4 اگست 2026 - 17:32
عراقی تجزیہ نگار: سعودی عرب نے بے بنیاد جواز کے تحت واشنگٹن کی پالیسی پر عمل کیا

عادل الجبوری کا دعویٰ ہے کہ عراق میں حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر حملے امریکی منصوبہ بندی کا حصہ تھے، جبکہ ریاض نے صرف اس پر عمل درآمد کیا

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراقی مصنف اور تجزیہ نگار عادل الجبوری نے عراق میں حالیہ سعودی فضائی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض کی جانب سے ان حملوں کے جواز میں پیش کیے گئے دعوے بے بنیاد ہیں اور یہ کارروائی امریکہ کی پالیسیوں کے مطابق حشد الشعبی کو کمزور کرنے کے مقصد سے انجام دی گئی۔

عادل الجبوری نے "عراق پر سعودی حملے؛ کمزور جواز اور واشنگٹن پر انحصار" کے عنوان سے اپنے تجزیے میں لکھا کہ عراقی حکومت کی سرکاری تحقیقات کے مطابق عراق کی سرزمین سے سعودی عرب پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا، اس لیے ریاض کے الزامات کسی مستند ثبوت پر مبنی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق کی قومی سلامتی کونسل اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان بھی واضح کر چکے ہیں کہ عراق سے سعودی عرب پر کسی حملے کے شواہد نہیں ملے۔ ان کے مطابق، عراقی مزاحمتی گروہوں نے بھی ان حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، جبکہ یمن کی انصار اللہ تحریک نے سعودی تیل تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

عادل الجبوری نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسے وقت میں سعودی عرب نے عراق کے خلاف کشیدگی بڑھانے کا فیصلہ کیوں کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر حملے امریکہ اور اس کی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے، جبکہ سعودی عرب نے صرف ان پر عمل درآمد کیا۔

ان کے مطابق، واشنگٹن حشد الشعبی کو کمزور کرنے اور ایران کے مقابلے میں اپنی ناکامیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اپنی سیاسی اور عسکری وابستگی کے باعث اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

الجبوری نے مزید کہا کہ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ سعودی عرب پر عراقی گروہوں کی جانب سے حملے ہوئے تھے، تب بھی فوجی کارروائی سے پہلے سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنا زیادہ مناسب تھا، خصوصاً اس تناظر میں کہ بغداد اور ریاض کے تعلقات حالیہ برسوں میں بہتری کی جانب گامزن تھے اور عراقی وزیرِاعظم کا سعودی عرب کا سرکاری دورہ بھی متوقع تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان حملوں پر عراقی حکومت اور عوامی حلقوں کے شدید ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔

تجزیے کے اختتام پر عادل الجبوری نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملے عراق اور سعودی عرب کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کریں گے۔ ان کے مطابق، اگر ریاض بغداد کے ساتھ تعمیری تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے باضابطہ معذرت کرنی چاہیے، ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیے اور آئندہ ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب متعدد علاقائی معاملات میں امریکی پالیسیوں کے زیرِ اثر فیصلے کرتا رہا ہے، اور اس طرزِ عمل کا تسلسل خود ریاض کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha