20 جون 2026 - 08:18
ہم نے جنگ کے لئے ایک نیا طریقہ اپنا لیا ہے، سیکریٹری جنرل حزب اللہ + ویڈیو

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے کہا: مقاومت (تحریک مزاحمت) "موت" سے نہیں ڈرتی اور مقاومت کے حامی آزاد پیدا ہوئے ہیں تاکہ ظلم اور قبضے کے خلاف جنگ لڑیں۔/ تسلیم اور سر خم کرنے کی لاگت تمام نقصانات سے بالاتر ہے۔/ ہمیں اور لبنان کو دشمن کے خطرناک ترین منصوبے کا سامنا ہے۔/ مقاومت اور لبنانی فوج کے درمیان فتنہ انگیزی کی ناکام سازش/ ** ہم نے جنگ کے لئے نیا طریقہ اپنا لیا ہے۔/ حزب اللہ نے مستقبل کے لئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کی ہے۔/ ہم نے کربلائی فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا؛ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے بیروت کے جنوبی مضافات 'ضاحیہ' میں شہید سید حسن نصراللہ (رضوان اللہ علیہ) کے مزار کے پاس سیدالشہداء امام حسین (علیہ السلام) کی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے اس تحریک کی قومی، اسلامی اور مقاومتی اصولوں کی پابندی پر زور دیا، اور حزب اللہ کے فکری اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "جن اصولوں پر ہم چلتے ہیں، وہ اصول قومی، انسانی اور اخلاقی ہیں اور ایسے اعلیٰ ترین اقدار کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں جو زمین پر پائی جا سکتے ہیں۔

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا:

• ہم طائف معاہدے اور آئین کے پابند رہے ہیں، سیاسی اختلافات کو داخلی اتحاد کے دائرے میں محدود کر چکے ہيں، سرزمین کی آزادی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ہتھیاروں کا رخ صہیونی دشمن کی طرف کیا ہے۔

• ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں اور ہم نے خود انتخاب کیا ہے کہ ظلم کو قبول نہ کریں، غلامی، قبضے اور بیرونی سرپرستی کے بوجھ تلے نہ جائیں اور دوسروں کے منصوبوں اور تجاویز کو مسترد کریں۔

• چونکہ ہم ان تصورات اور اقدار کو "حسینؑ، ہمارا راستہ اور طریقہ ہے" کے عنوان سے اپناتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم فاتح ہیں۔ ہم انحصار کی تمام شکلوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور جب بھی دشمن ہمارے سامنے ہتھیار لے کر کھڑا ہوتا ہے، ہم بھی ہتھیار کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے۔

• ہم حزب اللہ لبنان میں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ "حسینؑ، ہمارا راستہ ہے"؛ یعنی "محمدؐ، ہمارا راستہ ہے"، یعنی "اسلام، ہمارا راستہ ہے" یعنی "خدائے تعالیٰ کا دین، ہمارا راستہ اور طریقہ ہے"۔

• قبضے کے خلاف مزاحمت اور مقابلے کی راہ میں اٹھایا گیا ہر قدم، ہمارے لئے ایک فتح شمار ہوتا ہے۔

• ہمیں موت سے کوئی خوف نہیں اور شہادت خود فتح کے ارکان اور اجزاء میں سے ایک ہے؛

• ہم ایک ایسا گروہ ہیں جو موت سے نہیں ڈرتا اور ہمیشہ ان لوگوں کے مقابلے میں فتح یاب رہیں گے جو ہمیں موت کی دھمکی دیتے ہیں۔

• موت ـ جس کو دشمن دھمکی کے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، ـ درحقیقت اس کے ہاتھ میں مؤثر ہتھیار، نہیں ہے۔

• حتیٰ کہ اگر ہم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے اور ہمیں موت کا خطرہ لاحق ہو تو بھی ہم اپنا شرعی فریضہ ادا کریں گے اور موت سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوتے۔

ہم نے جنگ کے لئے ایک نیا طریقہ اپنا لیا ہے، سیکریٹری جنرل حزب اللہ + ویڈیو

** تسلیم اور سر خم کرنے کی لاگت تمام نقصانات سے بالاتر ہے

• دشمن ہمارے عقائد، استحکام، استقامت اور میدان میں ہماری موجودگی اور پامردی کے تسلسل کو توڑ نہ سکا اور ہم اب بھی میدان میں موجود ہیں اور تمام مشکلات اور پابندیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کر رہے ہیں۔

• تمام بھاری نقصانات کی قیمت، تسلیم ہو جانے اور شکست قبول کرنے سے بہت کم ہے۔

- اگر ہم میں فتح حاصل کرنے کی صلاحیت ہے تو ہم سر کیوں خم کریں؟

- میں آپ مؤمنین سے گزارش کرتا ہوں کہ اس اصول کو برقرار رکھیں کہ "ہمارا فریضہ شرعی حکم پر عمل کرنا ہے"، اور یہ کہ بہرحال "فتح خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔"

** ہمیں دشمن کے خطرناک ترین منصوبے کا سامنا ہے

• ہمارا ملک لبنان "خطرناک ترین سازشی منصوبے" سے دوچار ہے اور اس کے مستقبل کو سنگین ترین خطرے کا سامنا ہے۔

• اس منصوبے کا ہدف، جنگ، تباہی اور ہمہ گیر دباؤ کے ذریعے لبنان میں مقاومت کا مکمل خاتمہ ہے۔

• شام کی تبدیلیوں کے بعد، دشمن 27 نومبر کے معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اس نے ایک ایسی حکومت لانے کی کوشش کی ہے جو مقاومت و مزاحمت کے مقابلے کی راہ پر گامزن ہو جائے۔

• دشمن نے حزب اللہ کے خلاف اقتصادی جنگ چھیڑ دی ہے اور تعمیر نو کے عمل کو روک کر، وہ عوامی مزاحمتی بنیادوں (اور اس کےحامیوں) کو اس کے خلاف بھڑکانا چاہتا ہے۔

• مقاومت کی وسیع مالی ناکہ بندی کی گئی ہے تاکہ مسائل کے حل اور تعمیر نو کا امکان ختم ہو جائے۔

** مقاومت اور لبنانی فوج کے درمیان فتنہ انگیزی کی سازش

• صہیونی دشمن لبنانی فوج اور مزاحمت کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

• فوج اور مقاومت کے درمیان فتنہ ڈالنے کے لئے منصوبے بنائے گئے ہیں، لیکن فوجی کمانڈروں اور فوجی دستوں کی بیداری اور ہوشیاری نے اس سازش کو ناکام بنایا ہے۔

• صہیونی دشمن مختلف سیاسی عناوین کے تحت لبنان کے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان بھی اختلاف بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے۔

• بلاشبہ امریکہ اس عمل کا بنیادی منصوبہ ساز اور اصلی سرغنہ ہے اور واشنگٹن تمام تفصیلات اور تمام جہتوں کے ساتھ اس پروگرام کو منظم کر رہا ہے، لیکن مقاومت اس منصوبے کو بخوبی جانتی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔

• مقاومت کا ہدف بدستور لبنان کا دفاع اور مقبوضہ سرزمینوں کی آزادی ہے اور ہمارے ہتھیاروں کا رخ دشمن کی طرف ہے اور ہم اپنے ملک کے تحفظ کے پابند ہیں۔

** ہم نے جنگ کے لئے نیا طریقہ اپنا لیا ہے

• حزب اللہ کی میدانی صورتِ حال زبردست ہے اور یہ تحریک اپنے جنگی طریقوں کو اپڈیٹ کر چکی ہے، اپنے اسلحے کی صلاحیت کو بہتر بنا چکی ہے اور اس کی افواج اعلیٰ درجے کی تیاری رکھتی ہے۔

• حزب اللہ مفید سماجی سرگرمیاں انجام دیتا ہے اور یہ تحریک اپنی استطاعت کے مطابق عوام کی حمایت کے لئے کوشاں رہی ہے اور تقریباً تین لاکھ خاندانوں کے لئے رہائش اور تعمیر نو کے امکانات فراہم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

• حزب اللہ مقاومتی دھاروں اور قوتوں کا اتحاد برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔

• مقاومت اب بھی میدان میں موجود ہے، اور ہر دن ہم جب اپنے مشن کو جاری رکھتے ہیں، تو فتح یاب ہیں۔

• دشمن کو اس کے اہداف تک پہنچنے سے روکنا، شہداء کے مشن کو مومنین کے درمیان زندہ رکھنا اور مقاومت کا جذبہ برقرار رکھنا، یہ سب فتح کے مظاہر میں شمار ہوتے ہیں۔

** حزب اللہ نے مستقبل کے لئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کی ہے

• ہم نے کربلائی فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اب بھی برقرار ہے۔

• مقاومت کے حامیوں کو دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے مزاحمت کرنی چاہئے کیونکہ مزاحمت سمجھوتہ یا سازباز نہیں کرتی اور اپنا مشن جاری رکھے گی۔

** ہم نے کربلائی فیصلہ کیا ہے

• حزب اللہ نے ایک طویل مدتی پروگرام وضع کیا ہے اور اپنے مشن کی راہ میں طویل صبر و برداشت کا حامل ہے۔

• حزب اللہ کی موجودہ حکمت عملی "تاکتیکی ابہام اور خاموشی" پر مبنی ہے تاکہ دشمن اس کی اگلی نقل و حرکت اور اقدام یا کاروائی کا اندازہ نہ کر سکے۔

• حزب اللہ نے ایک "کربلائی" فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ اپنی قوت پر برقرار ہے اور "2 مارچ 2026 سے پہلے کی صورتحال کی طرف کوئی واپسی نہیں ہوگی" [جب لبنانی حکومت کی بے حسی اور کٹھ پتلی پن کی وجہ سے حزب اللہ کو صرف دشمن کی جارحیت برداشت کرنا پڑتی تھی]۔

• حزب اللہ کے خاتمے اور قبضے کو مستحکم کرنے کا صہیونی منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔ 

- یقین رکھیں کہ فتح قابضوں کو کو ہماری سرزمین کے چھوٹے سے چھوٹے حصے سے بھی نکال باہر کرنے کے ساتھ حاصل ہوگی۔

• اے مقاومت کے حامیو! اپنے سر بلند رکھیں؛ آپ مزاحمت کرنے والے ہیں، خدا مددگار ہے اور دشمن کے ساتھ سمجھوتہ نہ کریں۔

شیخ نعیم قاسم نے ایک بار پھر مقاومت کے راستے کے امتداد پر زور دیا اور کہا کہ لبنان کی مقاومت اپنا مشن جاری رکھے گی اور دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha