بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || بیروت کے جنوب میں حزب اللہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر ہاشم الطباطبائی کا قتل، جو گذشتہ جنگ کے بچے کھچے کمانڈروں میں سے ایک تھے، ایک بار پھر پوشیدہ تصادم کی آگ بھڑکا سکتا ہے اور مغربی ایشیا کے تناؤ کو فعال کر سکتا ہے۔
"الخنادق" ویب سائٹ نے ایک مضمون میں حزب اللہ لبنان اور شیخ نعیم قاسم کے رویے کا تجزیہ کیا ہے اور اس سوال کا جواب دیا ہے کہ موجودہ صورت حال میں، خطے میں، غاصب صہیونی ریاست کی جارحیت کے خلاف، حزب اللہ کی حکمت عملی کیا ہے؟
الخنادق نے لکھا:
لگتا ہے کہ اگر نیا بحران شروع ہؤا تو جنوبی لبنان سے شروع ہوگا اور اس کے پھیلنے کا امکان بھی موجود ہے۔ یہ قیاس آرائیاں اس وقت سامنے آ رہی ہیں جب غزہ میں امن معاہدے پر عمل درآمد کا عمل سست پڑ گیا ہے اور صہیونی ریاست اس خطے میں اپنے غیر انسانی رویے جاری رکھے ہوئے ہے۔ 'رفح' جیسے اہم علاقوں کو، عملی طور پر، معاہدے سے الگ کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف لگتا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کی دو تحریکیں، یعنی حماس اور جہاد اسلامی، قلیل مدت میں اپنی مکمل آپریشنل صلاحیت بحال نہیں کر سکیں گی۔ ساز و سامان اور وسائل کی قلت، ماحولیاتی دباؤ اور میدانی حالات نے ان گروہوں کی 'فوری تعمیر نو' کو مشکل بنا دیا ہے۔
عراق نے حال ہی میں پارلیمانی انتخابات مکمل کر لئے ہیں، اور یہ ملک نئے وزیر اعظم کے انتخاب میں مصروف ہے۔ وزارت عظمیٰ کا حتمی امیدوار، ـ جو عراقی شیعی دھاروں کے باہمی تعامل کا نتیجہ ہے، ـ داخلی اور خارجی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں، عراق کے اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا امکان کم ہے۔ مزید برآں، بغداد کو ایک موثر حکومت بنانے اور ایسے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو صرف شیعوں کی نہیں بلکہ تمام عوام کی نمائندگی کرے؛ کیونکہ اس صورت میں بحران کے عراق تک پھیلنے کا امکان بہت کم ہوجائے گا۔
اگر نیا تناؤ پیدا ہؤا تو یمن اور ایران کے محاذوں کے ساتھ ساتھ، شام میں کچھ سیاسی دھارے ـ داخلی اور خارجی محرکات کی وجہ سے، جن میں جولان کی پہاڑیوں اور 'جبل الشیخ' جیسے مشرقی پہاڑیوں جیسے اہم علاقوں کی صہیونی قبضے سے آزآدی کی غرض سے ـ اس نئی جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہوگا کہ اسرائیل حالات کو اپنے قابو میں لانے میں ناکام رہے۔
تاہم، خطے میں طاقت کے توازن کی بنیاد پر، لگتا ہے کہ لبنان اسرائیل کے ساتھ مستقبل کے ممکنہ تصادم کے وقت اور میدان کا تعین کرے گا۔
گذشتہ سال شیخ نعیم قاسم کے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد، اور معرکۂ "اولی البأس" اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد، پارٹی کے رویے میں "اسٹراٹیجک صبر" کی علامات نظر آتی ہیں۔ پارٹی نے 'دریائے لیتانی' کے شمالی کنارے تک پیچھے ہٹنے میں بھی تعاون کیا اور سرحدی علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کر دیا؛ یہاں تک کہ صہیونی ریاست کے ہاتھوں اپنے کمانڈروں کی شہادت اور لاجسٹک مراکز کے خلاف مسلسل کاروائیوں کے جواب میں بھی براہ راست ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ رویہ میدانی حالات اور خطرات کے توازن میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ شہید سید حسن نصراللہ کی سیکرٹری جنرل شپ کے دوران، بیروت مزاحمت کی 'سرخ لکیر' تھا اور '"بیروت - تل ابیب" کی مساوات' قائم تھی۔ لیکن گذشتہ جنگ کے بعد، ایک نئی مساوات تشکیل پائی ہے جو "المطله - بیروت" کے قریب ہے، جہاں غاصب ریاست کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لئے گنجان آباد علاقوں کو بکھرے ہوئے حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔
"حقیقت یہ ہے کہ حزب اللہ کو اپنے نقصان پہنچانے والے ڈھانچے کی تعمیر نو اور اپنی افواج کو دوبارہ منظم کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔ یہ اس وقت ہو رہا ہے جب محور مقاومت کے سااتھ اس پارٹی کے رابطے سابقہ راستہ بھی کمزور ہو گیا ہے اور اسے اپنے لاجسٹک وسائل تک پہنچنے کے لئے شام کے نئے حکمرانوں کے ساتھ تعامل کا ایک نیا نمونہ تلاش کرنا ہوگا۔ لبنان کی تعمیر نو اور بے گھر ہونے والوں کی واپسی کا معاملہ ایک اور چیلنج ہے جس کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حالیہ کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کے ازالہ بھی صرف پر سکون ماحول میں ممکن ہے؛ ایسا ماحول جس کے لئے لبنان کے مختلف سیاسی دھاروں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ حزب اللہ پر یک طرفہ اور فرقہ وارانہ رویے کا الزام نہ لگے"۔
ایک اور اہم عنصر واقعات کے مستقبل کے بارے علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کا نقطہ نظر ہے۔ ایران، ـ نظریاتی اتحادی اور حزب اللہ کے حامی، ـ کے طور پر اب بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، حالانکہ یہ کردار کبھی بھی 'حکم جاری کرنے' یا 'ہدایت کرنے' کی صورت میں نہیں تھا اور نہ ہی ہے۔ حزب اللہ نے ہمیشہ قیادت کی سطح پر آزادانہ فیصلے کئے ہیں۔ اس کے برعکس، امریکہ اور فرانس جیسے ممالک لبنانی حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور نئی مساواتیں تشکیل دے سکتے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل "شیخ نعیم قاسم" کا رویہ اور ان کی سوچ کیا ہے؛ لگتا ہے کہ حزب اللہ کے نئے سیکرٹری جنرل لبنان اور خطے کی پیچیدہ صورت حال کو سمجھتے ہوئے بحران کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مقاومت پہل کی صلاحیت کو محفوظ رکھ سکے اور حزب اللہ مناسب وقت پر اپنی آپریشنل حکمت عملی نافذ کر سکے۔ وہ جانتے ہیں کہ کمزوریوں کو دور کئے بغیر، اور موجودہ حالت سے باہر نکلے بغیر، نئی جنگ شروع کرنا خطرناک ہے؛ کیونکہ غزہ کا نمونہ جنوبی لبنان یا بیروت میں بھی دہرایا جا سکتا ہے، وجہ بھی یہ ہے کہ اسرائیل کی جنگی مشین خود کو کسی بھی قانون اور قاعدے یا انسانی یا سیاسی ضابطے کا پابند نہیں سمجھتی۔
شیخ نعیم قاسم کی کوشش ہے کہ صہیونی ریاست کے حملوں کے خلاف کوئی بھی ممکنہ جوابی کارروائی لبنان کے تمام فرقوں کے مشترکہ فیصلے کی بنیاد پر، اور حکومت اور فوج کی شراکت سے ہو، تاکہ مقاومت کو وسیع تر سماجی حمایت حاصل ہو۔
شیخ نعیم قاسم یہ ثابت کرنے کوشش کر رہے ہیں کہ مقاومت کے ہتھیار نہ تو فوج کے متوازی طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں اور نہ ہی شیعہ دھارے کے ہاتھ میں ایک [فرقہ وارانہ] اوزار ہیں، بلکہ لبنان اور اس کی خودمختاری اور ملکی سالمیت کے دفاع کے لئے ایک قومی ڈھال ہیں۔ یہ نقطہ نظر اسی راستے کا تسلسل ہے جس کی بنیاد شہید نصراللہ کے دور میں رکھی گئی تھی، گوکہ لبنان کے آج کے حالات مختلف ہیں اور فرقہ وارانہ طور پر گہری تقسیم کا شکار معاشرے میں اس خاکے کا نفاذ پہلے سے زیادہ مشکل ہے۔
مجموعی طور پر، لگتا ہے کہ حزب اللہ کی نئی قیادت کا ذہنیت تناؤ کے ہوشیارانہ اور زیرکانہ انتظام، اسرائیلی جارحیت کے خلاف لبنانی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش، اور پارٹی کے داخلی ڈھانچے کی تعمیر نو جیسے اصولوں پر مبنی ہے۔ اسی وجہ سے، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ حزب اللہ میں مکمل سکون اور ضبط نقس (Continence) دکھائی دے رہا ہے، وہ عحلت زدگی اور جلدبازی سے پرہیز کر رہی ہے، ایک ایسا طریقۂ کار جو مستقبل کی ممکنہ جنگ کے لئے تیار ہونے کے لئے ضروری لگتا ہے؛ ایک ایسی جنگ جو تجربات اور علامات کے مطابق، جلد یا بدیر ہوگی اور لگتا ہے ضرور ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا دہقانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ