23 جون 2026 - 08:14
نیویارک ٹائمز اور ایک جواری؛ کا دنگل

صدرِ امریکہ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے نیویارک ٹائمز اخبار کی رپورٹ پر  ـ جس میں ایران کے ساتھ جنگ کے اہداف کو "شکست خوردہ" قرار دیا گیا تھا، ـ سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اخبار کو "غدار" اور ملک دشمن قرار دیا اور اس کو نئی قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صدرِ امریکہ نے ذرائع ابلاغ اپنی نئی یلغار میں، نیویارک ٹائمز اخبار کی کوریج کو "غدارانہ" قرار دیا اور اس اخبار کو ایک بار پھر قانونی کارروائی کی دھمکی دی؛ وجہ یہ تھی کہ اس اخبار نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اہداف اور نتائج پر سوالات اٹھائے ہیں اور اس جنگ کو لاحاصل قرار دیا ہے۔

یویارک ٹائمز اور ایک جواری؛ کا دنگل

ٹرمپ کا یہ سخت ردعمل اتوار کو ایک مضمون کی اشاعت کے بعد سامنے آیا جس کا عنوان تھا:

"تقریباً چار ماہ کی جنگ کے بعد، کیا بدلا؟ تجزیہ کار کہتے ہیں: زیادہ کچھ نہیں بدلا"۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نہ جنگ میں اپنے مقاصد تک پہنچ سکا اور نہی نہ ہی معاہدے میں ایران کے خلاف جنگ کے لئے اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کر سکا۔

نیویارک ٹائمز نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پروفیسر اور خلیج فارس کے سکیورٹی امور کی ماہر کیٹلن تالمج کے تجزیئے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ:

"امریکہ اور ایران کے درمیان جو مفاہمت نامہ طے پایا، وہ اس حقیقت کا نتیجہ تھا کہ امریکہ نے اپنے منہ سے بڑا نوالہ اٹھایا تھا"۔

ٹرمپ نے ردعمل میں، اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کئی پوسٹس میں، نیویارک ٹائمز کو "بدعنوان اور زوال پذیر" قرار دیا اور ایران کے خلاف جنگ کے نتائج بشمول اس کی فوجی صلاحیت کی تباہی کے بارے میں اپنے [جھوٹے] دعوؤں کو دہرایا۔

انہوں نے نیویارک ٹائمز کے اہلکاروں کو مجرم قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ وہ اس اخبار کی "جھوٹی اور مضحکہ خیز رپورٹنگ" کو اپنے اربوں ڈالر کے ہرجانے کے دعوے میں میں شامل کرے گا۔

یویارک ٹائمز اور ایک جواری؛ کا دنگل

ٹرمپ کا اشارہ اس اربوں ڈالر کے مقدمے کی طرف ہے جو اس نے 2025 میں نیویارک ٹائمز کے خلاف دائر کیا تھا۔ اس مقدمے کا محور ایک ایک کتاب ہے جس کا عنوان ہے

"خوش قسمت ہارنے والا: کس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے والد کی دولت ضائع کی اور کامیابی کا وہم پیدا کیا (Lucky Loser: How Donald Trump Squandered His Father's Fortune and Created The Illusion of Success")"

اس مقدمے میں اس اخبار پر، اس کے چار صحافیوں اور پبلشر پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے 2024 کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کے لئے اس (ٹرمپ)، اس کے خاندان اور اس کے کاروبار کے بارے میں غلط بیانیاں شائع کی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ اخبار ڈیموکریٹ پارٹی کا مکمل ترجمان بن گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے اس الزام کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یہ مقدمہ "بے بنیاد" ہے اور اسے آزاد صحافت محدود کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔

اب جبکہ نیویارک ٹائمز کو ایران کے خلاف امریکی جنگ کے بارے میں کچھ حقائق بیان کرنے پر ٹرمپ کی شدید یلغار کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس اخبار نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنی رپورٹیں شائع کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

نکتہ: کافی کچھ بدلا ہے مسٹر این وائی ٹائمز

"زیادہ کجھ بھی نہیں بدلا" نیویارک کا غیرحقیقت پسندانہ دعویٰ ہے۔ امریکی صدر نے ایران پر حملے کے لئے 9 بڑے مقاصد بیان کئے تھے جن میں ایران کی تقسیم، ایرانی حکومت کی تبدیلی، ایران کے قدرتی وسائل پر قبضہ، ایران کی فوجی طاقت کی تباہی جیسے مقاصد حاصل تھے جن میں وہ ناکام ہوگیا جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے بھی اعتراف کیا ہے لیکن ایران کی بڑی عالمی طاقت بن گیا، ایران کی فوج طاقتور ہوئی، ایران نے خلیج فارس پر اپنی سیادت قائم کی ہے اور آبنائے ہرمز کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور ٹرمپ کو اپنے ساتھ مذاکرات کی میز پر لا بٹھایا ہے، اپنے اوپر 47 سالہ پابندیاں ختم کروانے میں مصروف ہے، اس کے منجمد اثاثے ریلیز ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے 70 سالہ فوجی اڈے خطے میں تباہ ہوگئے ہیں اور اس کو ایران کے اطراف کے علاقوں سے انخلاء پر رضامند ہونا پڑ رہا ہے اور صہیونی ریاست نہتی ہو رہی ہے، امریکی سلطنت کم از کم مغربی ایشیا میں زوال پذیر ہو گئی ہے، تو پھر یہ یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ "زیادہ کچھ نہیں بدلا"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha