3 جون 2026 - 09:12
حصۂ دوئم عراق کے گڑھے سے نکل کر ایران کے کنویں میں گرنا؛ ٹرمپ کا ایک غلطی کا اعتراف

امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں بحث بہت پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس دوران ایران پر فوجی حملے کا ویت نام اور عراق جیسی جنگوں سے موازنہ، وائٹ ہاؤس کی دکھتی رگ (Achilles' heel) بن گیا ہے۔ لیکن اب خود ٹرمپ نے اپنی ٹرمپیات (عجیب بیانات) میں، ایران کے ساتھ جنگ کو عراق کی طویل اور انتہائی مہنگی جنگ کی صف میں رکھ دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر نے حال ہی میں ایک "دیر سے اعتراف" کرتے ہوئے کہا ہے: "دیکھو عراق کے ساتھ کیا ہؤا۔ ہم نے بہت برا عمل کیا۔ ہم نے جو کیا وہ ایک بڑی غلطی تھی۔ سب سے پہلے، ہمیں کبھی وہاں نہیں جانا چاہئے تھا۔ ہمیں ایران سے بھی نہیں لڑنا چاہئے تھا۔"

حصۂ دوئم:

ڈونلڈ ٹرمپ بھی لینڈن جانسن کے بحران میں مبتلا

شکاگو یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر "رابرٹ پیپ" (Robert Pape) کا ماننا ہے کہ "ٹرمپ نے ایران پر فوجی حملہ کرکے خود کو لینڈن جانسن جیسے بحران میں پھنسا دیا ہے۔"

"لینڈن جانسن" 1960ع‍ کی دہائی میں امریکہ کا سابق صدر تھا جس نے ویت نام میں فوجی مداخلت کو وسعت اور شدت بخشی اور اس کے نتیجے میں اس کے اپنے ملک کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ بعد ازاں امریکی سیاسی فضا میں اس کا نام ایک علامت بن گیا جسے اس طرح تعبیر کیا جاتا ہے کہ "ایسی دلدل میں پھنسنا جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔"

اسی وجہ سے رابرٹ پیپ جیسے لوگوں کی ایران کی جنگ کا عراق یا ویت نام سے موازنہ کرنے پر مبنی اراء وائٹ ہاؤس کو غصہ دلایا کرتے ہیں۔ کیونکہ ٹرمپ کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ حالیہ جنگ (ایران پر حملہ) میں پچھلی جنگوں کے مقابلے میں کم نقصانات ہوئے ہیں!

تاہم بین الاقوامی تعلقات کے امریکی پروفیسر اور نظریہ ساز جان میئر شیمر کا ماننا ہے: "ایران کے خلاف جنگ، عراق کی جنگ سے بھی آگے بڑھ کر، امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کے طور پر ریکارڈ کی جائے گی۔"

میئرشیمر اپنے دلائل دیتے ہوئے ایران میں اسلامی نظام کے برقرار رہنے، تہران کے اپنے جوہری حقوق کو برقرار رکھنے پر اصرار، اور جنگ کے دوران امریکہ کو پہنچنے والے نقصانات جیسے عوامل کے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کی بندش، سے بھی جوڑتے ہیں، جس کو امریکہ اپنی فوجی طاقت سے کھولنے میں ناکام رہا اور ان جہتوں سے، اس جنگ کو "امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی" جاننے کے لئے کافی ہے۔

شکست سے بچنے کے لئے تدبیری (Tactical) پسپائی

جہاں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں اپنے تازہ ترین بیانات میں سے ایک میں اعتراف کیا ہے کہ "ہمیں ایران میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے تھی" وہیں، بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بیانات شکست قبول کرنے سے بچنے کے لئے تدبیری (Tactical) پسپائی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے حال ہی میں لکھا ہے: "ٹرمپ اس جنگ کو تقریباً ختم شدہ اور ایک مکمل کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اس کی روایت حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی اور برسوں تک واقعات پر اپنی رائے مسلط کرنے کے بعد، اب وہ ایک ایسے بحران کا سامنا کر رہا ہے جو اس کے بیانئے سے متصادم ہے۔"

روئٹرز نے یہ بھی لکھا ہے کہ ٹرمپ ایران کے سامنے جنگ دوبارہ شروع کرنے یا ایران کی شرائط قبول کرنے کے دوراہے پر پھنس گیا ہے اور "اس کے پاس حرکت پذیری (Maneuver) کی کم ہی گنجائش ہے۔"

اب جبکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد تین ماہ گذر چکے ہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے اور اس اسٹراٹیجک آبنائے کو کھولنے کے لئے امریکہ کی فوجی نااہلی کا بارہا میدانِ عمل میں تجربہ کیا جا چکا ہے۔

مذاکرات یا جنگ کے مستقبل کے بارے میں متضاد اور ابہام کے بادلوں میں ڈھکی ہوئی خبروں کے موقع پر ہی، جو چیز واضح ہے وہ یہ کہ امریکہ میں غالب رائے ایران جنگ سے گریزاں ہے، لیکن "ٹرمپ کا سیاسی تکبر" ابھی تک اسے تسلیم کرنے اور شکست قبول کرنے کا اعلان کرنے کی جرات نہیں رکھتا۔

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: علی رضا محمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha