بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ کی 5 پرانی، مزمن (Chronic)، مستقل اور دائمی بیماریوں مبتلا ہے؛ فٹ بال کے میدان سے لے کر جنگ اور سیاست کے میدان تک / چاہے فٹ بال کے سبز مستطیل میں ہوں یا جیوپولیٹکس کے پرخطر میدان میں، ہر نظام کو بقا کے لئے "اعتماد"، "قانون" اور "حریف کے تشخص کے احترام" کی ضرورت ہوتی ہے۔ / ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ اس کا ہیجانی اور جذباتی اور طاقت پر مبنی نقطہ نظر، شاید مختصر مدت میں غل غپاڑہ مچانے میں معاون ہو، لیکن طویل مدت میں اس سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ امریکیوں کے قومی فخر کو مخدوش و مجروح کر دے، حریفوں میں مزاحمت کا ارادہ بیدار کر دے اور خود توہین آمیز شکستوں کا مزہ چکھ لے؛ چاہے وہ توہین فٹ بال کے میدان میں ـ امریکی قومی فٹبال ٹیم کی بدترین شکست کے بعد ـ بلجیئم کے کھلاڑیوں کا مضحکہ خیز [ٹرمپک] ڈانس ہو، یا مشرق وسطیٰ میں اسٹراٹیجک اور فوجی شکستوں اور تعطل کا نہ تھمنے والا سلسلہ۔
دوسری قسط:
• ایک نمونہ 'ایران پر مسلط کردہ جنگ' میں سے:
سیاست کے میدان میں بھی ٹرمپ نے 2026 کے اوائل میں آپریشن "ایپک فیوری (Epic Fury)" (جس کو امریکی ایپسٹین فیوری [Epstien Fury] بھی کہتے ہیں) کا آغاز کرکے بالکل یہی رویہ اپنایا۔ اس نے پینٹاگون کی ماہرانہ آراء تنبیہات اور روایتی بین الاقوامی ہم آہنگیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایک بھاری اور اچانک حملے کا حکم جاری کیا۔ ٹرمپ کا احمقانہ تصور یہ تھا کہ وہ اقتدار کی چوٹی پر ایک جذباتی اور ذاتی فیصلے کے ذریعے، مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ ترین جیوپولیٹیکل بحران کو راتوں رات حل کرے گا اور اس کے اپنے الفاظ کے مطابق 'فتح ایران کا عظیم کارنامہ' اپنے نام کرے گا! [مگر اس کی بدقسمتی تھی کہ ریاست ہائے متحدہ کی فتوحات کا دور ختم ہوچکا تھا چنانچہ اسے کانٹے دار تقابل سے دوچار ہونا پڑا]۔
2۔ ننگی قانون شکنی اور ریفریوں پر دھوکہ دہی کا الزام
• ٹرمپی طرز عمل کا نمونہ کھیل کے میدان میں سے:
ٹرمپی طرز غمل یہ ہے کہ وہ قوانین کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک کہ کھیل کا توازن اس کے حق میں نہ ہو۔ ٹرمپ کے لئے، "قانون" اس وقت تک قابل احترام ہے جب تک وہ اس کے سو فیصد مفادات کو پورا کرتا ہو اور اس کے عزائم کی تائید کرتا ہو؛ بصورت دیگر، وہ فوری طور پر ریفری برادری پر تعصب کا الزام لگاتا ہے اور فٹ بال میں ریفریوں کے پورے نظام کو ناجائز یا "انجینئرڈ اور منصوبہ بند" قرار دیتا ہے۔
• ایک نمونہ 'بلجیئم - امریکہ میچ' میں سے:
ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران، میچ کے ریفری کو صراحتاً متعصب قرار دیا اور بلجیئم - امریکہ میچ کے وِسل بجنے سے پہلے کہہ دیا: "اگر ہم ہار گئے، تو میں کہوں گا کہ میچ انجینئرڈ، دھوکہ دہی پر مبنی، اور اس کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ تھا؛ بالکل 2020 کے انتخابات کی طرح!" کہ جب اس نے انتخابات کے نتائج آنے سے پہلے ہی، انتخابات کے نتائج کے بارے میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس طرز عمل کے ساتھ، انہوں نے کھیل کے مقابلوں پر حکم فرما اصولوں کو پہلے سے ہی بے اعتبار کر دیا جیسا کہ اس نے 2020 امریکی انتخابی نظام کو ہمیشہ کے لئے بے اعتبار کر دیا۔
• ایک مصداق 'ایران پر مسلط کردہ جنگ' میں سے:
یہ بالکل وہی نمونہ ہے جو جوہری معاہدے سے اس کی یکطرفہ علیحدگی اور پھر 2025 اور 2026 کی جھڑپوں کے دوران دہرایا گیا۔ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کے ضوابط کو نظر انداز کیا اور یہاں تک کہ جب ایران نے اپنے قانونی فریم ورک کے اندر تزویراتی جوابی کارروائی کی، تو اس نے ایران کے اقدامات کو روایتی بین الاقوامی رویوں کے خلاف قرار دیا۔ ٹرمپ بین الاقوامی قانون کے ضوابط کو محض ـ دوسروں پر ـ دباؤ کا ایک آلہ سمجھتا ہے اور جب بھی بین الاقوامی فیصلہ سازی اس کی خواہشات کے مطابق نہ ہو، اس کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ