرق ہونا چاہیے اور ایسی عمومی پابندیوں سے اجتناب کیا جانا چاہیے جو اصل زیارت کے عمل کو متاثر کریں۔

زیارت میں سہولت؛ علاقائی تعاون کے فروغ کا موقع

ہاشمی نے زیارت کے مسئلے کو ایک اسٹریٹجک اور کثیرالجہتی موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ زائرین کے مسائل کا حل صرف مذہبی اور سماجی فوائد تک محدود نہیں بلکہ اس سے پاکستان، ایران اور عراق کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اور سہ فریقی تعاون کو بھی نمایاں فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔

زائرین کی خدمت کے لیے سرحدی بنیادی ڈھانچے کی ترقی ناگزیر

انہوں نے سرحدی بنیادی ڈھانچے کی توسیع کو زائرین کی منظم آمد و رفت کے لیے سب سے اہم پیشگی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے زمینی سفر کا زیادہ تر بوجھ تفتان بارڈر پر رہا ہے، تاہم اس علاقے کی سیکیورٹی صورتحال، حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ انتباہات اور بعض بیرونی دباؤ کے باعث یہ راستہ ہمیشہ مختلف مشکلات سے دوچار رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چابہار اور ریمدان جیسے نئے سرحدی راستے فعال ہونے کے بعد بعض مسائل میں کمی آئی ہے، لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان گذرگاہوں پر سہولیات اور خدمات کو مزید وسعت دی جائے تاکہ زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

سرحدی خدمات کی بہتری اور انتظامی امور میں تیزی ضروری

یافث نوید ہاشمی نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں فلاحی اور رفاہی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر زائرین کی اہم ترین ضروریات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق زائر سرا، مسافر خانے، اسپتال، کلینک، فارمیسی اور دیگر خدماتی مراکز کا قیام، نیز امیگریشن اور انتظامی مراحل کو تیز تر بنانا زائرین کی آمد و رفت کے بہت سے مسائل کو حل کر سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی کارروائیوں میں صرف ہونے والے وقت کو کم کرنا اور مناسب رہائش و خدمات کی فراہمی زائرین کے امن، سکون اور اطمینان میں نمایاں اضافہ کرے گی۔

زمینی سفر؛ کم آمدنی والے زائرین کی بنیادی ضرورت

یافث نوید ہاشمی نے پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد کی معاشی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بالخصوص صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے بہت سے زائرین متوسط اور کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ہوائی سفر کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے زمینی سفر آج بھی عتباتِ عالیات کی زیارت کے لیے ان کے لیے سب سے اہم، آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے۔

بحری سروس کی بحالی؛ اخراجات میں کمی کا مؤثر حل

انہوں نے خطے کے ممالک کے درمیان باقاعدہ فیری سروس (Ferry Service) کے آغاز کو زائرین کی آمد و رفت میں سہولت پیدا کرنے کا ایک عملی اور مؤثر حل قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے یہ تجویز ماہرین اور ذرائع ابلاغ میں متعدد مرتبہ زیرِ بحث آ چکی ہے اور اسے زائرین کی نقل و حمل کے کم لاگت والے ذرائع میں سے ایک کے طور پر سنجیدگی سے اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ہاشمی نے زور دے کر کہا کہ اگر ایران، پاکستان اور عراق کی حکومتیں باہمی حسنِ نیت اور مشترکہ عزم کے ساتھ اس منصوبے پر تعاون کریں تو اس کے نفاذ میں کوئی سنجیدہ رکاوٹ باقی نہیں رہے گی۔

ایامِ اربعین میں نقل و حمل کی گنجائش میں اضافہ ضروری

پاکستان کے اس سینئر وکیل نے کہا کہ زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے نقل و حمل کی استعداد میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عاشورا اور اربعین کے ایام میں حکومتوں کی معاونت سے پروازوں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ زائرین زیادہ آسانی کے ساتھ اپنے مقدس سفر انجام دے سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف زیارت میں سہولت پیدا ہوگی بلکہ معاشی اعتبار سے بھی متعلقہ حکومتوں کو نمایاں فوائد حاصل ہوں گے، کیونکہ اس سے زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ ہوگا اور نقل و حمل، سیاحت اور مذہبی سیاحت سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

سفر کو منظم بنایا جائے، زائرین پر پابندیاں نہ لگائی جائیں

یافث نوید ہاشمی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں کی پالیسی کا بنیادی مقصد زائرین کے سفر کو آسان اور منظم بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے محدود کرنا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامی اور امیگریشن سے متعلق مسائل کو بروقت حل کر لیا جائے تو زائرین کی سرحدی آمد و رفت کہیں زیادہ سہولت کے ساتھ انجام پا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی موقع پر زائرین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث ایک ہی دن میں تمام افراد کا سرحد عبور کرنا ممکن نہ ہو تو سرحدی علاقوں میں ان کی رہائش، خوراک اور دیگر رفاہی سہولیات کا مؤثر انتظام پہلے سے موجود ہونا چاہیے تاکہ زائرین کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

نجی شعبے کی صلاحیتوں سے استفادہ ضروری

پاکستانی ماہرِ قانون نے نجی شعبے کی شمولیت کو زیارتی خدمات کی توسیع کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتیں سرکاری سہولیات کے ساتھ ساتھ نجی کمپنیوں، اداروں، مخیر حضرات اور سرمایہ کاروں کو بھی اسپتالوں، ہوٹلوں، زائر سراؤں اور دیگر خدماتی مراکز کے قیام کی ترغیب اور سہولت فراہم کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زیارت سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی نہ صرف خدمات کے معیار کو بہتر بنائے گی بلکہ سرحدی علاقوں کی معاشی ترقی اور زائرین کی خدمت کی مجموعی استعداد میں بھی نمایاں اضافہ کرے گی۔

سہ فریقی تعاون؛ پائیدار زیارتی نظام کے قیام کی کنجی

یافث نوید ہاشمی نے گفتگو کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا کہ جو بھی ادارہ یا فرد اہل بیت(ع) کے زائرین کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہے، اسے حکومتوں کی مکمل سرپرستی اور تعاون حاصل ہونا چاہیے اور اس کی سرمایہ کاری اور خدمات کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران، پاکستان اور عراق کی حکومتوں کے درمیان مخلصانہ اور مسلسل تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے اور عوامی و نجی شعبے کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے کے ذریعے زائرین کی آمد و رفت کے لیے ایک مستقل، منظم اور پائیدار نظام قائم کیا جا سکے گا؛ ایسا نظام جو نہ صرف زائرین کے حقوق کا تحفظ کرے بلکہ تینوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون کے فروغ میں بھی مؤثر کردار ادا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha