19 جولائی 2026 - 16:24
پہلی قسط | ٹرمپ کی 5 پرانی اور مستقل بیماریاں

ٹرمپ کی 5 پرانی، مزمن (Chronic)، مستقل اور دائمی بیماریوں مبتلا ہے؛ فٹ بال کے میدان سے لے کر جنگ اور سیاست کے میدان تک / چاہے فٹ بال کے سبز مستطیل میں ہوں یا جیوپولیٹکس کے پرخطر میدان میں، ہر نظام کو بقا کے لئے "اعتماد"، "قانون" اور "حریف کے تشخص کے احترام" کی ضرورت ہوتی ہے۔ / ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ اس کا ہیجانی اور جذباتی اور طاقت پر مبنی نقطہ نظر، شاید مختصر مدت میں غل غپاڑہ مچانے میں معاون ہو، لیکن طویل مدت میں [---]

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ کی 5 پرانی، مزمن (Chronic)، مستقل اور دائمی بیماریوں مبتلا ہے؛ فٹ بال کے میدان سے لے کر جنگ اور سیاست کے میدان تک / چاہے فٹ بال کے سبز مستطیل میں ہوں یا جیوپولیٹکس کے پرخطر میدان میں، ہر نظام کو بقا کے لئے "اعتماد"، "قانون" اور "حریف کے تشخص کے احترام" کی ضرورت ہوتی ہے۔ / ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز عمل بتاتا ہے کہ اس کا ہیجانی اور جذباتی اور طاقت پر مبنی نقطہ نظر، شاید مختصر مدت میں غل غپاڑہ مچانے میں معاون ہو، لیکن طویل مدت میں اس سے اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ امریکیوں کے قومی فخر کو مخدوش و مجروح کر دے، حریفوں میں مزاحمت کا ارادہ بیدار کر دے اور خود توہین آمیز شکستوں کا مزہ چکھ  لے؛ چاہے وہ توہین فٹ بال کے میدان میں ـ امریکی قومی فٹبال ٹیم کی بدترین شکست کے بعد ـ بلجیئم کے کھلاڑیوں کا مضحکہ خیز [ٹرمپک] ڈانس ہو، یا مشرق وسطیٰ میں اسٹراٹیجک اور فوجی شکستوں اور تعطل کا نہ تھمنے والا سلسلہ۔

ایک نادر (Phenomenal) کردار جزیرے کی مانند (Insular) محدود نہیں ہوتا؛ ایک سیاسی رہنما کا ذہنی اور نفسیاتی ڈاکٹرائن، حساس ترین جیوپولیٹیکل بحرانوں سے سادہ ترین کھیلوں کے میدانوں تک، یکساں طور پر نمایاں ہوتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ طرز عمل کے اس 'استحکام' کی ایک کلاسیکی مثال ہیں۔ سنہ 2026 ورلڈ کپ فٹبال کے دوران امریکی قومی ٹیم کے اسٹار "فلو بالوگان" کا ریڈ کارڈ منسوخ کرانے کے لئے متنازعہ مداخلت، ایران کے خلاف "آپریشن ایپک فیوری" (جس کو ایپسٹین فیوری بھی کہا جاتا ہے) میں ٹرمپ کے فوجی ڈاکٹرائن کا ایک مکمل آئینہ ہے۔

یہ مضمون ٹرمپ کے پانچ مستقل رویاتی نمونوں کی تشریح کے ذریعے ان حیرت انگیز مماثلتوں کا تجزیہ کرتا ہے:

1۔ خودغرضی اور ذاتی مداخلت کو قانونی ڈھانچوں پر ترجیح دینا

• ٹرمپیاتی طرز عمل کا نمونہ:

ٹرمپ خود کو ڈھانچوں، بیوروکریسیوں اور ماہرانہ اداروں سے بالاتر دیکھتا ہے۔ اس کے ڈاکٹرائن میں، پیچیدہ اور ماہرانہ عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ  تمام معاملات کے فیصلوں میں بذات خود مداخلت کرنے کا پیاسا ہے، تاکہ بحران کا حل یا کامیابی کے حصول کو اپنی "ذاتی جرات اور اثر و رسوخ" کا نتیجہ قرار دے سکے اور ہر چھوٹی بڑی کامیابی کو اپنے نام کر سکے۔

• ایک نمونہ 'بلجیئم - امریکہ میچ' میں سے:

فولارن بالوگن (Folarin Balogun) نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں سخت غلطی کی وجہ سے براہ راست ریڈ کارڈ حاصل کیا اور اسے گراؤنڈ سے نکال دیا گیا، تو ٹرمپ نے فیفا کے تمام تر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر، ذاتی طور پر فیفا کے صدر سے رابطہ کیا کہ وہ اس ریڈ کارڈ کو منسوخ کر دے۔ اس نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں کے سامنے ایک 'ہر فن مولا' کا انداز اختیار کیا اور کہا: "فولارن بالوگن" کی وہ حرکت بالکل غلط نہیں تھی!" اور اس کے ساتھ ہی فیفا کے پورے انضباطی ڈھانچے کو پامال کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم سید محمد حسین راجی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha