19 جولائی 2026 - 21:34
چوتھی قسط ٹرمپ کی 5 پرانی اور مستقل بیماریاں

ٹرمپ کی 5 پرانی، مزمن (Chronic)، مستقل اور دائمی بیماریوں مبتلا ہے؛ فٹ بال کے میدان سے لے کر جنگ اور سیاست کے میدان تک / چاہے فٹ بال کے سبز مستطیل میں ہوں یا جیوپولیٹکس کے پرخطر میدان میں، ہر نظام کو بقا کے لئے "اعتماد"، "قانون" اور "حریف کے تشخص کے احترام" کی ضرورت ہوتی ہے۔ / ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ اس کا ہیجانی اور جذباتی اور طاقت پر مبنی نقطہ نظر، شاید مختصر مدت میں غل غپاڑہ مچانے میں معاون ہو، لیکن طویل مدت میں [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ کی 5 پرانی، مزمن (Chronic)، مستقل اور دائمی بیماریوں مبتلا ہے؛ فٹ بال کے میدان سے لے کر جنگ اور سیاست کے میدان تک / چاہے فٹ بال کے سبز مستطیل میں ہوں یا جیوپولیٹکس کے پرخطر میدان میں، ہر نظام کو بقا کے لئے "اعتماد"، "قانون" اور "حریف کے تشخص کے احترام" کی ضرورت ہوتی ہے۔ / ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ اس کا ہیجانی اور جذباتی اور طاقت پر مبنی نقطہ نظر، شاید مختصر مدت میں غل غپاڑہ مچانے میں معاون ہو، لیکن طویل مدت میں اس سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ امریکیوں کے قومی فخر کو مخدوش و مجروح کر دے، حریفوں میں مزاحمت کا ارادہ بیدار کر دے اور خود توہین آمیز شکستوں کا مزہ چکھ  لے؛ چاہے وہ توہین فٹ بال کے میدان میں ـ امریکی قومی فٹبال ٹیم کی بدترین شکست کے بعد ـ بلجیئم کے کھلاڑیوں کا مضحکہ خیز [ٹرمپک] ڈانس ہو، یا مشرق وسطیٰ میں اسٹراٹیجک اور فوجی شکستوں اور تعطل کا نہ تھمنے والا سلسلہ۔

چوتھی اور آخری قسط:

• ایک مصداق 'ایران پر مسلط کردہ جنگ' میں:

سنہ 2026 کی جنگ کے معاملے میں بھی بالکل یہی شرمندگی کی لہر امریکی معاشرے کے بیدار ضمیروں پر چھا گئی۔ ٹرمپ نے بے ضابطہ اور غیرقانونی حملہ کرکے، بین الاقوامی قوانین کو پامال کرکے رکھ دیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پرانسانی تباہیاں معرض وجود میں آئیں، اور اس صورت حال نے امریکی عوام کے ایک بڑے حصے ـ بشمول سیاستدانوں، جامعات کے پروفیسروں، انفلوئنسرز اور عام لوگوں ـ کو، میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر ایران کے عوام سے بڑے پیمانے پر معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ اعلان کیا کہ یہ جنگ جوئی، درندگی، وحشی پن، خونخواری اور ننگی غنڈہ گردی، امریکی قوم کی ثقافت، اخلاق اور حقیقی خواہش کی نمائندگی نہیں کرتی۔

5۔ مطلق فتح کا وہم اور ذلت آمیز انجام

• ٹرمپ کا طرز عمل:

ٹرمپ جیت-جیت (Win-win) کے نقطہ نظر پر مبنی کھیل اور حریف کی میدانی حقائق تسلیم کرنے پر یقین نہیں رکھتا؛ اس کی ذہنیت صرف اپنی 100 فیصد فتح اور حریف کی مکمل شکست، پسپائی اور ہتھیار ڈالنے پر استوار ہے! لیکن ننگی طاقت پر زیادہ انحصار اور ساختی پشت پناہی نہ ہونے کی وجہ سے، مطلق فتح پر یہ اصرار بالآخر ایک زبردست شکست اور تزویراتی ذلت و خفت پر منتج ہوتا ہے۔

• ایک نمونہ 'بلجیئم - امریکہ میچ' میں سے:

ٹرمپ نے اپنی تمام تر ساکھ کو اس پر لگا دیا تاکہ بالوگن (Folarin Balogun) کا ریڈ کارڈ بخش دیا جائے اور وہ کھیلے اور امریکہ جیت جائے؛ لیکن حتمی نتیجہ امریکہ کے لئے، 4-1 کی رسوا کن شکست کی صورت میں برآمد ہؤا اور امریکہ، اپنے گھر میں، ورلڈ کپ سے ابتدائی مرحلے میں ہی میدان سے باہر ہو گیا۔ امریکی کی طرف سے 'سفارش' (نہیں بلکہ ڈکٹیشن) میدان کے اندر واضح کمزوریوں کا ازالہ نہ کر سکی؛ اور اس کھیلوں کی غنڈہ گردی اس کے لئے ایک رسوائی اور عالمی بے عزتی کا مظہر بن گئی۔

• ایک نمونہ 'ایران پر مسلط کردہ جنگ' میں سے:

سنہ 2026 کی جنگ میں بھی ٹرمپ اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے کر تہران کو 100 فیصد تسلیم کرانے ـ اور ہتھیار ڈآلنے پر آمادہ کرنے ـ کے درپے تھا۔ لیکن یہ جنگ عالمی معیشت کے لئے تباہ کن، مہنگی اور نقصان دہ تعطل کی صورت اختیار کر گئی۔ جارح دشمن نہ صرف ایران کا سیاسی ارادہ توڑنے میں ناکام رہا، بلکہ اس جنگ نے امریکی فوج پر بھاری اخراجات مسلط کئے، دنیا کی رائے عامہ میں اس کے ڈاکٹرائن کو ناکام بنا دیا اور ٹرمپ اور اس کے ڈاکٹرائن کی تذلیل کر دی۔

نتیجہ

چاہے فٹ بال کے سبز مستطیل میں ہوں یا جیوپولیٹکس کے پرخطر میدان میں، ہر نظام کو بقا کے لئے "اعتماد"، "قانون" اور "حریف کے تشخص کے احترام" کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ اس کا ہیجانی اور جذباتی اور طاقت پر مبنی نقطہ نظر، شاید مختصر مدت میں غل غپاڑہ مچانے میں معاون ہو، لیکن طویل مدت میں اس سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ امریکیوں کے قومی فخر کو مخدوش و مجروح کر دے، حریفوں میں مزاحمت کا ارادہ بیدار کر دے اور خود توہین آمیز شکستوں کا مزہ چکھ  لے؛ چاہے وہ توہین فٹ بال کے میدان میں ـ امریکی قومی فٹبال ٹیم کی بدترین شکست کے بعد ـ بلجیئم کے کھلاڑیوں کا مضحکہ خیز [ٹرمپک] ڈانس ہو، یا مشرق وسطیٰ میں اسٹراٹیجک اور فوجی شکستوں اور تعطل کا نہ تھمنے والا سلسلہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم سید محمد حسین راجی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha