21 جون 2026 - 23:21
محور مقاومت کی تباہی کی امریکی-اسرائیلی سازش ناکام ہو گئی، شیخ نعیم قاسم

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، محور مقاومت کا طاقتور حامی ہے / انھوں نے زور دے کر کہا کہ خطے میں امریکی-اسرائیلی سازش ناکام ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے لبنان کے سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: صہیونی ریاست سنہ 2024 کی جنگ بندی کے معاہدے کی پابند نہیں رہی ہے اور اپنے بزعم مقاومت و مزاحمت کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے!

انھوں نے کہا کہ اسرائیلی دشمن نے ایران پر جنگ مسلط کرکے دنیا بھر میں مزاحمت و مقاومت کا سر قلم کرنے کی کوشش کی لیکن وسیع حملوں کے باوجود، دشمن کی جارحیت ناکام ہو گئی اور وہ اپنے اہداف تک نہ پہنچ سکا، لیکن اسرائیلیوں کو اب بھی توقع ہے کہ حالات بدل جائیں!

شیخ قاسم نے مزید کہا: ایرانی قوم عظیم قربانیوں کی برکت سے، پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھری اور ثابت کیا کہ وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگی اور خطے میں اپنا لوہا منوا کر رہے گی۔

انھوں نے حزب اللہ اور خطے میں تحریک مقاومت کو تباہ کرنے کی اسرائیلی-امریکی سازش کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ اس سازش کی ناکامی کے ساتھ ہی، ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس کو امریکی-اسرائیلی منصوبے کی ناکامی کے نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

حزب اللہ صہیونی فوجیوں کو سرزمین لبنان سے نکال باہر کرنے کے لئے کوشاں ہے

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنان میں اسرائیل کی جنگ بندی کی پابندی نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا: اسرائیل کے لئے 'عمل کی آزادی کے ساتھ جنگ بندی'، جارحیت کے تسلسل کے ہم معنی ہے اور ہم اسے قبول نہیں کرتے۔ ہم نے بار، جنگ بندی کی پابندی کی ہے لیکن صہیونی دشمن پابند نہیں رہا۔

انھوں نے کہا: ہم اسرائیلی منصوبے کی ناکامی کے مرحلے میں ہیں، اور جنگ بندی کا مطلب جارحیت کا مکمل خاتمہ اور ہماری سرزمین سے دشمن کی مکمل پسپائی کی تمہید ہے۔ لہٰذا اسرائیل کے زمینی، بحری اور فضائی حملے مکمل طور پر بند ہونے چاہئیں اور اس ریاست کے فوجیوں کو بھی فوری طور پر لبنانی سرزمین سے نکل جانا چاہئے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ایران پوری طاقت سے لبنان کے خلاف جنگ روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا: ایران ہمارا سہارا ہے۔ لیکن میں لبنان کی حکومت سے پوچھتا ہوں کہ دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے اس نے ـ اسرائیلی دشمن کو رعایتیں دینے کے سوا ـ کیا حاصل کیا ہے؟

آبنائے ہرمز ایران کا طاقتور ہتھیار ہے

انھوں نے کہا کہ ایران کے ہاتھوں آبنائے ہرمز کی بند کرنے کی صلاحیت، ایک طاقتور ہتھیار ہے جس سے لبنانی کو بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا: اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت نہ کرتا تو اتنی ساری جارحیتیں رونما نہ ہوتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان جارحیتوں کو روک سکتا ہے اور نیتن یاہو امریکی موقف کے خلاف جانے کی جرات نہیں کر سکتا۔

انھوں نے کہا کہ جو کوئی بھی یہ سمجھتا ہے کہ ٹرمپ صہیونی ریاست کو نہیں روک سکتا، وہ نادان ہے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا: صہیونی فوجیوں کا لبنانی سرزمین پر تعینات رہنا ناممکن ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے آخر میں کہا: ہمارے پاس ایک قومی فوج ہے جو لبنانی سرزمین پر تعینات ہے اور خودمختاری کی حفاظت کرتی ہے اور ہم اس کے ساتھ تعامل و تعاون کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha